سہاگ رات تھی لیکن خاوند نے اُسے چھوا تک نہیں آخرکیا وجہ تھی

آج غزالہ کی سہاگ رات تھی اُؔس کے دل میں بھی ویسے ہی ارمان تھے جو ہر لڑکی کے دل میں جوانی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں غزالہ خوبصورت تھی۔جاری ہے۔

رشتہ غیروں میں ہوا لیکن لوگ اچھے تھے ناصر ایک اچھا لڑکا تھا اچھے بزنس مین کوٹھی کاروں والے رشتے سے انکار کرنا کسی صورت مناسب نہ تھا اس لیئے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا ناصر کے حوالے سے اس کے دل میں بہت سی اُمنگیں جوان تھیں ناصر اندر آیا تو غزالہ کا دل زور سے دھڑکنا شروع ہوگیا ناصر اندر آیا لناس تبیل کیا اور اُس کے پاس آکر لیٹ گیا نہ کوئی سلما نہ دُعا ۔غزالہ کا دل ایک لمحے کے لیئے ٹوٹا ناصر نے چندر سمی سی باتیں کیں اور سوگیا سہاگ رات کے لوازمات بھی پورے نہ کیے ولیمہ گزرا اور زندگی روٹین پر آگئی۔جاری ہے۔

لیکن غزالہ کے دل میں ایک چھنب سی تھی ناصر کی ترعیف بے حد سنی تھی اور یہ کسی حد تک ٹھیک بھی تھا ناصر اُس کی ضروریات میں کوئی کمی نہ رکھتا امی کے گھر بھی لے کر جاتا لیکن پیار کے دو بول بھی اُس کو کہنا گوراانہ ہوتا ۔۔۔تھا وہ کوئی ایسی ٹین ایج لڑکی نہ تھی لیکن پھر بھی اُس کے دل میں یہ خواہش تھی کہ ناصر اُس سے پیار کا اظہار کرے وقت گزانے لگا۔جاری ہے۔

ناصر کے حوالے سے اُسے ایک تجس ہوا کہ ناصر کس چیز میں دلچسپی لیتا ہے اُس نے گھر کی ایک نوکرانی کو راز داری میں لے کر ناصر کی جاسوی پر لگا دیا کچھ دن بعد نوکرانی نے جورپورٹ یی وہ غزالہ کے لیے ایک دھماکے سے کم نہ تھی ناصر بازاری جسم فروش عورتوں کے پیچھے رہتا تھا اُس کے کئی جسم فروش عورتوں سے تعلقات تھے کو جو کسی بھی احسا س سے عادی ہوتی ہیں وہ اُن پر پیسہ لٹاتا غزالہ نے روروکر بستر آنوئوں سے بھگودیا اُس نے نوکرانی سے کہا۔جاری ہے۔

کہ پھر بھی تسلی کرلے ںاصر ایسا نہیں ہوسکتا لیکن نوکرانی نے سسمیں دے کر یقین دلاتا کہ اُس کا میاں ناصر کی پوری جاسوی کرکے آیا ہےے بلکہ ایک دو عورتوں کے گھروں میں آتے جاتے بھی ناصر کو دیکھا گیا ہے غزالہ نے کہا کے نوکرانی کے میاں سے ملاقات کرنا چاپتی ہوں اُس جے میاں نے غزالہ کو سب وہی کچھ بتایا جو نوکرانی نے بتایا تھا غزالہ نے ایک رات ناصر سے ہمت کرکے بات کا آغاز کیا سُسنیں آپ آج کل کن چکروں میں ہیں ناصر اُس کی بات پر چونگ گیا کیا۔جاری ہے۔

مطلب ہے تمہارا ناصر بلو میں نے سنا ہے آپ کسی بازاری عورت کے چکر میں ہیں ناصر دھاڑا بکواس بند کرو کیا میں تمہیں ایسا لگتا ہوں غزالی ڈرگئی لیکن اُس دن کے بعد ناصر اور غزالی میں دوریاں آگئیں اور ناصر کو اس بات کی باکل پرواہ نہ تھی ایک دن اُس نے نوکرانی کے میاں کے ذریعے شمیم کے گھر کا پتا پوچھا اور جاننا چاہتی تھی کہ شمیم کیا اُس سے زیادہ خوبصورت ہے جس پر ناصر مرتا ایک دن وہ چوری چھپے رکشہ لےکر ڈیفنس شمیم کے گھر پہنچ گئی گیٹ پر موجود چوکیدار اُسے اندر لے گیا اور ڈریئنگ روم میں بٹھایا جی میں اپنی بیگم صاحبہ کو بلاتا ہوں چوکیدار اتنا کہ کر اندر چلا گیا گھر بہت خوبصورت تھا اوروہ جانتی تھی یہ بھی ناصر ہی کی مہربانی تھی اتنے میں ایک عورت اندرآئی اور مسکراکر کہنے لگی جی میں شمیم آپ کون اور مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں غزالہ اُسے دیکھ کر ایک دم صدمے سے صوفے پر ڈھے سی گئی کالی کلوٹی منہ پر بدنما دانے بے ڈھنگا جسم پیٹ نکلا ہوا اور نہاہت بے ہو دہ میک اپ ظاہری حالت سے ہی کوئی نائیکہ لگ رہی تھی تو کیا ناصر یہ تمہارا مریعیار ہے اُس نے دل میں سوچا کاش ناصر تمہارا کوئی معیارہوتا لیکن تم بس وہ سوچ کر ہی رہ گئی دم یں کئی ٹیسیس اٹھ رہی تھیں وہ عورت پھر بولی جی فرمائیے۔جاری ہے۔

لیکن غزالہ تھکے تھکے قدموں سے بار ہر نکل آئی رکشہ پکڑا عورت حیرانی سے اُسے جاتا دیکھتی رہی گھر پہنچ کراُس کاغذ پر دستخط کئیے جو ناصر نے دوسری شادی کے لیئے اجازت نامہ مانگا تھا اپنے کپٹرے اورسامان ایک بیگ میں رکھا کمرے پر الوداعی نظر ڈالی اور اُس گھر کو چھوڑ کر چلی گئی وہ اس بے حس اور گھٹیاانسان سے آزاد یوبا چاہتی تھی جس کا معیار بھی اُس کی طرح گھٹیا تھا

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani