فریب قسط نمر 3 ۔ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا

میں اس وقت کا انتظار کرنے لگا جس وقت مجھےکاغذ پر موجود تحریر کے مطابق عمل کرنا تھا جس کے بعد موکل پوری طور پر میرے قبضے میں آجائے گا میں اس تصور سے ہی خوش ہوگیا کہ موکل کے قبضے میں آنے کے بعد دولے مند بن جائوں گا جو چاہے کروگا جسے چاہے ماروں گا۔۔جاری ہے

جسے چاہے جس طرح چاہیں جو مرضی کروں اس تصور سے ہی میں دل میں خوش ہو رہا تھا دوسری رات میں نے کاغذ نکال کراس کے مطابق عمل شروع کردیا رات ایک بجے مجھے بالکل تہنائی میں وہ وظیفہ پورا کرنا تھا جھت پر کوئی بھی آسکتا تھا اس لئے میں نے گائوں سے باہر کھلی جگہ کا انتخاب کیا مجھے اس وقت کسی قسم کو خوف نہیں تھا بس سر پر ایک ہی جنون سوار تھا جیسے تیسے ایسے عمل کو پورا کرنا ہے اور وہ بھی جلد ازجلد جیسے ہی رات کے بارہ بجے میں سونے کی غرض سے اپنے کمرے میں چلا گیا یہ میں ہی تھا جو رات گئے دیر تک جاگتا رہتا تھا ورنہ میرے گھر والے جلد ہی سوجاتے تھے رات کے بارہ بچے آہستہ سے اپنے بستر سے اٹھا بڑی اماں کا دیا ہوا کاغذ میری جیب میں محفوظ تھا آہستہ سے اپنے کمرے سے نکلا اور صحن میں جھانکنے لگا صحن میں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا کسی وقت ابا کے کھانسنے کی ہلکی سی آواز آتی میں دبے قدموں بیرونی دروازے کی طرف چلنا شروع ہوگیا ایک دم میرے ذہن میں خیال آیا کہ کنڈٰ کھول کر جانا مناسب نہیں بہتر ہے کہ دیوار بھاند کر چلا جائوں میں نے ہاتھ دیوار پر رکھے اور مایرانہ انداز میں دیوار پر چڑھنے لگا میں آرام سے دیوار پر چڑھ گیا اب دوسری طرف کودنے کا مسئلہ تھا۔۔جاری ہے

میں نے سوچا کہ کودنے سے ہوسکتا ہے ہڈی پسلی ٹوٹ جائے اس لئے آرام سے دیوار کے ساتھ تینگتا ہوا نیچے اتر جائوں تھوڑی سی کوشش کے بعد میں آرام سے دیوار سے نیچے اتر گیا اب میری منزل گائوں سے باہر کھلی زمینیں تھیں رات کے اس پہر گائوں میں مکمل سناٹا تھا لیکن میں بے خوف حلات چل رہا تھا تھوڑی ہی دیر میں گائوں سے باہر پہچ گیا میں نے ایک ردخت کے پاس ایک صاف جگہ کا انتخاب کیا اور بیٹھ گیا اب میرا دھیان اس وظیفے پر تھا چاندنی رات میں وظیفہ مکمل طور واضع نظر آرہا تھا میں باوضو تھا اس لیے فورا وظیفے کا آغاز کر دیا وظیفہ پڑھتے ہوئے مجھے آدھا گھنٹہ گزر گیا اور ایک گھنٹہ مجھے مکمل کرنا تھا آدھے گھنٹے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قریبی جھاڑیوں میں کوئی سرسراہٹ ہو رہی ہو مگر میں نے اپنے اعصاب کو مضوطی سے قابو میں رکھا بقیہ آدھا گھنٹہ مجھے ہر پل ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے کئی افراد میرے اددگرد چکر لگا رہے ہوں مگر میں نے بالکل دھیان نہ دیا ایک گھنٹے تک وقت پورا ہوا تو میں نے وظیفہ بند کر دیا اور اپٹھ بیٹھا میرا سارا جسم پسینے سے شرابور تھا حالانکہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی مگر میرا سارا بدن تھک کر چور ہوچکا تھا میں گرتا پڑتا گھر پہنچ گیا افے دو روز لگاتار میں نے وہی عمل دیرانا تھا گھر پہنچ کر میری حالت سخت خراب تھی بڑی مشکل سے دیوار چڑھ کر صحن میں اترا اگلے روز میں سوچنے لگا کہ وظیفے کے بعد میری حالت بری ہوجاتی ہے اس لیے میں نے ایک چھوٹی سی سیڑھی کا بندوبست کیا جس سے میں آسانی سے دیوار آرپار آجاسکتا تھا اگلی رات پھر وظیفے کے لیے چل پڑا۔۔جاری ہے

اس رات بھی میرے ساتھ یہی کچھ ہوا مگر میں نے ہمت نہ ہاری وظیفہ پڑھتے پڑھتے میری حالت غیرہوگئی مگر میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا تیسری اور آخری رات بہت سخت تھی تیسری رات میرے لیئے اپنے آپ کو وظیفے میں قائم رکھنا مشکل تھا مگر آج پھل کھانے کا دن تھا اس لیے میں نے تمام قوتیں جمع کرلی تھییں اس رات مجھے بہت ڈرایا دھمکایا گیا مگر میں جانتا تھا یہ سب مجھے وظیفے سے روکنے کے لیے ہے اس لیے میں نے عمل نہ روکا وظیفہ جونہی ختم ہوا میں نے سکھ کا سانس لیا میرے سارے جسم سے پسینہ ایسے بہی رہا تھا جیسے میں ابھی نہا کر نکلا ہوں وظیفہ جیسے ہی ختم ہوا مجھے اپنے قریب سرسراہٹ سی محسوس ہوئی اب میرے سامنے ایک ہیولہ سا کھڑا تھا کون ہو تم میرے منہ سے نکلا جی آپ کا خادم موکل میرے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تو تم آگئے میں نے کہا جی آقا وہ بولا آ تو میں اسی دن گیا تھا جس دن اماں نے مجھے آپ کے قبضے میں دیا تھا بس آپ کے مجھے بلانے کے لیے یہ عمل کرنا تھا وہ بوالا اچھا تو پھر اب تم ہمیشہ میرے پاس رہو گے میں نے پوچھا۔۔جاری ہے

جی سرکار جب تک کوئی اور مجھے قابو نہ کرلے وہ بولا میں حیرت سے اسے دیکھنے لگا کیا مطلب تم تو میرے قابو میں ہو جی سرکار مگر کوئی آپ سے طاقتور چہاے تو مجھے قبضے میں کرسکتا ہے اس صورت میں اس کا غلام ہوں گا میں نے ہنکارہ بھرا تو کسی کو کیسے پتہ چلے گا کہ تم میرے قبضے میں ہو میں نے پوچھا یہی اصل بات ہے جب آپ کسی کو نہیں بتائیں گے تو کوئی میرے حصول کے لیے نہیں کوشش کرے گا اچھا میں مطمعئن ہوگیا اچھا تو پھر میں تمییں کیسے بلاتا کروں میں نے پوچھا جب بھی اسی وظیفے کا درد کریں گے میں حاضر ہوجائوں گا اور مجھے صرف جانے کا حکم کریں گے تو میں چلا جائوں گا اچھا تو تم میرے لیے کیا کرسکتے ہو میں نے خوش ہو کر پوچھا جو آپ چاہیں وہ کہنے لگا اچھا تو چلو مجھے میرے گھر چھوڑ آئو میں نے کہا میرا ہاتھ پکڑیں اس نے کہا میں نے فورا اس کا ہاتھ پکڑا لیا آنکھیں بند کریں میں نے آنکھیں بند کیں پلک جھپکنے کے  بعد بولا آقا آنکھیں کھولیں میری حیرت کی انہتا نہ رہی میں اس وقت اپنے کمرے میں کھڑا تھا ۔۔۔۔جاری ہے

۔میں خوشی سے پاگل ہوگیا وہ ابھی تک کھڑا تھا اچھا اب تم جائو میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی اب دیکھتا ہوں دنیا کیسے میری جیب میں نہیں آئی میں غرور سے بولا

کہانی ابھی جاری ہے بقیہ کہانی بہت جلدی شیئر کردی جائے گی

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔