اگر آپ کی بیوی میں ان 15 میں سے کوئی ایک بھی نشانی پائی جاتی ہے تو آپ کو دوسری شادی کرلینی چاہیے

ایک بیوی کی حیثیت سے ایک عورت کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟ * کیا ایک بیوی ایک خاندان کے بہتر مستقبل کی معمار ہو سکتی ہے؟ * ۔جاری ہے۔

کیا آپ کا شماربری اور جاہل قسم کی بیویوں میں تو نہیں ہوتا؟ * اگر ایسا ہے تو کیا آپ نے کبھی اپنی ذات میں ان خامیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو آپ کو آپ کو اس صف میں شمار کرتی ہیں۔ * کیا آپ ان خامیوں کو دور کر کے خود کو ایک بہتر خاتون،بیوی اور ماں ثابت کر سکتی ہیں؟ کونسی نشایاں ہوں تو دوسری شادی کر لینی چاہئے؟ دیکھیں اس اردو کے نیچے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کونسی شانی ہو تو مر1: پہلی نشانی شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرنا: ایک جاہل بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرتی ہے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہنے کے بجائے ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کبھی خوشدلی سے پیش نہیں آتی اورمعمولی باتوں پر سسرالیوں سے لڑجھگڑ گھر میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرلیتی ہے۔ 2: شوہر کو اہمیت نہ دینا جاہل بیوی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حق دار ہے۔ایسی اکثر بیویاں شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور شوہر کی بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔شوہر کو بہرصورت بیوی کی ایک مناسب اور بے غر ض توجہ درکار ہوتی ہے جس سے لاپرواہی فاصلوں کو جنم دیتی ہے۔ 3: گھر پہ توجہ نہ دینا جہالت کی ایک نشانی اپنے گھر پر توجہ نہ دینا بھی ہے۔ایسی بیوی گھریلو معاملات سے لاپرواہ سی نظر آتی ہے۔حتیٰ کہ گھر کے ضروری کام کاج اور اہم معاملات بھی جو ایک عورت ہی کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ۔جاری ہے۔

......
loading...

ادھورے پن کا شکار نظر آتے ہیں۔ایسی خاتون کا گھر صفائی ستھرائی سے عاری نظر آتا ہے ۔یہ ماحول آہستہ آہستہ گھر کے افراد کے رویوں میں بھی رچ بس جاتا ہے اور معیارِزندگی کو زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔ 4: بچوں پر توجہ نہ دینا ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حامل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات میں بھی بے توجہی برتتی ہے۔وہ نہ تو خود زندگی کے درست طور طریقوں کو اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی بچوں کو ان کا درس دیتی نظر آتی ہے۔اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کی صیح اقدار سے آگاہ نہیں ہوپاتے کیونکہ بحرحال ایک بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں اس فرض اس سے کوتاہی میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ 5: وقت کی پابندی نہ کرنا جاہل بیوی کو وقت کی اہمیت کا قطعاً ادراک نہیں ہوتا۔اسکے بچے سکول اور شوہر آفس ہمیشہ لیٹ ہی پہنچتا ہے۔ناشتہ، لنچ یا ڈنر وغیرہ کے کوئیہی نہیں استعمال ہوتبلکہ اس کے علاوہ جلد، دانتوں، پاؤں اور ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتاہے ۔جاری ہے۔

ناریل کے تیل کے وہ اہم فوائد آپ کو بتائے جارہے ہیں جن کے بارے میں یقیناً آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا۔دانتوں کی صفائی کے لیے ؛بہت سے لوگ اپنے خراب دانتوں اور ان پر پیلاہٹ کی وجہ سے بے حد پریشان نظرآتے ہیں۔۔جاری ہے۔اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے لیے مہنگے سے مہنگا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں لہٰذا اگر پیلے دانتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ناریل کے تیل کے ساتھ نمک کو ملاکر دانتوں پر 3 سے 4 منٹ تک لگانے سے دانت نہ صرف مضبوط ہوتے ہیں بلکہ موتی کی طرح چمک بھی جاتے ہیں۔۔۔جاری ہے۔خوبصورت ہونٹوں کے لیے ۔جاری ہے۔

؛بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ ناریل کا تیل ہونٹوں کو خوبصورت بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس کے روزانہ استعمال سے ہونٹ نہ صرف نرم ملائم ہوجاتے ہیں بلکہ مسلسل استعمال سے ہونٹوں کی رنگت بھی گلابی ہوجاتی ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔