مائونٹ ایتھوس دنیا کا وہ پہاڑ جہاں خواتین کو جانے کی تو کیا اس کے قریب قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں، لیکن کیوں؟ اس کی وجہ ہے اور اس میں ایسے کیا راز چھپے ہیں جو خواتین کو وہاں نہیں جانے دیا جاتا

یورپی ملک یونان کے شمال مشرق میں عیسائی مذہب کا مقدس مقام ’ماﺅنٹ ایتھوس‘ واقع ہے۔ دراصل یہ 335مربع کلومیٹر پر محیط جزیرہ نما ہے، جو غالباً دنیا کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔۔جاری ہے۔

جہاں خواتین کو داخل ہونے کی اجازت نہیں، بلکہ یہاں بلیوں کے سوا کسی بھی قسم کے مادہ جانوروں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس جزیرہ نما پر جانے کے لئے پہلے ماﺅنٹ ایتھوس پلگرمز بیورو کو پاسپورٹ کی کاپی فراہم کرنا پڑتی ہے، جو خواتین کے پاسپورٹ بغیر غور کئے فوری طور پر واپس کر دیتا ہے۔۔۔جاری ہے۔

......
loading...

اس پہاڑ پر قدیم عیسائی مذہب کی 20 خانقاہیں واقع ہیں۔تاریخ دان اور مصنف ڈاکٹر گراہم سپیک کہتے ہیں کہ قدیم عیسائی خانقاہیں، جہاں تارک دنیا راہب رہا کرتے تھے، ان میں خواتین کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ چونکہ ماﺅنٹ ایتھوس کے تمام علاقے کو ایک بڑی خانقاہ تصور کیا جاتا ہے لہٰذا اس جزیرہ نما میں عورتوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔جاری ہے۔

وزانہ 100 قدامت پسند اور 10 غیر قدامت پسند مردوں کو یہاں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے جو تین راتیں یہاں قیام کرتے ہیں۔ اگر ان زائرین کے ساتھ خواتین آئیں بھی تو انہیں جزیرہ نما کی سرحد کے باہر ہی قیام کرنا پڑتا ہے۔ یہ روایت گزشتہ 1000سال سے چل رہی ہے اور آج بھی خواتین کو ماﺅنٹھ ایتھوس کے ساحل سے کم از کم آدھے کلومیٹر کی دوری پر روک دیا جاتا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔