آئیں اور کنواری لڑکیاں خریدیں اگر ایک سال کے اندر اندر بھاگ جائے تو دوسری فری ملے گی ایسا اشتہار جو آپکے ہوش اڑادے گا

ارے بھئی یہ تو وہی لبرل لوگ ہیں جو کہتے ہیں اسلام نے عورت کو قید کر رکھا ہے ۔اسے آزادی نہیں دی ۔یہی مغرب کی برہنہ اور اندھی تقلید کی پیروی کرنے والے ہمارے اسلام پر جملے کستے ہیں یہ ہے انکے نزدیک عورت کا معیار عورت کا مقام۔۔جاری ہے

عورت کے بدن سے پیدا ہو کر عورت کو بیچنا اور شرائط ِ فروخت اتنی ہی گٹھیا جتنا یہ کاروبار اور کاروباری ۔یعنی من پسند لڑکی لے جاؤ اور اگر دی ہوئی مدت سے قبل مر جائے یا بھاگ جائے تو دوسری فری لے جاؤ.تھو ایسی لبریزم پر جسمیں عورت بکتی ہے کسی بازار میں پڑی بے جان احساس سے عاری چیزوں کی طرح۔یہ آزادی ہے یا بربادی ؟ میرے نزدیک تو عورت کی آزادی یہ ہے کہ وہ نہ چاہے تو کوئی اسے دیکھ نہ سکے. اسکی رضا نہ ہو تو کوئی اسے چھو نہ سکے اس سے مذاق نہ کرسکے بات نہ کر سکے ۔آزاد عورت وہ ہوتی ہے جس سے غیرمردبات کرتے ہوئے حدود کا خیال رکھے ۔کوئی بھی غلط بات کرتے ہوئے سوچے کہ کہیں اسے برا نہ لگ جائے ۔ کہیں اسکا اپنا مقام نہ گرجائے۔مرد کے دل میں ایک ڈر ہو خوف ہو کہ میرے منہ سے کچھ ایسی بات نہ نکل جائے جو اسے ناگوار گزرے ۔آزاد عورت وہ ہوتی ہے جسے اپنی عزت کروانی آتی ہے ۔آزاد عورت سے ہاتھ ملانا تو درکنار کوئی ایرا غیرا مرد نگاہ ملا کر بھی بات نہیں کر پاتا۔آزاد عورت اگر کسی کی قید میں ہوتی ہے تو وہ محبت ہے ۔اپنوں کی محبت جس سے وہ کبھی رہائی نہیں چاہتی وہ اس قید میں ساری عمر گزار دہتی ہے انکے ہر چھوٹے بڑے کام کو باخوشی کرتے کرتے.۔جاری ہے

حیاء عورت سے آزاد ہوجائے تو عورت کئیں مردوں کی قید میں آجاتی ہے۔کاندھے سے کاندھا ملا کر مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا لالچ کتنی عورتوں کو مردوں کے بستر تو کبھی قدموں میں گرادیتا ہے ۔آزاد عورت صرف وہ ہے جو اسلام کی حدود میں ہے دائرہ اسلام میں ہے۔جتنی عزت پاکستان میں خواتین کو دی جاتی ہے وہ یقیناً دیدنی ہے اور قابل تعریف اور قابل شکر ہے ۔آج بھی بہت سے ایسے مسلمان مرد ہیں جو عورت کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ہماری روزمرہ زندگی میں کئیں مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔چاہے مسافروں سے بھری بس ہو یا کہیں لگی لمبی قطار ۔عورت کو ہمیشہ ترجیح اور فضیلت دی جاتی ہے ۔کس نے سکھایا ہمارے مردوں کو عورت کی عزت کرنا؟ اسلام نے.؟اور اسی طرح عورت کو عزت کروانا بھی اسلام نے سکھایا۔یونانی کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے۔بقول سقراط عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کی نہیں۔بونا وٹیوکر کا کہنا ہے کہ عورت اس بچھو کی مانند ہے جو ڈنگ مارنے پر تلا رہتا ہے۔یوحنا کا قول ہے کہ عورت شر کی بیٹی ہے اور امن و سلامتی کی دشمن ہے۔۔جاری ہے

رومن کیتھولک فرقہ کی تعلیمات کی رو سے عورت کلامِ مقدس کو چھو نہیں سکتی اور عورت کو گرجا گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت رومتہ الکبریٰ میں عورتوں کی حالت لونڈیوں سے بدتر تھی اور ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔دورِ جاہلیت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔لیکن محسنِ انسانیت، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عورت کے بارے میں ارشادات ملاحظہ فرمایئے:٭قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس پوچھوں گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے چند یتیم بچے ہیں۔
جس عورت نے اپنے رب کی اطاعت کی اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر کی خوبیاں بیان کرتی ہے اور اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک درجہ ہوگا۔۔جاری ہے


٭ جو عورت ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنے یتیم بچوں کی تربیت و پرورش کی خاطر نکاح نہ کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہے۔٭ جس عورت نے نکاح کیا، فرائض ادا کیے اور گناہوں سے پرہیز کیا اس کو نفلی عبادات کا ثواب خدمتِ شوہر، پرورشِ اولاد، اور امورِ خانہ داری سے ملے گا۔٭جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھ کر جہاد کرنے اور رات کو عبادت کرنے والی (عورت) کے برابر ثواب ملتا ہے۔(بحوالہ: عورت اسلام کی نظر میں/صفحہ نمبر ۔91)مسلمان عورت بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لئے جنت کا دروازہ بننے کا سبب بنتی ہے۔ بیوی بنتی ہے تو شوہر کا آدھا دین مکمل ہوجاتا ہےماں بنتی ہے تو جنت اسکے قدموں میں رکھ دی جاتی ہے ۔اسلام نے جنتی عورت کو حوروں پر برتری دی ہے اور رہ کیا جاتا ہے۔جاری ہے


جنّتی عورت کا مقام جنت میں ان حوروں سے بھی افضل ہوگا جن کا ایک بال دنیا میں آجائے تو لوگ لڑ لڑ کر مرجائیں ۔جو سمندر میں تھوک پھینک دے تو سارا پانی میٹھا ہوجائے ایسی حوروں پر بھی اسلام نے مسلمان جنتی عورتوں کو فوقیت دی ہے ۔کسی مسلمان گھرانے میں جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کہتے ہیں اللہ نے رحمت سے نوازا ہے ۔اور رحمت کبھی قید نہیں ہوتی اسلام کی شہزادیاں پیدائشی آزادی کا تاج لے کر دنیا میں آتی ہیں۔۔جاری ہے

اب بھی کوئی اسلام میں عورت کے مقام کو نہ سمجھے تو یہ اسکی بدقسمتی ہے اللہ انھیں ہدایت دے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news