نقیب محسود کون تھا کیا کرتا تھا اس کو کیوں قتل کیا گیا وہ باتیں جو شائد ہی آپ کو پتا ہوں

نقیب محسود کو3جنوری کو شیر آغا ہوٹل سہراب گوٹھ کے باہر سے اٹھایا گیا .اس کے خاندان والے پولیس کے پاس گئے اور پو چھا بتایا جائے کہ اس کا قصور کیا ہے ؟ وہ کہاں ہے ؟یہ غریب لوگ تھے اور ان کا خیال تھا کہ شاید کوئی لین دین کا معاملہ ہے ،پولیس چھوڑ دے گی ،یہ چکر کاٹتے رہے اور پو لیس ٹا لتی رہی.۔۔جاری ہے


تفاق سے انہی دنوں جو افراد بھی اٹھائے گئے تین دن بعد گھر آگئے . 13 جنوری کو پو لیس مقابلہ کی خبریں آئیں ،جس کی تصویریں جاری ہو ئیں ، ایک تصویر میں نو جوان کے با ل نمایا ں تھے ،اس کے خاندان والوں کو شک ہوا کیونکہ جس علاقے میں یہ رہتے ہیں ،وہاں پرپہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ پہلے لوگوں کو اٹھا یا گیا اور پھر مقابلے میں مار دیا گیا 13 سے 16جنوری تک خاندان والے تھانے جاتے رہے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ وہی تو نہیں لیکن یہ کوشش بے سود رہی. 16جنوری کوفلاحی تنظیم چھیپا فائونڈیشن سے فون آیا کہ سرد خانے میں آپ کے بیٹے کی لاش ہے ،۔۔جاری ہے


شناخت کر کے لے جا ئیں .خاندان والے وہاں پہنچے ، سوشل میڈیا پر متحرک نو جوان جو نقیب کے حوالے سے پریشان تھے وہ بھی وہاں پہنچے .خاندان اس وقت ڈرا اور سہما ہوا تھا ،جب لاش لے کر گئے تواس وقت چچا ،کزن اور بہنوئی تھے ،وہ لاش لے کر ڈی آئی خان چلے گئے. رائو انوار نے جو پہلے دن دعویٰ کیا تھاکہ یہ 2009میں دہشتگردی میں ملوث اورطالبان کا کمانڈر تھا ،آرمی کے قافلے پر حملہ کر کے اس نے کئی جوانوں کو شہید کیا ،اس طرح کے کئی دعوے حقائق کی بنیاد پر غیر منطقی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نقیب وزیرستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے وطن کارڈ ہولڈر بھی ہے ،جسے مقامی لوگ وزیرستان ویزا بھی کہتے ہیں. آرمی تب یہ کارڈجاری کرتی ہے جب فنگر پرنٹ،بائیو میٹرک تصدیق سمیت مکمل چھان بین کے بعد تمام حساس ادارے اور پولیٹیکل ایجنٹ کلین چٹ دیتے ہیں.۔۔جاری ہے

......
loading...


یہ عمل مہینوں جاری رہتا ہے .نقیب محسود کو فیس بک پر 20ہزار لوگ فالو کرتے ہیں کیونکہ وہ پشتون کمیونٹی میں ماڈلنگ کی وجہ سے بڑا مشہور تھا اور اسی سلسلے میں اس نے ایک دکان بھی خریدی تھی، اس کا خیال تھا کہ جو لوگ اسے فالوکرتے ہیں وہ اس کی دکان سے ریڈی میڈاور ڈیزائنڈ کپڑے خریدیں گے .2014 سے 2017تک وہ اسی علاقے میں رہ رہا تھا،سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک تھا، وہ شادی شدہ بھی ہے ،اس کے تین بچے بھی ہیں. ایس ایس پی راؤ انواز نے گزشتہ روز انکوائری میں 2014کی ایف آئی آر سامنے رکھی ،جس میں کئی ملزموں کے نام ہیں ،ایک کا نام نقیب اللہ محسود ہے ،جو حلیہ ،تفصیلات رائوا نوار دے رہے ہیں، وہ اس کا نہیں جس کو انہوں نے مار دیا .گزشتہ روز احتجا ج کے دوران تین ایسے والدین سے ملاقات بھی ہوئی جن کے بیٹوں کے ساتھ بھی ایسا ہو چکا تھا.۔۔جاری ہے


جیسے زینب سے پہلے بھی کئی بچیوں کی عزتیں لوٹی گئیں،اسی طرح نقیب سے پہلے بھی کئی بے گنا ہ لوگوں کو مارا گیا لیکن اب ہم آنکھیں کھول رہے ہیں .چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا ہے . ہماری سپریم کورٹ سے درخواست ہو گی کہ جے آئی ٹی بنائی جائے .جیسے مشال خان قتل کیس میں ہوا اور اس میں بھی ایم آئی ،آئی ایس آئی اور ایف آئی اے کو شامل کیا جائے تاکہ حقائق قانونی طریقے سے سامنے آسکیں.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔