خواجہ سرا کا پیرپیغام خواجہ سرائوں کے ساتھ مسجد میں مولوی کیا کرتے تھے؟

ایک خواجہ سرانے اپنی افسوسناک داستان سناتے ہوئے کہاکہ جب ہم مسجدمیں جاتے ہیں تولوگ ہمیں اوپرسے نیچے تک عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوجاتے ہیں اورکہتے ہیں۔۔جاری ہے۔

کہ ہم میںکیاکمی ہے کیاہم انسان نہیں ہیں جب ہم مسجدمیں نمازپڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تولوگ ہم ساتھ صف میں کھڑے ہونے سے ہچکچاتے ہیں اورفاصلے پرکھڑے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہم جب کسی کے گھرمیں پڑھنے جاتے ہیںتوعورتیں ہمیںپسندکرتی ہیں توان کے خاندان والے پسندنہیں کرتے خاندان والے پسندکریں توعورتیں پسندنہیں کرتیں ۔ہم میں کچھ مورتیں ایسی بھی ہیں جنہوں نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں اورمولویوں والے کپڑے پہن کرمسجدمیں جاتے ہیں۔۔جاری ہے۔

......
loading...

لیکن ان کوبھی مسجدمیں نمازپڑھنے نہیں دی جاتی مولوی ہمیں برابھلاکہتے ہیں اورمسجدمیں گھسنے نہیں دیتے اب ہمارے قریب یہمسجدبنائی گئی ہیں تومیں بہت خوش ہوں کہ لوگ یہاں آکرنمازپڑھیں گے تومیں بھی مسجدمیں جاکرنمازپڑھوں گی ۔۔۔جاری ہے۔

مجھے قرآن پاک تونہیں آتالیکن مجھے نمازاورتمام کلمے زبانی یادہیں

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔