2018 میں پیدا ہونے والی وہ مسلمان بچی جس نے پیدا ہوتے ہی ساری دنیا میں ہنگامہ کھڑا کردیا اس کی پیدائش کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں کا پردہ فاش کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچی کون ہے

نئے سال کے آغاز پر مختلف ممالک میں سب سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کا چرچا رہا لیکن یورپی ملک آسٹریا میں جو بچی سب سے پہلے پیدا ہوا۔۔جاری ہے

اس کے خلاف نسل پرستانہ مہم شروع ہو گئی اور یہ مہم اتنی شدت اختیار کر گئی کہ آسٹریا کے صدر کو مداخلت کرنی پڑ گئی۔ ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق اس نسل پرستانہ مہم کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچی مسلم جوڑے کے ہاں پیدا ہوئی تھی۔ ماں باپ نے اس بچی کا نام ’آسل‘ (Asel)رکھا۔ب میڈیا میں اس بچی کی پیدائش کی خبر آئی تو باقی ممالک کی طرح لوگوں نے اسے بھی خوش قسمت قرار دیا لیکن جب انہیں معلوم ہوا۔۔جاری ہے

......
loading...

کہ اس کے ماں باپ مسلمان ہیں، تو اسلام مخالف انتہاءپسندوں نے زہر اگلنا شروع کر دیا اور بعض نے تو بچی کی موت کی دعائیں کرنی شروع کر دیں۔فیس بک پر ایک شرپسند نے لکھا کہ ”میں امید کرتا ہوں یہ بچی جلد مر جائے گی۔“ ایک اور نے لکھا کہ ”ان گھٹیا لوگوں کو فوری ملک بدر کرو۔“ جب یہ مہم زیادہ شدید ہوئی تو آسٹریا کے 73سالہ صدر الیگزینڈر وین ڈر بیلن بیچ میں کود پڑے اور انہوں نے بچی کو دنیا میں خوش آمدید کہتے ہوئے فیس بک پر لکھا کہ ”خوش آمدید پیاری آسل!تمام لوگ آزاد پیدا ہوتے ہیں۔۔جاری ہے

اور سب کا مرتبہ اور حقوق برابر ہوتے ہیں، پیدائشی طور پرکوئی کسی سے ارفع یا ادنیٰ نہیں ہوتا۔“ صدر الیگزینڈر کے ان الفاظ نے اسلام مخالف انتہاءپسندوں کے منہ بند کر دیئے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔