”ملزم زیادتی کی کوشش کرتا ہے، سانس روکتا ہے اور پھر۔۔۔“ زینب جیسے کیسز میں ملوث ملزم زیادتی کے بعد کس طرح بچے کو قتل کرتا ہے؟ پولیس نے بتایا تو قوم کے دل دہل گئے، ہر کوئی تھر تھر کانپنے لگا

معصوم زینب کے قتل کے معاملے پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت مرکزی شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد مقدمات ایسے ہیں جن بچوں کو اغواءکے بعد قتل کر کے ان کی لاشوں کو اسی علاقے میں پھینک دیا گیا۔۔جاری ہے

ملزم ذہنی مریض معلوم ہوتا ہے جو ’زیادتی کی کوشش کرتا ہے، سانس روک دیتا ہے اور اسی دوران بچے کو مار دیتا ہے۔‘زینب اور دیگر بچوں کے مقدمات کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر افتخار احمد کے مطابق قصور کی آبادی 6 سے 7 لاکھ ہے اور ان کے 200 سے زیادہ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی چھ ماہ سے اسی قسم کے مقدمات کو دیکھ رہی ہے لیکن ابھی تک بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔جاری ہے

......
loading...


انہوں غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”معمول میں تو بہت سے مقدمات آتے ہیں لیکن یہ مقدمات ان سے ہٹ کر ہیں۔ ابھی تک گمان یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستے میں سے اٹھاتا ہے اور ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے اور ان مقدمات میں زیادہ بچے ہیں۔’سب انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ 2016ءکے بعد سے اب تک وقفے وقفے سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ”جہاں تک ہماری تفتیش ہوئی ہے۔جاری ہے

تو ان واقعات میں ملوث شخص کوئی ذہنی مریض ہے۔ جیسے لاہور میں جاوید نامی شخص نے کیا تھا۔ اس کی کیٹگری مختلف ہے، زیادتی کی کوشش کرتا ہے، سانس روک دیتا ہے اور اسی دوران بچے کو مار دیتا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔