شرمیلا فاروقی کا جیل میں سات مردوں کیساتھ سین

نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں سیف الرحمن کو پرانی یاری کی بنا پر بہت سے عہدوں اور اختیارات سے نواز گیا یار لوگوں تو کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کی بدنامی بالآخر برطرفی میں سیف الرحمں کو ملنے والے بے پناہ اختیارات اور ان کے ناجائز اسعتمال نے بھی بہت کام دکھایا ہے۔جاری ہے۔

سیف الرحمن کے چہرے سے نقاب اس وقت اترا جب انہوں نے عثمان فاروقی کی بدعنوانی کے پردے میں ان کی نوخیزبیٹی شرمیلا فاروقی پر ہاتھ ڈال دیا اور شرمیلا ان کے لئے لوہے کی گولی ثابت ہوئی جو سیف الرحمن کے حلق میں پھنس کر رہ گئی ۔۔۔حالانکہ موصوف اس سے قبل طاہرہ سید کے ساتھ بڑا اچھا بزنس چلا چکے تھے طاہرہ سید ایک چھوٹی سے فرم چلا رہی تھیں جس کو تعمیرات کت ٹھیکے وغیرہ مل جایا کرتے تھے لیکن جب ریڈکو کنسٹر کا کاروباری پھیلائو بڑھا تو اسے نے اپنے ذیلی کام طاہرہ سید کی فرم کو دینا شروع کر دیئے اور طاہرہ سید کو ریڈکو میں اہم حیثت حاصل ہوگئی لیکن شرمیلا فاروقی کے سلسلے میں سیف الرحمن کوئی مناسب ڈبل نہ کرسکے بات کے جرائم کے بدلے میں انہوں نے اختیارات کا اسعتعمال کرتے ہوئے شرمیلا کو اسلام آباد بلانا شروع کر دیا لیکن جب شرمیلا نے اسلام آباد آنے سے انکار کردیا تو سیف الرحمن نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہارے خاندان کو عبرت کا نشان بن دوں گا پھر یہی ہوا شرمیلا اور اس کی والدہ کو گرفتار کرلیا گیا اور شرمیلا کو علیحدہ کرکے تفیش کی گئی۔جاری ہے۔

اس تفیش کے بارے میں شرمیلا نے الزم لگایا کہ مزاحمت کے رودان مجھے وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا شرمیلانے کہا کہ سات مردوں کے دومیاں میں ایک اکیلی لڑکی تھی آپ خود ہی سوچئے کہ میں کیا کرسکتی تھی ۔۔شرمیلا الزام لگایا اخبارات نے اس پر خوب وادیلا بھی کیا لیکن سیف الرحمن نے اس پر کسی مناسب روعمل کا اظہار نہیں کیا حتی کہ اس بات کے وزیراعظم نواز شریف نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا شرمیلا کہتی ہیں کہ مجبھ ہر یہ افتا آن پڑی تو خیال آیا کہ یہ میری جنگ ہے جو مجھے خود ہی لڑنا ہوگی اس سے پہلے میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا میں دوسری عورتوں سے ایسے واقعات سنتی رہی تھی۔جاری ہے۔

......
loading...

کہ یہ سب انسان انصاف کیوں نہیں مانگتیں چیختی چلاتی کیوں نہیں بھئی اگر ہم اپنی مددخود نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا میں اگر یہ سوچوں کہ میرے والد باہرنکلیں گے اور میرے لئے لڑیں گے تو کیوں بھئی میں خودکیوں نہیں اپنجی لڑائی ہے زیادتی میرے ساتھ ہوئی ہے میں خود کیوں نہ ان تمام حالات کا سامنا کروں ۔۔۔شرمیلا کا کہنا تھا کہ جس ملک میں بیٹیوں کی عزت حکومتی ایوانوں میں لٹ جائے اس ملک میں وزیراعظم کو اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں لیکن نہ تو وزیراعطم نے اس واقعے ہر کیس روعمل کا اظہار کیا نہ سیف الرحمن اپنے دامن پر لگنے والے۔جاری ہے۔

اس دھبہ کو مٹا سکے بعد ازاں ائیرپورٹ پولیس نے معطل سینیڑ سیف الرحمن کے خلاف حدود آرڈنینس کے تحت مقدمہ بھی درج کیا یہ مقدمہ ۲۰۳ْ۹۹ پولیس نے شرمیلا فاروقی کی رپورٹ پر درج کیا شرمیلا نے اپنی درخواست میں کہا کہ سیف الرحمن نے اپنے دود اقیدار میں انہیں اسلام آباد بلا کر ذہنی وجسمانی تشدد کیا اور غیر اخلاقی حرکار کی تھیں جس سے شرمیلا کے خوصلے بڑھتے گئے بیان کے وقت شرمیلا فاروقی کے علاوہ انصاربرفی ویلفیر کے چیئرمیں انصار برنی اپنی اہلیہ کے شاہین نرنی کے نمائندے کی حیثیت سے موجود تھے شرمیلا فاروقی بیاں دیتے ہویے روتی رہی اور اس کی ہچکی بندھ گئی شرمیلا نے اپنے بیان الزام لگایا کے دوران حراست اسے اسلام آباد لے جایتا گیا جہاں اس کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا مذکوہ بیان تین گھنٹے تک بند کرمے میں قلمبند کیا گیا شرمیلا کا بیان اور رپورٹ جوذیشل اکیڈمی کے ڈائریکڑے نے سرمبمر کرکے چیف جسٹس کو بیج دئے ہیں۔جاری ہے۔

انصار نرنی ٹرسٹ کی شاہین برنی نے شرمیلا فاروقی کے اخباری بیان پر چیف جسٹس کو خط لکھا کر حراست میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اس کا تفصیلی بیان قلم بند کرکے عدالت عالیہ از خود معاملے کا نوٹس لے ایئرپورٹ پولیس نے معطل سینسیٹر سیف الرحمن کے خلاف حدود آرڈنینس کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے پولیس کے مطابق مقدمہ نمر ۲۰۳ ْ۹۹ شرمیلا فاروقی کی رپورٹ پر درج کیا گیا ہے۔جاری ہے۔

شرمیلا فاروقی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سیف الرحمن نے اپنے دود اقتدار میں انہیں اسلام آباد کر ذہئی اور جسمانی تدتشدد کیا اور غیر اخلاقی حرکات کی تھیں ۔۔۔.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔