وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے منظور نظر بیوروکریٹس کو نواز نے کے لئے کس طرح نئی کمپنیاں بنائیں ہزاروں روپے لینے والے افسروں کو کس طرح کروڑوں روپے دیےگئے عجب کریشن کی غضب کہانی پہلی مرتبہ منظرعام پر

آج کل پنجاب کی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کے منظور نظر بیوروکریٹس کی کرپشن کے حوالے سے نت نئی خبریں باہر آ رہی ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو احد چیمہ کی گرفتاری کا دفاع کر رہے ہیں یا جن کے خیال میں بیوروکریٹس پر ہاتھ نہں ڈالنا چاہیے ۔ پنجاب حکومت نے جس طرح کرپشن کی اور اپنے منظور نظر افراد کو نوازا، اس کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائے۔۔۔جاری ہے

پنجاب میں پچاس سے زائد خودمختار کمپنیاں قائم کی گئی ہیں، پچھلے کئی برسوں سے وہ کام کر رہی ہیں۔ ان کی تشکیل کی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی۔ آپ خود سوچیں کہ جب ایل ڈی اے یعنی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی موجود ہے تو پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی بنانےکی کیا ضرورت اور تک تھی کہ ترقیاتی منصوبے تو شہباز شریف نے صرف لاہور ہی میں چلانے تھے، یہاں زمینوں کی ڈویلپمنٹ کے لئے ایل ڈی اے پہلے سے موجود ہے۔ اسی طرح واسا کے ہوتے ہوئے صاف پانی کی کیا ضرورت ہے۔ دیگر محکموں کا بھی یہی حال ہے۔ایک ن لیگی صحافی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کسی کو اختیار دینے کو تیار ہی نہیں، بلدیاتی ادارے بننے والے ہیں تو اسی لئے میئر کے اختیار سے بلدیاتی حکومت کے تمام اختیارات نکالنا مقصود ہے، اس لئے صفائی، صاف پانی، زمینوں کی ڈویلپمنٹ وغیرہ ہر اہم محکمہ بلدیہ سے نکال کر الگ سے کمپنی بنا دی ہے۔ اس دلیل میں وزن تھا، اس لئے یہ بات مان لی۔ بعد میں ان کمپنوں سے اربوں کی کرپشن کی خبریں باہر آئیں تو معلوم ہوا کہ معاملہ خاصا گہرا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور ان کمپنوں کی تفصیل مانگی تو حیران کن باتیں سامنے آنے لگیں۔۔جاری ہے

اگلے روز ایک سینئر صحافی نے اس معاملے کی تفصیل کھول کر سمجھائی۔ بتایا کہ پرائیویٹ خودمختار کمپنی بنا کر انہیں ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ کرایا گیا، اس کے دو بڑے فائدے ہوئے ، ایک تو یہ کمپناں اڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دائرہ کار سے نکل گئیں، جس کا کام رقوم کا ایڈٹ کرنا ہے۔ دوسرا پیپرا رولز ان پر عملدرآمد نہیں ہوتے۔ جیسے پیپرا رولز کے مطابق دس کروڑ کا کنٹریکٹ دینے سے پہلے بھی نیب کو بتانا ضروری ہے تاکہ ٹرانسپرینسی برقرار رہے۔ ان کمپینوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں۔ قوانین کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم ڈیپوٹیشن پر کہیں جائے تو وہ بیس فیصد اضافی تنخواہ سے زیادہ کا حق دار نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ کی بنائی ہوئی ان کمپنیوں میں زیادہ تر افسران پنجاب کے سرکاری ملازم ہیں جو اپنی اصل تنخواہ سےپندرہ بیس گنا زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ جیسے مبینہ طور پراحد چیمہ کے ایف بی آر کے گوشواروں کے مطابق بیس لاکھ ماہانہ تنخواہ تھی، یعنی سالانہ دو کروڑ چالیس لاکھ روپے۔ بطور سرکاری ملازم ان کی تںخواہ لاکھ سوا لاکھ ہی بننی تھی۔ اب اندازہ کریں کہ ایک بیوروکریٹ ڈھائی کروڑ سال کا تو ویسے تنخواہ میں کما لے اور باقی اللے تللے الگ ، وہ شریف خاندان کا غلام نہ بنے تو کیا کرے۔۔۔جاری ہے

ایک آئی ٹی کمپنی میں ایک سابق چیف سیکرٹری کےصاحبزادے سولہ لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ ایک اور لڑکی کے بارے میں علم ہوا کہ سترہ گریڈ میں ہے، تنخواہ پچاس ہزار بننی تھی، ڈیپوٹیشن کے بیس فیصد اضافی لگا کر اسے ستر ہزار کے قریب ملتے، ان کمپنیوں میں سے ایک میں کام کر کے وہ گیارہ لاکھ روپے ماہانہ لے رہی ہے۔مہاتما صورت کے، حبیب جالب کے انقلابی شعر پڑھنے والے خادم اعلیٰ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ یہ کیا تماشا چلتا رہا۔ اٹھارہ ، انیس گریڈ کے من پسند افسروں کو ان سپیشل گریڈ پر ان کمپنیوں میں کیوں لگایا ؟ ان سے کیا کام لینا۔۔جاری ہے

مقصود تھا؟ کوئی اعتراض کرو تو ہمارے ن لیگی دوست شکوے شکایتیں شروع کر دیتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے، جمہوریت اور آمریت کی جنگ ہے وغیرہ وغیرہ۔ یارو ان سوالات کا بھی جواب دو؟

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news