وہ مسلمان حکمران جو لاہور میں جمعہ کے دن خنزیروں کی لڑائی کرایا کرتا تھا وہ یہ شرمناک اور بھانک کھیل کیوں رچاتا تھا جان کر آپ کا بھی خون کھول اُٹھے گا

دین الٰہی کے خالق مغل فرمانروا شہنشاہ جلا الدین اکبرکے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے اسلام کا تشخص اس بری طرح خراب کردیا تھا کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کو اسکے کافرانہ عقائید کے خلاف برسوں جدوجہد کرنی پڑی۔۔جاری ہے

محقق ابوالقاسم رفیق دلاوری نے کتاب ’’جھوٹے نبی ‘‘ میں اکبر کے دین الٰہی اور باطلانہ عقائید کے حوالہ سے پادری پییئر ے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اکبر بادشاہ نے 3 ستمبر 1595 ء کو پادری پنہیرو کے نام ایک خط لاہور سے بھیجا جس میں لکھا کہ میں نے اس ملک میں اسلام کا نام و نشان نہیں چھوڑا یہاں تک کہ لاہور میں ایک بھی ایسی مسجد نہیں رہی جسے مسلمان استعمال کر سکیں۔۔جاری ہے


تمام مسجد یں میرے حکم سے اصطبل اور گودام بنادی گئی ہیں۔ اکبر بادشاہ فتح کشمیر کے بعد لاہور چلا آیا تھا اور سالہا سال یہیں رہ کر فتنہ انگیزی میں مصروف رہا۔ پادری پیرے لکھتا ہے کہ لاہور میں جمعہ کے دن جو مسلمانوں کا متبرک دن ہے ،اکبر کے سامنے چالیس پچاس خنزیر لا کر باہم لڑائے جاتے تھے۔ اس نے ان کے اگلے دانتوں پر سونے کے پترے چڑھوا رکھے تھے۔۔جاری ہے

کہا جاتا ہے کہ سوروں کی لڑائی کا مقصد محض اسلام کی تحقیر تھی کیونکہ مسلمان خنزیر کو نہایت ناپاک سمجھتے ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news