جب وہ لیٹنے لگا تو چارپائی کی چرچراہٹ کی وجہ سے ان کی آنکھ کھل گئی

بنیادی طور پر ہم گائوں کے رہنے والے تھے لیکن عرصہ پچاس برس سے والد صاحب نے شہر میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ ہم شہر میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی لیکن گائوں سے ناتا برقرار رہا کیونکہ رشتے دار آبائی گائوں میں رہتے تھے۔ دادا، دادی، پھوپھیاں، چچا، تایا… جب چھٹیاں ہوتیں، ہم خوشی خوشی ان سے ملنے گائوں پہنچ جاتے۔۔جاری ہے۔

مجھے شہر سے زیادہ گائوں اچھا لگتا تھا۔ یہ روشنیوں کا شہر تھا تو وہ امن و سکون کا گہوارہ۔ میں ہمیشہ کہتی کہ گائوں کے لوگ پیار کرنے والے اور نہایت سیدھے سادے ہوتے ہیں۔ نہیں جانتی تھی کہ جہاں امن و سکون ہوتا ہے، وہاں خطرات اور بے سکونی بھی ہوتی ہے کیونکہ صبح کے ساتھ رات اور زندگی کے ساتھ موت لازم و ملزوم ہیں۔ ہر جگہ سب لوگ ایک سے نہیں ہوتے۔ گائوں میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ سارے کزن وہاں رہتے تھے۔ جب ہم جاتے، وہ دیدہ و دل فرش راہ کردیتے، خاص طور پر چچا کے بیٹے اور بیٹیاں جو ہمارے منتظر رہتے اور ہم سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سجاول میرا چچازاد تھا۔ ہم سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ مجھے بہت اچھا لگتا۔ کبھی بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ وہ اسے میرا جیون ساتھی دیکھنے کے آرزومند تھے۔ دادا اور دادی کی وفات کے بعد اس طرح کے تذکرے بند ہوگئے مگر ہماری کزنوں کی محبت برقرار تھی۔ اس بار بھی جب چھٹیاں ہوئیں، ہم بہن بھائیوں نے بابا جان سے اصرار کیا کہ اپنے گائوں چلیں گے جبکہ وہ ہمیں مری اور گلگت لے جانا چاہتے تھے۔کہتے تھے شمالی علاقہ جات جنت نظیر ہیں لیکن ہمیں تو اپنا گائوں جنت جیسا لگتا تھا، خاص طور پر مجھے جہاں سجاول میرا منتظر تھا۔ کئی بار فون کرچکا تھا، چھٹیاں ادھر ہی گزارنا۔ اپنے چچا کے گھر جاکر میں بہت خوش تھی مگرایک مشکل تھی شہر میں رات کو دیر تک جاگتے رہتے یا پڑھنے میں آدھی رات گزر جاتی۔ سارا گھر ہی بارہ بجے سے پہلے نہ سوتا اور میں دو بجے رات جاکر کہیں سونے کو بستر پر لیٹتی تھی جبکہ گائوں میں لوگ جلدی سو جاتے تھے۔ میری عادت چونکہ جلد سونے کی نہ تھی تو رات گئے کروٹیں بدلتی رہتی۔ خاصی بے چینی محسوس کرتی۔ ان دنوں گائوں بجلی سے محروم تھا، تب سجاول کو کہتی کہ تم ہی میرا ساتھ دیا کرو، ہم باتیں کریں گے، وقت کٹے گا، بالآخر مجھے نیند آجائے گی۔۔جاری ہے۔


میری خاطر وہ بچارا جاگتا اور باتیں کرتا رہتا حالانکہ جلد سونے کا عادی تھا۔ نیند آنے لگتی تو منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھپکے مارتا اور جمائیاں لیتا تب میں اور زیادہ بور ہوتی، کوفت محسوس کرتی۔ کہتی تھی کہ سجاول، یہاں دن تو بہت اچھا گزر جاتا ہے مگر رات کو پریشانی ہوتی ہے۔ بجلی نہیں ہے تو رسالے وغیرہ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ وہ بچارہ طرح طرح کے اوٹ پٹانگ قصے سنا کر مجھے بہلانے کی کوشش کیا کرتا۔ایک رات جبکہ دس بجے سارے گھر والے سو گئے اور مجھے نیند نہ آئی تو میں نے سجاول سے کہا کہ کیا ہم اس وقت کھیتوں میں جاکر ٹہل نہیں سکتے؟ پاگل ہو، اس وقت تو مرد بھی باہر جانے سے کتراتے ہیں۔ سانپ وغیرہ ہوتے ہیں اور تم تو لڑکی ہو۔ کیا کوئی رات کو گھر سے نہیں نکلتا؟ کیوں نہیں، جن کی پانی لگانے کی باری ہوتی ہے، وہ جاتے ہیں اور کھیتوں کو پانی لگاتے ہیں۔ کیا تم بھی کبھی جاتے ہو؟ ہاں! اکثر جب بابا کہتے ہیں کہ تم جائو تو میں چلا جاتا ہو، وہاں کمرہ بنا ہوا ہے، جاکر سو جاتا ہوں۔ مجھے شوق ہوا کہ دیکھوں کھیتوں کو کیسے پانی لگاتے ہیں۔ اصرار کیا۔ سجاول! اس بار میں بھی چلوں گی۔ دیکھوں گی کیسے پانی لگاتے ہیں۔ ارے بھئی! وہاں باری باری پانی لگاتے ہیں۔ ٹیوب ویل چلتا ہے۔ آج تایا ابو کی باری تھی، کل ہماری باری ہے۔تم کل جائو گے؟ ہاں بابا کہیں گے تو چلا جائوں گا۔ تو پھر مجھے بھی لے چلنا۔ سجاول پریشان ہوگیا۔ کہا کہ لڑکیاں باہر نہیں جاتیں، رات کو تم کیسے جائو گی؟ میں مصر ہوگئی۔ اس بچارے کو جان چھڑانی مشکل ہوگئی۔ اگلے روز شام سے ہی میں سجاول کے سر تھی کہ ساتھ چلوں گی۔ ظاہر ہے کہ مردوں نے تو منع ہی کرنا تھا مگر امی اور چچی سے منت کرکے منوا لیا۔ انہوں نے سجاول سے کہا کہ اس کو ٹیوب ویل دکھا کر لے آنا۔ وہاں تم لوگ رکنا نہیں۔ سبھی جانتے تھے میں ضد کی پکی ہوں اور طبیعت بھی مہم جو پائی تھی۔ رات کے دسگیارہ بجے میرے لئے تو معمول کی بات تھی مگر سجاول کے گھر والوں کے لیے آدھی رات ہوگئی تھی۔ گرمیوں کے دن تھے،۔جاری ہے۔

سبھی صحن میں سو چکے تھے، خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے جب میں اور سجاول کھیتوں کو نکلے۔ ہمارے ساتھ چچا کے مزارعے کا بیٹا کریم دادا بھی تھا۔ وہ آگے آگے چل رہا تھا اور ہم اس کے پیچھے چند قدم کے فاصلے پر تھے۔ اچانک ہی اس کو پگڈنڈی پر سانپ نظر آگیا۔ اس نے ہمیں ہوشیار کیا کہ سنبھل کر آئو سائیں! آگے سانپ ہے۔ وہ ہوشیاری سے چل رہے تھے اور میں ان کی دیکھا دیکھی ہوشیاری کی کوشش میں لگی تھی۔ خدا کا شکر کہ سانپ خود ہی ایک طرف رینگ گیا اور اس نے ہمیں راستہ دے دیا۔ ٹیوب ویل کے پاس ایک شخص موجود تھا۔ یہ رکھوالا تھا اور اس کو کریمو نے آواز دی۔ اللہ رکھا! جلدی سے ڈیزل لے آئو۔ وہ چاہتا تھا کہ ٹیوب ویل چلا کر مجھے دکھا دے تاکہ میں سجاول کے ساتھ جلد ازجلد لوٹ جائوں۔اللہ رکھا کمرے سے ڈبہ لے آیا اور سجاول نے ٹیوب ویل کا انجن اسٹارٹ کردیا۔ تھوڑی دیر بعد سجاول نے کہا کہ ہم نے ذرا آگے جانا ہے، تم کمرے میں چلی جائو۔ لالٹین جل رہی ہے، تھک گئی ہو تو چارپائی پر سستا لو۔ ہم پانچ دس منٹ میں آجائیں گے، ڈرنا نہیں۔ ڈر کس بات کا، ڈرپوک نہیں ہوں۔ میں نے بظاہر بہادر بن کر کہا۔ مگر دیر نہ لگانا۔ ارے نہیں بس ابھی آئے۔ دیکھنا ہے کہ پانی کہاں تک گیا ہے۔ میں کمرے میں جاکر چارپائی پر بیٹھ گئی۔ پانی کا کولر، گلاس وغیرہ رکھے تھے۔ پیاس لگ رہی تھی، کولر سے پانی پیا۔ تبھی کانوں کے نزدیک زوں زوں ہونے لگی۔۔جاری ہے۔

اف! یہاں مچھر تو بے تحاشا تھے۔ جلد ہی مجھے اکتاہٹ محسوس ہوئی، خوف بھی آنے لگا۔ سوچا ناحق آگئی۔ذرا دیر بعد یہ لوگ آگئے۔ میں نے سجاول سے کہا۔ مجھے گھر چھوڑ آئو۔ وہ کہنے لگا۔ کریمو بھی ساتھ چلے گا بس تھوڑی دیر انتظار کرلو۔ ہمارا اکیلے جانا ٹھیک نہیں۔ میں ٹارچ سے روشنی ڈالوں گا لیکن یہ لالٹین پکڑ کر آگے چلے گا۔ ٹیوب ویل پر پہنچتے پہنچتے سانس پھول گیا حالانکہ فاصلہ اتنا زیادہ نہ تھا مگر مجھے پگڈنڈیوں پر چلنے کی عادت نہ تھی۔ ہمیشہ ہی سیدھے راستے پر چلی تھی۔ اب پتا چلا کہ کھیتوں کے بیچ پتلی سی پگڈنڈیوں پر چلنا بھی بڑی مہارت کا کام ہے۔ سجاول نے کہا کہ کوثر! تم نے خواہ مخواہ خود کو جوکھم میں ڈالا ہے۔ ٹیوب ویل صبح بھی دیکھ سکتی تھیں۔ واہ! دھوپ میں دیکھنا اور رات کے وقت جبکہ چاندنی چٹکی ہو، ٹیوب ویل کو چلتا دیکھنا الگ بات ہے۔اب پائوں دکھ رہے تھے۔ کتنا سجاول نے کہا تھا کہ رات کے وقت مت چلو۔ مجھے مصیبت میں ڈالو گی۔ میں ہی نہ مانی تھی۔ چپکے سے کہہ دیا تھا اگر نہ لے گئے تو پھر کبھی نہیں آئوں گی، یاد رکھنا۔ کھیتوں کو پانی لگانے کا وقت رات کا ہوتا تھا۔ جہاں ٹیوب ویل نصب تھا۔ قریب ہی ایک کمرہ بنا ہوا تھا جس میں چارپائیاں بچھی تھیں اور بستر بھی رکھے ہوئے تھے۔ دیر ہوجانے کی صورت میں یہ لوگ پانی لگانے کے بعد یہیں سو جاتے تھے۔ لالٹین کریمو کے ہاتھ میں تھی اور ہم پھونک پھونک کر قدم رکھتے یہاں پہنچے تھے۔ علاقے کے کتے یہاں کے رہنے والوں کو پہچانتے تھے مگر غیر گزر جائے تو خوب بھونکتے تھے۔ مجھے سانپوں سے بھی زیادہ ڈر ان خونخوار کتوں سے لگتا تھا۔ سجاول اور کریمو کی موجودگی میں وہ اگر راستے میں آئے بھی بس غرّا کر رہ گئے۔ سجاول اور کریمو نے گھڑک کر ان کو چپ کرا دیا۔ سمجھ گئی کہ ہم دونوں کے لیے کریمو کے بغیر جانے میں کچھ قباحت تھی۔ یہ مجھے کمرے میں بٹھا کر کھیتوں میں چلے گئے۔ میں چارپائی پر لیٹ گئی۔ ٹھنڈک اتنی تھی کہ ذرا دیر کو آنکھ لگ گئی۔ چند منٹ گزرے کہ سجاول کی آواز پر اٹھ بیٹھی۔ وہ پوچھ رہا تھا۔ کیا سو گئی ہو… چلو… چلنا نہیں ہے؟۔جاری ہے۔

......
loading...


چلو! میں نے جوتے پہن لئے، تبھی اللہ رکھا نے کمرے کے دروازے تک آکر کہا کہ دائیں جانب تھوڑا پانی لگانا باقی ہے سائیں، چار منٹ اور لگیں گے۔ بس بھئی اب چلو، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ ڈر کس بات کا ہم نزدیک ہی ہیں۔ ابھی چلتے ہیں۔ یہ کہہ کر سجاول اور کریمو دوبارہ چلے گئے۔ بادل نخواستہ میں پھر چارپائی پر ٹک گئی۔ ان کو گئے چند منٹ ہوئے تھے کہ مجھے دوڑنے کی آواز سنائی دی۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ یہ سجاول اور کریمو تھے جو دوڑتے ہوئے آگئے تھے۔ ان کی سانس پھول رہی تھی۔ سجاول نے کہا۔ اب ایک منٹ بھی رکے بغیر نکلان کی حالت دیکھ کر میں نے پوچھا۔ کیا ہوا ہے سجاول؟ بولا سوال نہ کرو، جلدی نکلنے کی کرو۔ گھر چل کر بتا دوں گا کہ کیا ہوا ہے۔ وہ تقریباً دوڑ رہے تھے اور اللہ رکھا بھی ہمارے ساتھ تھا تبھی سجاول نے کہا۔ اللہ رکھا! ٹیوب ویل کو بند کردو۔ وہ بولا۔ ہاں سائیں! میرے تو حواس ہی گم ہوگئے ہیں۔ اس نے دوڑ کر ٹیوب ویل کو بند کیا اور پھر بھاگتا ہوا ہمارے ساتھ آملا۔ میں سمجھ نہ سکی کہ کوئی ناگہانی آفت ہے جو یہ مرد حضرات بھاگ نکلے ہیں۔اس قدر تیزی سے میں نہیں چل سکتی بھئی! تمہاری خاطر ہی تو ہم تیز چل رہے ہیں۔ کوئی ایسی ناگہانی آفت ہے کہ جلد ازجلد گھر پہنچنا لازم ہے؟ گھر پہنچے تو کیچڑ اور پانی سے ہمارے جوتے خراب ہوچکے تھے۔ سجاول مجھے صحن میں چھوٹے دروازے سے لایا تھا کیونکہ بڑے دروازے کے پاس ڈیرے پر بابا اور چاچا جبکہ تایا مین گیٹ کے قریب چارپائی ڈال کر سو رہے تھے۔ اماں اور چچی جاگ رہی تھیں۔ ان کو شاید ہمارے لوٹ آنے کا انتظار تھا۔ لڑکی! تیری ضد نے ہماری نیند غارت کردی ہے۔ امی بڑبڑائیں اور پھر چارپائی پر کروٹ بدل کر سو گئیں۔ میں ان کے برابر بچھی چارپائی پر لیٹ گئی۔ سجاول کی چارپائی تایا کی چارپائی کے قریب تھی۔ جب وہ لیٹنے لگا تو چارپائی کی چرچراہٹ کی وجہ سے ان کی آنکھ کھل گئی۔ بولے۔ ارے بھئی کیا ہوا؟ پانی لگانے گیا تھا تائو جی! ابھی آیا ہوں۔ اچھا! تو یہ ٹارچ بجھا دو نا، لائٹ میری آنکھوں میں پڑ رہی ہے۔ ٹارچ کی روشنی میں انہوں نے سجاول کے جوتے دیکھے تو بولے۔ یہ کیا ہوا ہے، کیا کیچڑ بھرے نالے میں گر گئے تھے؟۔جاری ہے۔


نہیں تایا ابو۔ تو پھر کیا ہوا ہے، کسی سے لڑائی تو نہیں ہوگئی؟ وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ تمہاری سانس کیوں پھولی ہوئی ہے، کچھ ہے تو مجھے بتائو۔ ابھی اسی وقت۔یہ دیہات کا معاملہ تھا۔ ایسے واقعات رونما ہوجاتے تھے۔ آج کی بات کو کل پر نہیں ٹالا جاسکتا تھا۔ تایا ابو کی نیند کافور ہوگئی تھی۔ تایا ابو! میں بنّے سے ادھر چلا گیا تھا۔ کچھ شور کی آواز سنائی دی تھی۔ وہاں یہ دیکھ کر لرز گیا کہ دینو اپنی بھابی کو قتل کررہا تھا۔ کیا کہہ رہے ہو بھئی؟ ہاں جی! میں سچ کہہ رہا ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر کریمو اور اللہ رکھا کے ساتھ میں نے نکلنے میں ہی عافیت جانی۔ تیزی سے تقریباً دوڑتے ہوئے نکلے تو پائوں کیچڑ میں چلے گئے۔ چاند کی روشنی میں مجھے تو یہی لگا کہ وہ شہرو تھی۔ اب تک وہ اس کا کام تمام کرچکے ہوں گے۔اچھا ہوا تم وہاں نہیں رکے اور مداخلت بھی نہیں کی۔ ان کے سر پر خون سوار تھا، وہ تم کو بھی مار دیتے۔ ٹھیک ہے اب سو رہو، صبح دیکھیں گے۔ اب وہاں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو ہونا تھا، ہوچکا ہوگا۔ وہ کتنے تھے؟ تینوں بھائی تھے۔ ہاں! چوتھا دبئی گیا تھا۔میں ان دونوں کی باتیں سن کر کانپ گئی۔ ایسی مُردہ سی پڑی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ یااللہ! یہ میں کیا سن رہی تھی۔ اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ گائوں جس کو میں پُرفضا اور امن کا گہوارہ سمجھتی تھی، کیسی خون آشام جگہ تھی یہ۔ پتا نہیں سجاول اور تایا بھی سوئے کہ نہیں مگر مجھے رات بھر نیند نہ آئی۔ صبح ہوتے ہی خبر سارے گائوں میں پھیل گئی کہ رات دیوروں کے ہاتھوں شہر بانو قتل ہوگئی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان میں سے کوئی بھی فرار نہیں ہوا، وہ سب خود تھانے میں پیش ہوگئے تھے۔ میں نے سجاول کی بھابی سے پوچھا۔ آخر اس کو کیوں مارا؟ وہ بولیں کہ یہ قصہ بھی عجیب ہے۔۔جاری ہے۔

سولہ برس کی عمر میں شہرو کی شادی قاسم سے ہوئی، پھر وہ کمانے دبئی چلا گیا اور یہ دیوروں کے ساتھ رہنے لگی۔ دیور دن کو مزدوری کرنے شہر چلے جاتے اور ساس، بہو گھر پر ہوتیں۔ ایک دن شہرو آئی تھی، اس نے بتایا کہ اس کی ساس کے پاس کوئی مرد آتا ہے جس کا آنا مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا مگر میں کسی سے کچھ نہیں کہتی۔ جب وہ آدمی آتا ہے، میں اپنے کمرے میں روپوش ہوجاتی ہوں۔ ساس اس کی خاطر مدارات کرتی ہے۔ مزید شہر بانو نے بتایا کہ ایک روز ساس نے مجھے آواز دے کر بلایا اور کہا یہ ہمارے پیر ہیں، دعا کرنے آتے ہیں اور تم چھپ جاتی ہو۔ ان سے ملو اور دعا لو۔ اس شخص نے مجھ کو دیکھ کر کہا۔ اس پر تو سایہ ہے، اس پر دم کرائو ورنہ گھر میں نہ رکھو، تمہارے بیٹوں کو نقصان ہوگا۔یہ سن کر ساس پریشان ہوگئی۔ اس نے کہا پیر صاحب! کیا کروں،کیا آپ کے پاس لائوں؟ وہ بولا۔ ہاں لے آنا۔ میں پڑھائی کروں گا، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ تب سے خالہ روز مجھے پیر کے پاس دم کرانے لے جاتی ہے۔ وہ کچھ پڑھتا ہے اور پانی بھی دیا ہے۔ یہ پی لو گی تو سایہ نکل جائے گا، ٹھیک ہوجائو گی۔میرا جی نہیں کرتا، یہ تعویذ والا پانی جب پیتی ہوں تو طبیعت خراب ہوجاتی ہے مگر ساس نہیں مانتی، زبردستی پینے پر مجبور کرتی ہے۔ جب بھی پیر صاحب کا دیا پانی پیتی ہوں، مجھے چکر آتے ہیں۔ کیا کروں؟ بھابی نے اس کو مشورہ دیا کہ تم ماں کو تمام احوال بتائو اور اس کے ساتھ میکے چلی جائو۔ کیا خبر وہ پیر جہالت میں تم کو زہر پلا رہا ہو ورنہ عام پانی سے تو طبیعت خراب نہیں ہوتی۔ کچھ دنوں بعد سنا کہ شہر بانو بیمار پڑ گئی ہے، تب اس کی ماں ساتھ لے گئی۔ کچھ دنوں بعد اس کو لینے ساس، بہو کے میکے گئی تو اس کی ماں نے سمدھن کی خوب خبر لی۔ کہا کہ تم میری بیٹی کو مروانے کی تدبیریں کررہی ہو، اس پر کالا جادو کروا رہی ہو اور زہریلا پانی پلا رہی ہو، تبھی اس کی ایسی حالت ہوگئی ہے۔ اب میں ہرگز اس کو تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گی۔ پیر کے بہانے تم نجانے کس سے ملتی ہو۔ تم ایک بدچلن عورت ہو اور یہ بات میں تمہارے بیٹوں کو بتائوں گی۔ شہر بانو کی ماں نے اپنا غصہ نکالا مگر اپنی بیٹی کے لیے موت کا گڑھا کھود لیا۔۔جاری ہے۔


جب بیٹے شہر سے مزدوری کرکے لوٹے، شہر بانو کی ساس نے ان سے ایسی باتیں لگائیں کہ وہ آپے سے باہر ہوگئے۔ اس نے بہو پر الزام دھر دیا کہ بدچلن ہے۔ میرے بغیر پوچھے گھر سے نجانے کہاں چلی جاتی ہے اور کسی سے ملتی ہے۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن مرد کی پیٹھ تھی، میں اس کو پہچان نہ سکی۔ اب میں اس عورت کو نہ رکھوں گی۔ سارے گائوں میں ہماری ناک کٹ چکی ہے اور ہمیں علم ہی نہیں۔ ماں نے ایسی لگائی بجھائی کہ کہ بیٹے مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے صبح کا بھی انتظار نہ کیا۔ اسی وقت بھابی کے میکے چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر بڑے تحمل سے کام لیا۔ کہا کہ ماں نے بھیجا ہے۔ ہم تمہیں لینے آئے ہیں کیونکہ کل تمہارا شوہر قاسم دبئی سے آرہا ہے۔ اس نے یہ خبر بھجوائی ہے۔ اب تمہارا گھر چلنا لازم ہے ورنہ بھائی خفا ہوگا تو پھر منا نہ پائو گی۔ اس کی ماں کب بیٹی کا گھر اجاڑنا چاہتی تھی۔۔جاری ہے۔

بولی۔ ایک شرط پر بھیج رہی ہوں کہ اب اس پر پیر جی سے دم کرانا اور نہ کوئی دم کیا ہوا پانی پلانا۔ یہ بات ماں سے کہہ دینا ورنہ اسے آکر لے جائوں گی۔ شہرو کا بھائی جو سولہ برس کا تھا، ساتھ آیا۔ کچھ آگے جاکر انہوں نے اس لڑکے کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ تمہارے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں، ہم جو ہیں۔ ہماری بھابی ہے، ماں جیسی ہے۔ اکیلی تو گھر نہیں جارہی۔ لڑکا ان کے کہنے پر راستے سے واپس لوٹ گیا اور یہ شہرو کو نہر کے قریب لے آئے۔ شام سے رات ہوگئی تب انہوں نے اس بچاری کا کام تمام کردیا۔ یہ منظر سجاول نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ورنہ مجھے یقین نہ آتا کہ لوگ اتنے وحشی اور سنگدل بھی ہوتے ہیں مگر دیہات میں بدچلنی کے الزام میں عورت کا قتل کیا جانا عام بات ہے۔جاری ہے۔

آج بھی… شہر بانو کے وہ تینوں دیور کچھ عرصہ جیل کاٹ کر رہائی پا گئے۔ جس کی بیوی قتل ہوئی، اس نے پولیس پر دبئی کی ساری کمائی لٹا دی۔ اس واقعے کے بعد ہمارا دل گائوں سے ایسا اُچاٹ ہوا کہ پھر کبھی وہاں جانے کی ضد نہیں کی۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔