عمران خان کی دوران عدت بشریٰ بی بی سے نکاح کی کہانی عمر چیمہ کی عمران خان سے دشمنی کی اصل وجہ کیا ہے شرمناک حقیقت سامنے آگئی

عمر چیمہ پاکستان کے ایک صحافی ہیں۔ ان کی وجہ شہرت پانامہ پیپرز اسکینڈل بریک کرنے والی عالمی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے سے ان کا تعلق اور پاکستان میں پانامہ پیپرز کی تحقیق کرنے والے صحافی کے طور پر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب یہ عمران خان کی شادی کی خبر بریک کرنے اور ہاتھ دھو کر عمران خان کے پیچھے پڑ جانے کی وجہ سے بھی مشہور ہو چکے ہیں۔۔۔۔جاری ہے

آج ہی انہوں نے ایک اور اسٹوری لکھی ہے جس کے مطابق عمران خان نے اپنی تیسری شادی اپنی موجودہ اہلیہ سے دوران عدت ہی کر لی تھی۔ عمر چیمہ کی اس اسٹوری کے تانے بانے بظاہر سنی سنائی باتوں کی مدد سے بنے گئے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی اسٹوری میں مصدقہاطلاعات کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ اس نے یہ کہا اور فلاں ذرائع نے یوں بیان کیا وغیرہ جیسے الفاظ کا سہارا لے کر ایک سنسنی خیز خبر بنا رہے ہیں۔جب ہم نے یہ اسٹوری پڑھی تو ہمارے ذہن میں جو سوال ابھرا وہ یہ تھا کہ ایک صحافی ہونے کے علاوہ آخر ایسا کیا ہے جو عمر چیمہ کو عمران خان کے خلاف انتہائی ذاتی قسم کے حملے کرنے پر مسلسل اکسا رہا ہے۔ چناچہ ہم نے تحقیق شروع کر دی۔ اور پھر جو نتائج ہمارے سامنے آئے وہ ششدر کر دینے والے تھے۔ ہم عمر چیمہ کی عمران خان سے دشمنی کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور اس بلاگ کے توسط سے ہم وہ نتائج آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔یہ تین ہزار سال قبل کی بات ہے کہ عمران خان اور عمر چیمہ اپنے پچھلے جنم میں افریقہ کے ملک ٹمبکٹو کے باسی تھے۔ عمر چیمہ کا اپنا مرغیوں کا فارم تھا جب کہ عمران خان دیسی انڈوں کے تھوک کے ڈیلر تھے۔ عمران خان کو ہر وقت اپنے گاہکوں کے لیے دیسی انڈوں کی تلاش رہتی تھی اور اس سلسلے میں انہوں نے عمر چیمہ کا مرغیوں کا فارم تاڑ رکھا تھا۔ رات کو جب مرغیاں انڈے دے کر فارغ ہوتیں اور عمر چیمہ سکون کی نیند سو جاتے تو تب عمران خان چپکے سے ان کے مرغیوں کے فارم میں گھس جاتے اور تمام انڈے اٹھا لاتے۔ اگلے روز عمران خان وہ تمام انڈے سستے داموں اپنے گاہکوں کو بیچ دیتے تھے۔ تقریباً آٹھ برس کے مسلسل نقصان کے بعد عمر چیمہ کو عمران خان پر شک ہو گیا اور مزید چار برس کے بعد ایک رات عمر چیمہ نے عمران خان کو انڈے چراتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ عمران خان کا کام تمام کرتے ایک زوردار زلزلہ آ گیا اور ٹمبکٹو کا وہ علاقہ زمین میں دھنس گیا۔ اس طرح عمر چیمہ کا انتقام ادھورا رہ گیا۔۔۔۔جاری ہے

اس واقعے کے تیرہ سو سال کے بعد یعنی آج سے کوئی سترہ سو سال قبل ان دونوں کا دوسرا جنم بحر اوقیانوس کے کنارے واقع جزیرے برموڈا پر ہوا۔ عمر چیمہ اور عمران خان ایک ہی اسکول میں پڑھتے اور ایک دوسرے کے ہمسائے بھی تھے۔ عمران خان بچپن سے ہی شرارتی تھے جبکہ عمر چیمہ سنجیدہ اور اپنے آپ میں گم رہنے والے تھے۔ عمران خان ہر وقت عمر چیمہ کو مارتے پیٹتے رہتے اور ان کا کھانا چھین کر کھا جاتے تھے۔ عمر چیمہ جسمانی طور پر کمزور تھے لہٰذا وہ جواب میں کچھ نہیں کر پاتے تھے۔ ایک مرتبہ عمران خان نے اسکول میں عمر چیمہ کے یونیفارم پر نیلی روشنائی انڈیل دی جس کا عمر چیمہ کو نہایت رنج ہوا اور انہوں نےعمران خان سے بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ بدلہ لے سکتے ایک طوفان آیا اور ان دونوں کو اٹھا کر برموڈا ٹرائی اینگل میں لے گیا۔ دونوں اس میں گم گئے۔۔۔جاری ہے

اور پھر واپس نہیں نکل سکے۔اس واقعے کے سترہ سو سال کے بعد موجودہ زمانے میں عمر چیمہ اور عمران خان کا تیسرا جنم ہوا ہے۔ اس مرتبہ قدرت نے عمر چیمہ کے ساتھ ایک عجیب کام کر دیا۔ عمر چیمہ کو پہلے دونوں جنموں کے تمام واقعات خواب میں دکھا دئیے جس سے انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ عمران خان ہی ہیں جو ان کو پچھلے دو جنموں سے ناک میں دم کیے ہوئے ہیں۔ عمر چیمہ نے اس مرتبہ صحافت کا پیشہ اختیار کیا کیونکہ پچھلے دونوں جنموں میں وہ عمران خان سے اپنی کمزوریوں کی بنا پر معتوب ہوتے رہے چناچہ اب وہ مار نہیں کھانا چاہتے تھے۔ قدرت عمران خان کو ایک مقبول انسان بنا کر عمر چیمہ کے سامنے لے آئی۔ عمران خان نے تیسری شادی کا ڈول ڈالا تو عمرچیمہ کو پچھلے دونوں جنموں کا بدلہ چکانے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے ایک اسٹوری بنا کر اخبار میں چھاپ دی اور عمران خان کا بیڑہ غرق کرنے کی پوری کوشش کی۔ ان کی بدقسمتی سے عمران خان نے اس معاملے کو ہینڈل کر لیا۔ عمر چیمہ اس جنم میں اپنا بدلہ لازمی لینا چاہتے ہیں چناچہ انہوں نے ایک بار پھر ایک اور اسٹوری اخبار میں چھاپ دی جس میں انہوں نے عمران خان پر دوران عدت نکاح کر لینے کا الزام لگا دیا ہے۔۔۔۔جاری ہے

یہ ایک خطرناک حملہ ہے۔ عمران خان اس حملے سے کیسے بچتے ہیں یہ ہم سب کو دیکھنا ہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے۔ اور وہ یہ کہ عمرچیمہ اس مرتبہ عمران خان کو چھوڑیں گے نہیں بلکہ وہ ہر قیمت پر اپنا پچھلے دو جنموں کا بدلہ ضرور چکانے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو انہیں پتا نہیں کتنے سو سال مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news