کیا آپ کو معلوم ہے کہ محبت کی نشانی اور شاہ جہاں ،ممتاز کے مقبرے تاج محل میں ہر روز صبح اور شام کو کیا عجیب و غریب تبدیلی آتی ہے ؟ سنسنی خیزانکشاف

دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک آگرہ کا تاج محل 1632ء تا 1653ء کے مابین تعمیر ہوا۔ خیال ہے کہ اس کا تصّوراتی نقشہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تخلیق کیا۔ جبکہ اس نقشے کو عملی روپ دینے کی ذمہ داری ماہرین تعمیرات، استاد لاہوری، میر عبدالکریم، مرشد شیرازی اور استاد حمید نے انجام دی۔ یہ مقبرہ 55.50 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ شاہ جہاں پانچواں مغل شہنشاہ تھا۔۔۔۔جاری ہے

وہ سترہویں صدی میں ہندوستان کا حکمران تھا۔ اس کے دورحکومت کے دوران بہت سی تعمیرات ہوئیں اور تعمیر نو بھی ہوئی ۔اس دور میں تعمیر ہونے والی عمارات میں دہلی اور لال قلعہ شامل ہیں۔ اس کی تعمیرکردہ مشہور عمارت تاج محل ہے جو اس کی چہیتی بیوی ممتاز کی یاد میں تعمیر کروائی تھی۔ وہ اس کی پسندیدہ ملکہ تھی۔اس کے بطن سے نو بچوں نے جنم لیا۔ اپنے دورِ حیات کے دوران اس نے کئی سفروں کے دوران شہنشاہ کی رفاقت سرانجام دی تھی۔ اس کے علاوہ اس کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں اس کی معاونت کی تھی۔ وہ رحم دلی اور پارسائی کے لیے مشہور تھی۔۔۔۔جاری ہے

1629ء میں جب ممتاز وفات پا گئی تو شاہجہاں نے اس کے مقبرے کو ایک شاہکار بنانے کی ٹھانی۔ اس نے اس مقصد کے لیے جمنا کے نزدیک جگہ کا انتخاب کیا اور اپنے خوابوں کے تاج محل کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔تاج محل میں باغات ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں۔ پتھروں سے بنائی گئی دیواریں ہیں۔ مینار ہیں اور ایک بڑا دروازہ ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً سو فٹ ہے۔ یہ مقبرہ تقریباً ایک مربع شکل کا حامل ہے جو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہے۔ اس کے مینار 137 فٹ اونچائی کے حامل ہیں۔جب تاج محل کی تعمیر اپنے اختتام کو پہنچی تب شاہجہان کا یہ ارادہ تھا کہ دریا کے مخالف کنارے پر اپنے لیے بھی سنگ مرمر کا ایک مقبرہ تعمیر کروائے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کے بیٹے اورنگ زیب نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اسے آگرہ میں نظر بند کر دیا۔ 1666ء میں شاہجہان وفات پا گیا اور تاج محل میں اپنی بیوی کے قدموں میں دفن ہوا۔۔۔۔جاری ہے

بہت کم لوگ جانتے ہیں کے تاج محل دن اور رات میں مختلف رنگ بدلتا ہے، سحر کے وقت تاج محل کا رنگ گلابی اور شام کے وقت دودھیا سفید ہو جاتا ہے ،ان بدلتے رنگوں کو عورت کے مزاج سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ حسن کا ایک ایسا ہی منظر، آ گرہ میں جمنا کے کنارے، سنگِ مر مر کی سلوں میں مقید ہے۔ممتاز محل کا یہ مقبرہ، اسلامی فنِ تعمیر کی معراج ہے۔ جن لوگوں نے اسے قریب سے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس کے دودھیا حسن میں کیسی کشش ہے۔ باوجود یہ کہ تاج محل ایک مزار ہے، مگر اسے دیکھ کر کبھی موت کا خیال نہیں آیا بلکہ ہمیشہ یہ ہی لگا کہ اس کی شکل میں محبت مجسم ہے۔۔۔۔جاری ہے

صدیوں تک تاج کا حسن، لوگوں کو مسحور کرتا رہا، پھر اسی ہندوستان میں، ساحر جیسا ایک ضدی شاعر بھی پیدا ہوا، جس نے تاج محل کو محبت کی علامت ماننے سے انکار کر دیا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani