بیابان — ایک کلرک کی کہانی جو ایک چڑیل کے چنگل میں پھنس گیا قسط نمبر 9


بیوی کی لاش دیکھ کر میرے حواس گم ہو گئے آنے والے طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے کوئی کہتا جناتا نے مارا ہے کوئی کہتا ڈاکو مار گئے میرا زندگی کا ساتھی بچھٹر گیا زندگی جیسے اندھیرا ہوگئی دو سال کی بیٹی ایک بلک بلک کر رورہی تھی جیسے ماں کی غیر موجودگی کا غم منا رہی ہو شدت غم سے میرا کلیجہ پھٹا جا رہا تھا(جاری ہے) ہ

محلے والوں اور گائوں کے لوگوں نے دلاسہ دیا لیکن دلاسہ تو محض الفاظ ہوتے ہیں انسان کی تسلی حوصلہ تو نہیں ملتا میری اس کیفیت کو دیکھ کر ہر کوئی حیران  تھا کہ جیسے میرے حواس گم ہوئے تھے ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ بیوی سے نے انتہا محبت کرتا تھا لوگ باتیں بناتے وقت تک یہ نہیں سوچتے کہ ان کی باتیں اگلے کے دل پر کیا اثر کریں گی وہ جو کچھ بھی تھی میری زندگی کا ساتھی تھی یہ غم اور میری خوشی کا ساتھی اور سب سے بڑی بات اب میری بیٹی اس کے بغیر بالکل تنہا تھی ۔۔۔اتنی چھوٹی سی عمر میں ماں کو کھوکر جو صدمہ ہوسکتا تھا شاید وہ صدمے کو سمجھ بھی نہیں سکتی تھی محلے کے لوگوں نے چند دن تک کھانا دیا لیکن پھر نوبت فاقوں تک آگئی میں تو کئی دنوں سے دواخانے نہیں جا رہا تھا ۔۔۔پھر دوسرا آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ایسے میں شاہ جی میرے بہت اچھے دوست میری بہت کام آئے انہوں نے مجھے مخلصانہ مشورہ دیا کہ دوسری شادی کر لو لیکن میں جانتا تھا کہ دوسری عورت میری معصوم سی بیٹی کو محبت نہیں دے سکے گی جس کی وہ حقدار ہے اس لیے میں نے اس کی خاطر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا پھر میں نے کھانا پکابا خود شروع کیا ہمسایہ اچھے مل گئے تھے(جاری ہے) ہ

انہیوں نے میرا بڑا ساتھ دیا میں اکثر اپنی بیٹی کو دواخانے جاتے وقت انہی کے گھر چھوڑ دیتا اسی طرح تھوڑا وقت گزرا لیکن میرے دل میں بیوی کو موت کا غم ذرا برابر بھی کم نہیں ہوا میرے دل مین انتقام کی آگ سلگنے لگی میں اسکی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا ۔۔۔چاہے یہ کسی انسان کا کام تھا یا کسی جن چڑیل کا یا بدڑوح کا میرے دل میں انتقام کی آگ روز بروز بڑھکنے لگی شاہ جی کچھ عمل وغیرہ جانتے تھے میں نے ان سے مد کی ردخواست کی شاہ جی بولے اور میاں تم کس حد تک اس بات میں یقین رکھتے ہوں کہ  یہ جنات کا کام ہے شاہ جی یقین یا بے یقینی سے کوئی مطلب نہیں بس مجھے اتنا ہی پتہ کروادیں کہ اس قتل کس نے کیا ہے ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں اگر اسے کسی ڈاکو نے قتل کیا ہے تو پھر بھی میں اسے نہیں چھوڑوں گا اور اگر کسی اور مخلوق کا کام ہے تو پھر بھی میں اس کا کوئی نہ کوئی حل کروں گا شاہ جی مجھے ایک رشتہ دار کے پاس لے گئے جو اسی سال کی عمر سے بھی زیادہ تھے بڑی محبت سے پیش آئے میں نے انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا بیوی کی موت سے پہلے گھر میں ہونے والے واقعات بتائے وہ بزرگ شاہ جی کے سگے رشتے دار تھے اور تعویذ کا کام کرتے تھے کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے انہوں نے مجھے عمل کے ذریعے یہ بتایا کہ جس مکان میں ہم رہتے ہیں وہاں پر چڑیلوں کا قبضہ ہے وہ نہیں چاہتی تھی(جاری ہے) ہ

کہ تم لوگ وہاں رہو اس لیے پہلے کچھ دن انہوں نے تمہیں تنگ کیا کہ شاید تم وہ مکان چھوڑ دو لیکن جب تم لوگوں نے وہ مکان نہیں چھوڑا تو انہوں نے تمہاری بیوی کو قتل کر دیا میں ان کی بات سن کر غصے سے آگ بگولا ہوگیا میں نے شاہ جی سے ردخواست کی کے میں نہ صرف ان چڑیلوں کو سزا دینا چاہتا ہوں بلکہ خاتمہ بھی چاہتا ہوں شاہ جی نے پہلے مجھے بہت منع کیا کہ اس کام میں مت پڑو بہتر ہے خاموشی سے وہ مکان چھوڑ دو لیکن میں اس بات پر راضی نہ ہوا دن رات شاہ جی کی منتیں شروع کر دیں پھر ایک دن وہ ہمارے گھر آئے گئے انہوں نے اس مکان میں چاروں طرف سوکھی لکڑیاں ڈلوا کر آگ جلوائی اور پھر پوری رات بیٹھ کر وہ پڑھائی کرتے رہے اس دوران ہمیں اس مکان سے نکل کر رات کہہں اور گزارنے کا حکم دیا گیا مجھے نہیں پتا کہ کیا ہوا لیکن بقول شاہ جی کے انہوں نے ان میں سے کئی چڑیلوں کا خاتمہ کیا اور کچھ بچ کر بھاگ نکلیں اس میں شاہ جی کی جان کو بھی خطرہ تھا لیکن شاہ جی اتنے نیک اور کامل ایمان تھے کے ان کے اس وار سے وہ مکان بالکل آسیب سے آزاد ہوگیا شاہ جی نے ہمیں اُس مکان میں بلوایا اور کہا کہ اب تم بے فکری سے اس مکان میں رہ سکتے ہو اب وہ مردور شیطان یہاں نہیں آئیں گی جی وہ کسی بھی وقت ہم سے بدلہ لینے کا سوچ سکتی ہیں کوئی ایسا حل کریں (جاری ہے) ہ

کہ ہماری دنیا محضوظ رہے میں نے فکر مند ہو کر کہا شاہ جی نے ہمیں تعویذ دیئے جو مجھے اپنے اور اپنی بیٹی کے بازوں کے ساتھ باندھ کر رکھنا تھا اور اللہ کے فضل سے اس کے بعد ہم نے وہاں کوئی ایسا واقعہ نہیں دیکھا اور نہ ہی ہمیں کسی قسم کا نقصان پہنچا میں تقریبا دو سال تک اس مکان میں رہا جب بیٹی چار سال کی ہوگئی تو پھر اسے مکتب میں داخل کروانے کا سوچا لیکن اے مکتب چھوڑنا اور لے کر آنا میرے بس کی بات نہیں تھی اس لیے میں نے وہ مکان چھوڑ دیا اور دوبارہ گائوں چلا ٓتا اس کے بعد اب تک خدا کا شکر ہے کہ ہم محفوظ ہیں پھر بھی کبھی کبھی خوف آتا ہے(جاری ہے) ہ

خدا نہ کرے کبھی اس طرح کے کسی آسیب کا  شکار ہوں حکیم صاحب ٹھنڈی آئیں بھرنے لگے شدت غم سے ان کا چہرہ لال ہوگیا تھا وہ آج بھی اپنی بیوی سے اتنی ہی محبت کرتے تھے میں اُنکی داستان سن کر غمگیں ہوگیا اور سوچنے لگا حکیم صاحب آسیب کی تلوار تو آج بھی آپ کے سر پر لٹک رہی ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani