ننھے مہتاب کو پاکرنہال اور بھابی بہت خوش تھے کہ جوں جوں وہ بڑا ہوتا جاتا تھا ان کی خوشیاں بھی بڑھتی جاتی تھیں لیکن رئیسہ اور حفیظ افسردہ تھے گرجہ وہ اپنے نواسے سے ملتے رہتے تھے لیکن نواسہ ان کی جواں سال بیٹی کا


بھابھی ماہم کے برابر والا ہمارا مکان تھا ۔ ان کی پل پل کی خبر رہتی تھی۔ عرصہ سے وہ بیمار چلی آرہی تھیں۔ میرے بچے چھوٹے تھے۔ ہفتے بعد دوگھڑی کے لیے مشکل سے عیادت کو وقت نکال پاتی تھی۔ نہال بھائی بیوی کی بیماری کی وجہ سے بہت پریشان رہتے تھے۔۔جاری ہے۔

ایک روز دفتر میں اپنے کلرک سے پریشانی کا تذکرہ کیا تو حفیظ نے کہا۔ سرآپ پریشان نہ ہوں۔ میری بیوی نے نرسنگ کا کورس کیا ہے۔ میں آج ہی اسے آپ کے گھر لے آؤں گا۔ وہ آپ کی بیگم کی تیماداری کردے گی۔ میری بچیاں بڑی ہیں۔ وہ گھر کاکام سنبھالتی ہیں۔ رئیسہ فارغ ہوتی ہے ۔شام کو وہ اپنی بیوی رئیسہ کے ہمراہ بنگلے پر حاضر ہوگیا۔ اس کی بیوی نے شادی سے قبل اور شادی کے کچھ سال بعد تک اسپتال میں بطور نرس نوکری کی تھی۔ وہ بہت اچھی تیماردار ثابت ہوئی۔وہ روز صبح بھائی نہال کے گھر آجاتی اور بھابی کے پاس شام تک رہتی۔ بھابی بہت بیمار تھیں۔ چلنے پھرنے حتیٰ کہ خود اٹھ کر پانی پینے سے معذور تھیں۔ انہیں ہمہ وقت ایک تیماردار کی ضرورت تھی۔ گھر کے کاموں کے لیے علیحدہ ایک ملازمہ آتی تھی مگر بیمار بھابی کی دیکھ بھال اس کے بس کا کام نہ تھا۔ایسے میں رئیسہ ہماری بھابی کے حق میں فرشتۂ رحمت ثابت ہوئی۔ وہ انجکشن لگانا جانتی تھی۔ مریضہ کا کھانا، ان کی صفائی ستھرائی اوروقت پر دوا کا خیال رکھتی تھی۔ اس طرح میرے خالہ زاد بھائی نہال کو ایک بہت بڑی پریشانی سے نجات مل گئی۔رئیسہ کی خصوصی توجہ اور ایک ہنس مکھ نرس کی رفاقت کے باعث وہ جلدی صحت یابی کی طرف مائل ہونے لگیں۔ اب ماں کے ہمراہ اس کی بچیاں بھی آنے لگیں۔ رئیسہ کی ایک بیٹی سولہ برس اور دوسری چودہ سال کی تھی ۔ دونوں خوبصورت اور سلیقہ مند تھیں۔ ماں کی طرح ہنس مکھ اور خدمت گزار۔ ایسی کہ بہت جلد بھابی کے دل میں گھر کرلیا۔ رئیسہ اگر ان کو ساتھ نہ لاتی تو بھابی اصرار کرتیں، بچیوں کو کیوں نہیں لائیں۔ ان سے جی بہل جاتا ہے۔ میرے سونے گھر میں رونق آجاتی ہے۔۔جاری ہے۔

بڑی لڑکی گھر سنبھالتی ہے، چھوٹی اسکول جاتی ہے۔ اسی لیے صرف چھٹی کے روز آپاتی ہیں۔ ان کو دیکھ کر بھابی کے دل میں ہوک اٹھتی۔ اے کاش میری بھی کوئی ان جیسی بیٹی ہوتی تو آج میں تنہا نہ ہوتی… لیکن اللہ کی مرضی۔ان کے پاس زندگی کی ہر آسائش موجود تھی۔ شوہر اعلیٰ آفیسر اور محبت کرنے والا تھا ۔ شادی کو پچیس برس ہوچکے تھے، کبھی ایک دن بھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ حتیٰ کہ اولاد نہ ہونے کا احساس بھی کبھی نہ دلایا۔ اللہ نے دولت ، نوکر چاکر، گاڑی، بنگلہ کیا کچھ نہ دیا مگر گود سونی رکھی ۔ سب نعمتیں پاکر بھی بھابی ماہم کا دل خالی رہتا تھا۔ انہیں اولاد نہ ہونے کا غم تھا مگر کسی سے اظہار نہ کرتی تھیں لیکن رئیسہ میں کوئی بات ایسی تھی کہ بھابی اس کے ساتھ اپنے دکھ بانٹنے لگیں۔ وہ کہتیں رئیسہ، مجھے اپنے سے زیادہ میاں کا غم ہے۔ یہ روپیہ پیسہ، دھن دولت، یہ جائداد کس کام کی جب ان کا نام لیوا کوئی نہیں۔ اے کاش میں کسی طرح یہ خوشی ان کو مہیا کرسکتی ۔ میرا بس چلے تواپنے میاں کی دوسری شادی کروا دوں۔ یوں بھی بیمار رہتی ہوں۔ اس زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ انہیں تو خوشیاں مل سکتی ہیں۔کیا کروں۔ لیکن وہ دوسری شادی پر کبھی راضی نہ ہوں گے۔ مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اسی گھر میں دوسری بیوی لانے کا تصور نہیں کرسکتے۔۔جاری ہے۔

رئیسہ بھابی کی باتیں خاموشی سے سنتی اور ان کی دلجوئی کی کوشش کرتی۔ رئیسہ نے تین ماہ لگاتار بھابی کی تیمارداری کی۔ دن رات ایک کرکے آخران کو بستر سے اٹھا کرچلنے پھرنے کے قابل کردیا۔ اللہ کی مہربانی شامل حال تھی کہ ہماری بھابی صحت یاب ہوگئیں۔ اس عرصہ میں رئیسہ کو اچھی طرح علم ہوگیا کہ نہال صاحب کے پاس بہت پیسہ ہے۔ اس نے شوہر سے کہا۔ کشمالہ کے ابو اگر تم اپنے صاحب کو دوسری شادی پر آمادہ کرلو تو ہمارے نصیب جاگ سکتے ہیں۔ ان کی بیگم بانجھ ہیں اور ان کی بھی یہی آرزو ہے کہ نہال، صاحبِ اولاد ہوجائیں۔ تم کسی طرح کوشش کرو کہ وہ دوسری شادی کرلیں۔نہال صاحب ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ان کی عمر دیکھو۔ اس عمر میں بچے ہوئے بھی تو ان کے کس کام کے۔ جب وہ جوان ہوں گے تب تک صاحب کہاں ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری شادی سے ہمارا کیا لینا دینا۔
ہمارے نصیب اس طرح جاگ سکتے ہیں کہ ہم اپنی کشمالہ سے رشتہ کرا دیں۔ رضوان کو بھی وہ نوکری سے لگوا دیں گے۔ تمہاری ترقی بھی ہوجائے گی۔ برسوں سے کلرک چلے آتے ہو۔ اب تو ایم اے، ایل ایل بی بھی کرلیا ہے تم نے۔ یہ ڈگریاں صندوق میں دھری ہیں جن کو دیمک چاٹ رہی ہے اور تم میڑک پاس گنے جاتے ہو۔ گریڈ نہیں بڑھ پاتا بغیر سفارش کے۔ہماری بیٹی سولہ برس کی ہے۔ نہال صاحب سے عمر کا فرق بہت زیادہ ہے۔ ایسی بے تکی بات سوچنا بھی غلط ہے۔ کوئی غلط نہیں ہے غربت اور فاقہ کشی سے تو بہتر ہے کہ دولت وعیش آرام مل جائے۔ نہال صاحب ابھی ریٹائر نہیں ہوئے۔ اتنی زیادہ عمر کے نہیں ہیں۔ ان سے زیادہ عمر کے مرد دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ غرض دن رات کان کھاکر رئیسہ نے شوہر کو آمادہ کر لیا کہ اتنے اچھے انسان کے لیے اولاد کی خوشی کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے جبکہ ان کی بیگم بھی راضی ہیں۔حفیظ نے اپنے صاحب کے کانوں میں دوسری شادی کے فوائد گنوانے شروع کردئیے۔ نہال اپنے اس ماتحت کلرک کی کارکردگی اور اس کے گھر والوں کی خدمت گزاری سے خوش تھے۔ وہ حفیظ کی ہر بات دل کے کانوں سے سنتے تھے۔ اسے اپنا ہمدرد، مخلص اور غمگسار سمجھتے تھے۔ جب اس نے انکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تو وہ دوسری شادی کے بارے میں سوچنے پر آمادہ ہوگئے۔ تاہم انہوں نے اپنے ماتحت سے کہا۔ حفیظ تمہاری بات درست ہے مگر میری بیوی راضی نہ ہوگی۔ وہ بہت اچھی ہے، میری وفادار ہے، اب بیمار رہنے لگی ہے تو کیونکر ان حالات میں اسے دکھ پہنچانے والی بات کروں۔ پھر مجھے ا ب کون رشتہ دے گا۔ سب جانتے ہیں کہ میری بیگم بیمار ہیں۔ میں اس حال میں ان سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ لوگ کیا کہیں گے۔۔جاری ہے۔

لوگوں کی آپ فکر نہ کریں کہ و ہ کیا کہیں گے۔ جہاں تک رشتے کا معاملہ ہے تو آپ فکر نہ کیجئے، میں آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں، اگر آپ قبول کریں تو میری بیوی سے بات کریں۔ یہ تجویز انہی کی ہے کہ ہماری بیٹی کشمالہ آپ کی بیگم کی خدمت کے لیے آپ کے نکاح میں دے دی جائے۔ آپ کی بیگم ہماری بچی کو پسند کرتی ہیں۔ وہ ان کے پاس رہتی رہی ہے۔ ہر طرح سے ان کا خیال رکھے گی۔ یہ عجیب بات نہال سن کر پریشان ہوگئے تاہم مرد کی فطرت ہے کہ جیون ساتھی ایک سے زیادہ ہوں تو اس کی طبیعت شاداب رہتی ہے۔بیمار بیوی سے وفاداری ایک مجبوری تھی ورنہ وہ بھی اولاد کی خوشی کو ترستے تھے اور اب تنہائی بھی محسوس کرتے تھے۔ تبھی سولہ برس کی کشمالہ کا کھلا کھلا خوبصورت چہرہ کسی حور جیسا، گلاب کے پھول کی مانند ان کی نظروں میں آگیا۔ کیا اس عمر میں ایسا کم سن جیون ساتھی بھی میسر آسکتا ہے، یہ انہوں نے کبھی سوچا نہ تھا۔حفیظ نے باور کرایا۔ صاحب آپ کا یہ عہدہ، دولت، جائداد کس کام کی جب ان کا کوئی وارث نہیں ہے، حتیٰ کہ آپ کا کوئی بھائی بھتیجا، بہن بھانجا تک نہیں ہے۔ اس پر نہال نے کہا۔ ٹھیک ہے حفیظ میں سوچ کر جواب دوں گا۔
گھر آئے تو کچھ کھوئے کھوئے تھے۔ بیوی نے وجہ دریافت کی تو وہ بولے۔ کیا کبھی تم نے رئیسہ سے میری دوسری شادی کرانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ماہم؟ جی ہاں! میرا بس چلے تو آپ کا دامن اولاد کی خوشیوں سے بھر دوں مگر میرا بس نہیں چلتا اس بات پر۔بیوی کے منہ سے یہ کلمات سن کر نہال خاموش ہوگئے ۔ دوبارہ یہ تذکرہ نہ چھیڑا۔ ادھر رئیسہ نے اپنے شوہر کے صاحب کو اپنے بچوں کی سالگرہ کے بہانے اور کبھی ان کے پاس ہونے کی خوشی میں پارٹی منعقد کرکے بلانا شروع کردیا۔ نہال بھی اپنے ماتحت کلرک حفیظ کے گھر چلے گئے۔ لڑکی کو بغور دیکھا، بہت اچھی لگی۔ ان کے ذہن نے کشمالہ کو قبول کرلیا تو حفیظ اور رئیسہ کی کاوش رنگ لے آئی۔ انہوں نے کشمالہ سے شادی پر آمادگی ظاہر کردی۔۔جاری ہے۔

......
loading...

اب مرحلہ تھا بھابی ماہم کو منانے کا۔ اس کی جرأت نہال بھائی میں نہ تھی، تب رئیسہ نے تجویز دی کہ فی الحال انہیں اس بارے میں نہ بتایا جائے، کہیں دوبارہ بیمار پڑ جائیں۔ دراصل عورت منہ سے کہہ بھی دے کہ ہاں مجھے سوتن قبول ہے، اپنے شوہر کی خوشی کے لیے دوسری شادی پر راضی ہوں مگر دل سے کوئی عورت سوتن کو قبول کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ غالباً نہال بھی یہی چاہتے تھے کہ وہ بیمار بیوی کو دکھ نہ دیں ۔ دوسری شادی کرنی ہی ہے تو نکاح پڑھوا کر اس بات کو بیوی سے پوشیدہ رکھیں۔ جب اولاد ہوگی تب کی تب دیکھی جائے گی۔
انہوں نے اپنی شرط سے حفیظ اور رئیسہ کو آگاہ کردیا۔ رئیسہ نے کوئی اڑچن نہ ڈالی۔ وہ چاہتی تھی کہ ہر صورت نکاح ہوجائے۔ بعد میں سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔ کشمالہ کا نکاح ماں باپ کے گھر پر نہال سے ہوا اور وہ انہی کے گھر رہتی رہی۔ اب نہال سسرال جاکر نئی بیوی کے درشن کر آتے تھے لیکن یہ قدرتی بات ہے کہ جب وفا میں فرق آجائے تو رویے میں بھی فرق آجاتا ہے۔ یہی کچھ بھابی ماہم کے ساتھ ہوا۔ وہ بیوی جس کے ساتھ نہال نے پچیس برس ہنسی خوشی بسر کیے تھے، جب وہ بدلے بدلے نظر آنے لگے تو بھابی نے محسوس کرلیا کہ کچھ غیرمعمولی بات واقع ہوچکی ہے۔ تب انہوں نے کرید کرید کر بالآخر ایک روز اگلوا لیا کہ ان کے سرتاج دوسری شادی کی جرأت کے مرتکب ہوچکے ہیں۔وہ خوب روئیں۔ اتنا دھچکا لگا کہ یہ تک نہ پوچھا کہ کس سے دوسری شادی کی ہے۔ بس اسی قدر کہا کہ دیکھو میری موجودگی میں کبھی دوسری عورت کو اس گھر میں مت لانا ورنہ میں جان سے جاؤں گی۔ ہاں اس گھر کے علاوہ جہاں چاہے رکھو، مجھے اعتراض نہیں ہے۔ اتنی اجازت بھی نہال بھائی کو بہت تھی۔اللہ تعالیٰ کی نوازش ہوگئی کہ جس مقصد کے لیے انہوں نے دوسری شادی کی تھی، وہ پورا ہوگیا اور کشمالہ کا پیر بھاری ہوگیا۔ ماہم بھابی کو یہ بات کیسے بتاتے جبکہ وہ کہہ چکی تھیں، کبھی دوسری بیوی کا تذکرہ بھی میرے سامنے مت کرنا۔۔جاری ہے۔

کشمالہ پورے دنوں سے تھی۔ وہ وقت آگیا جب وہ پہلے بچے کو جنم دینے والی تھی، تب رئیسہ نے داماد سے کہا۔ میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی آپ کی اولاد کو آپ کے گھر میں جنم دے۔ آپ کا بچہ زندگی کا پہلا سانس اپنے باپ کے گھر میں لے۔ جب بچہ آپ کی بیگم کی گود میں ڈالیں گے تو وہ آپ کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھ کر کشمالہ کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں گی۔ نہال کے لیے یہ خوشی ایسی تھی کہ وہ ہربات رئیسہ کی مان رہے تھے۔ گھر آکربیوی کو کہا۔ ماہم میرے کچھ مہمان آرہے ہیں۔ وہ چند دن ہمارے گھر ٹھہریں گے۔ یہ میرے اعلیٰ آفیسر ہیں۔ گھر کی اچھی طرح صفائی کرادو، خاص طور پر میرے بیڈروم اور گیسٹ روم میں نئے پردے لگوادو۔ تمہیں چند دن میکے میں رہنا ہوگا۔ جب مہمان چلے جائیں گے تو میں ڈرائیور بھیج دوں گا یا خود لینے آجاؤں گا۔ماہم کافی سمجھدار تھی۔ اس نے کوئی سوال نہ کیا۔ شوہر نے جیسا کہا ویسا کیا اور وہ بیوی کو میکے پہنچا کر آگئے۔ کشمالہ کے بھائی بہن، ماں باپ سبھی ان کے مہمان تھے کیونکہ کشمالہ سے ان کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی بیٹے کی صورت میں ملنے والی تھی۔ وہ تین دن سے اسپتال میں تھی۔ نہال کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ مجھے اور امی کو اسپتال میں کشمالہ کے پاس لے گئے۔ ہم دعا کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ بخیریت انہیں اولاد نرینہ عطا کردے، جس کی خاطر وہ بھابی ماہم پر سوتن لائے اور ان کے دل کو صدمہ پہنچایا تھا۔۔جاری ہے۔

اللہ کی مصلحتیں وہی جانتا ہے، اللہ جانے بھابی تو دل سے اپنا گھر چھوڑ کر میکے گئی تھیں اور حوصلے سے اتنا کام لیا کہ سوال تک نہ کیا۔ کون مہمان ہیں، ہوسکتا ہیں انہیں شک ہوگیا ہو کہ کہیں یہ اس کی سوتن تو نہیں ہے مگر کسی قسم کی بدگمانی کا اظہار نہ کیا کہ صبر آخر صبر ہوتا ہے… اور کہتے ہیں کہ صبر کا اجر ضرور ملتا ہے۔کشمالہ نے بیٹے کو جنم دیا مگر اسے گود میں نہ لے سکی اور بچے کی پیدائش کے اس نازک مرحلے میں خود زندگی کی بازی ہار گئی۔ نوازئیدہ کو لے کر میں اور امی نہال کے گھر لائے تھے اور اس انمول خوشی کے ساتھ آبدیدہ ان کے گھر میں پہلا قدم رکھا تھا جبکہ وہ کشمالہ کی میت کے ہمراہ اپنے سسر حفیظ کے گھر چلے گئے تھے۔ وہ بہت سوگوار تھے جیسے ان کی کمر ٹوٹ گئی ہو۔ جب وہ تدفین کے مرحلے کی تکمیل کے بعد واپس لوٹے تو بے حد افسردہ تھے۔ ان کی ہمت نہ تھی کہ بیوی کو لینے جاتے۔ یہ فریضہ بھی امی کوسونپا کہ بڑی خالہ آپ جاکر ماہم کو لے آئیں۔ امی نے ماہم کو بتایا۔ تم جو خوشی اپنے شوہر کو دینا چاہتی تھیں، وہ تمہارے گھر میں تمہاری منتظر ہے اور جھولے میں تمہارا انتظار کررہی ہے۔ اس دو دن کے بچے کی ماںاب اس دنیا میں نہیں اور تمہیں اللہ نے اس عمر میں ماں بنا دیا کہ جب کوئی عورت ماں بننے کا تصور بھی نہیں کرتی۔ اب گھر میں قدم رکھنے سے پہلے صد شکر ادا کرنا اور بسم اللہ پڑھ کر اپنے شوہر کی اولاد کو گود میں بھر لینا۔۔جاری ہے۔


میری سمجھ دار بھابی نے ’’جی آپا‘‘ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے گھر میں قدم رکھا اور کشمالہ کے بچے کو پالنے سے اٹھا کر کلیجے سے لگا لیا۔ ان دنوں میرا بچہ بھی شیرخوار تھا اور میں اس قابل تھی کہ اپنے کزن کے اس ننھے بیٹے کو دودھ پلاکر حیات نو کے چند قطرے اللہ کی رضا کی خاطر دان کرسکوں۔ صبح شام میرا بھابی ماہم کے پاس جانا ہوتا تھا۔ وہ بہت خوش تھیں۔ بچہ ان کے لیے نئی زندگی کی نوید بن گیا تھا۔ ان کی ممتا کو اس کی کلکاریوں نے نہال کردیا تھا۔ اس احساس خوشی نے ان کی بیماری کو شکست دے کر انہیں بالکل تندرست وتوانا کردیا تھا۔ گویا وہ دوبارہ جی اٹھی تھیں۔قدرتی بات یہ کہ بچے کی حقیقی ماں نہ رہے تو دکھ ہوتا ہے۔ کچھ دن نہال کشمالہ کے دکھ کی وجہ سے مرجھائے رہے، پھر اپنی باوفا رفیق حیات کا پیار پاکر اس دکھ سے راحت پالی۔ننھے مہتاب کو پاکر نہال اور بھابی بہت خوش تھے کہ جوں جوں وہ بڑا ہوتا جاتا تھا، ان کی خوشیاں بھی بڑھتی جاتی تھیں لیکن رئیسہ اور حفیظ افسردہ تھے۔ گرچہ وہ اپنے نواسے سے ملتے رہتے تھے لیکن نواسہ ان کی جواں سال بیٹی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا تھا جو نوعمری میں ان کو داغ مفارقت دے گئی تھی ۔۔جاری ہے۔

اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کی مصلحتوں میں اس کے سوا کسی کا اختیار اور دخل نہیں۔ وہ جو چاہے، ہوتا ہے کہ وہ بے نیاز ہے اور انسان بس مٹی کا کھلونا ہے۔ ایک لاچار مکڑی کی مانند اپنے خوابوں کے تانے بانے بُنتا ہے۔ کبھی تعبیر مل جاتی ہے اور کبھی جالے الجھ کرٹوٹ جاتے ہیں)

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔