فریب قسط نمر 4 ۔ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا

موکل کے قبضے میں آتے ہی میں خوشی سےاگل ہوا گیا اے ٹیسٹ کرنے کا مظاہرہ میں کر چکا تھا اس لیے مجھے پورا یقین تھا کہ اب میں اُس سے کوئی بھی کام لے سکتا ہوں مجھے خوشی سے نیند نہیں آرہی تھی دونوں بہنوں کی شادیاں نہیں آرہی تھی دونوں کی شادیاں گھر کے ابتر حالات سب صیح کرنے کا وقت آچکا تھا ساری رات خوشی سے کروٹیں بدلتا رہا نہ جانے کب نیند کی وادی میں چلاگیا صبح اٹھتے ہی رات کا سارا واقعہ یاد آگیا دل مچلنے لگاجاری ہے

موکل کوبلائوں لیکن میں چپ چاپ ناشتہ کرنے لگا باشتہ کرنے کے بعد چہل ودمی کی غرض سے گائوں سے باہر نکل پڑا چلتے چلتے میں گائوں سے باہر آگیا صبح کے وقت گائوں کے لوگ کھیتی باڑی اور پنے مویشی چرانے میں مصروف تھے میں سب سے سلام دعا کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا سب جانتے تھے میں شہر سے آتا ہوں تو گائوں ضرور گھومتا ہوں میں چلتا چلتا ہوا گائو بسم اللہ الرحمن الراحیم کے اونچے نیچے ٹیلے پھلانگتاہوا گائوں کی حدود سے آگے جنگل میں نکل آیا میں چاہتا تھا موکل کو وہاں بلائوں جہاں کوئی ہمیں نہ دیکھ سکے اب سنسان جنگل شروع ہوچکا تھا میں ایک درخت کے سائے میں جاکر بیٹھ گیا اور وظیفہ دہرانے لگا اب مجھے کاغذ ساتھ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی میں اتنی دفعی وظیفہ پڑھ چکا تھا کہ اب مجھے کاغذ ساتھ رکھنے کی کوئیضرورت نہیں تھی میں نے جیسے ہی بسم اللہ الرحمن الراحیم ظفیہ دُہرایا موکل کسی جن کی طرح حاضر ہوگیا جی آقا وہ سرجھکا کر بولا میں نے اسے غور سے دیکھا سفید لباس میں ملبوس وہ بالکل انسانوں جیسا ہی تھا مگر اس کے چہرے اور داڑھی کے بال برف کی طرح سفید تھے سنو مجھے ایک لاکھ روپیہ چاہیے فورا میںتحکمانہ لہجے میں بولا جی آقا ابھی لیں وہ  ایکدم سے غائب ہو گیا تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک خاکی رنگ کا لفافہ تھا جیسے بینگ والے رقم ڈال کر دیتے ہیں میں نے لفافہ اس سے پکڑلیا اور جلدی سے کھول کر دیکھا ہزار ہزار کے نوٹوں سے لفافہ بھرا تھا خوشی سے نہال ہوگیا ٹھیک ہے اب تم جائو میں نے ہاتھ اُٹھا کر اسے جانے کا حکم دیا وہ پلک جھپکنے میں غائب ہوگیا میرا دل چاہ رہا تھا خوشی سے رقص ڈالوں ایک لاکھ اس زمانے میں آج کے ایک کروڑ کے برابر تھا میں نے فورا نوٹ جیب میں اڑس لیے اور گھر کی طرف چل پڑا اچانک سامنے سے نوراکھانگڑآتا دکھائی دیا اسے ہر موسم میں کھانسی کا دروپڑا رہتا تھاجاری ہے

اس لیے اُسے نورا کھانگڑ کہتے تے وہ گائوں کا قصائی تھا مرے مکے جانور کہیں سے اُٹھا لاتا اور گائوں کے لوگوں کو بیمار جانوروں کا گوشت فروخت کرتا گائوں کے لوگ شہر کا چکر لگانے سے بچنے کے لیے اسی سے گوشت خرید لیتے ارے عرفان تم کہاں وہ حیران ہوکر لہنے لگامیں مسکرکر بولا نورے یار صبح صبح ہوا خوری کے لیے نکلا تھا تو سنا کام کاج کیسا ہے ہاں یار کام تو ٹھیک ہے کہاں جا رہا ہے صبح صبح وہ بھی گائوں سے باہر میرے سوال پر وہ گڑ بڑا گیا ارے یار وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا تیری بھابی یعنی میری بیوی نے بتایا تھا کہ کل وہ شمو کے ساتھ لکڑیاں لینے پچھلے جنگل میں گئی تھی وہاں اُس نے ہرن دیکھا تھا میں تو سن کر حیران رہ گیا کافی عرصہ پہلے اس جنگل میں ہرن تھا مگر کافی عرصے سے نہیں دیکھے جب سے گائوں کی آبادی بڑھی جانور یہاں سے بھاگ گئے اب بیوی نے بتاایا تو میں نے سوچا چلو دیکھ لوں اگر ہرن ہاتھ آگیا تو میرے وارے نیارے ہوجائیں گے ایک کرنل صاحب نے مجھے خصوصی طور پر کہہ رکھا ہے اگر کبھی ہرن کا گوشت ملے تو ضرور بتانا تو تو جانتا ہے شکاری گوشت بنوانےمیرے پاس کبھی کبھار آتے ہیں اچھا اچھا میں اس کی تفصیل سے تنگ آگیا اچھا خدا حافظ میں چل پڑا پیسے جیب میں ڈاے میں خوشی خوشی گھر کی طرف چل پڑا اب میرے گھر کے حالات تبدیل ہونے جارہے تھے گھر پہنچ کر میں سیدھا کمرے میں گیا نوٹ نکال کر گننے لگا ایک ایک نوٹ نکال کر دیکھا سب اصلی تھے پیکٹ کے اوپر بینک کی مہر بھی لگی ہوئی تھی اب میں سوچ بچار میں پڑگیا کہ سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے میں نے ماں کو اندر بلاتا اورکہا اماں اب آپ کا بیٹا اس قابل ہوگیا کہ آپ کو بوجھ اٹھا سکے آپ دونوں بہنوں کے اچھے سے رشتے کہیں دیکھیں تاکہ جلد ازجلد انکی شادی کریں ابوحیرت سے میرے منہ کی طرف دیکھنے لگیں بیٹا یہ تو کیا کہ رہا ہےجاری ہے

ہماری تو روٹی مشکل سے پوری ہوتی ہے اور تم کہتے ہوکہ رشتے دیکھو اماں شادی تو کرنی ہے نہ اُن کی کہیں لیکن بیٹا اس کے لیے رقم چاہیے ابھی تک تم نوکری پر تو نہیں لگے ارے اماں میں نوکری لگ چکا ہوں تم چھوڑو اس بات کو تو یہ بتائوگے دونوں کا کہیں رشتہ دیکھایا نہیں بڑٰ کا تو تیری خالہ کے ہاں رمضان کے ساتھ رشتہ لگا کردیا تھا اور دوسرا طاہرہ کا الیاس کے ساتھ تو بس اماں دونوں کے نکاح کی تیاری کرو میں جلد ازجلد ان کو رکصت کرنا چاہتا ہوں ارے بیٹا تیرا دماغ ٹھیک ہے پہلے کوئی پیسوں کا بندوبست ہوگا تو نکاح کی تاریخ رکھوں گی اماں میں نے کہہ جو دیا کہ یہ میری ذمی داری ہے اماں میرے چہرے کی سنجیدگی دیکھ کر سوچ میں پڑگئی اچھا مجھے تیرے باپ سے بات کرنے دے ہاں تم جلدی سے بات کر لاابا اسے مگر بیٹا تو نے پیسوں کا انتظام کہاں سے کیا اماں یہ آپ کے سوچنے کی بات نہیں آپ بس مجھے بتائو کتنی رقم چاہیے اور کیا کیا کرنا ہے تم بس ان دونوں کے لیے اچھا سا جہیز تیار کرو اور یہ رقم کچھ اہنے پاس رکھوں میں نے تیس ہزار روپے نکال کر اماں کے ہاتھ پر رکھے اتنی بڑی رقم دیکھ کر اماں بہیوش ہوتے ہوتے بچی سچ سچ بتا عرفان تو نے کہیں ڈاکہ تو نہیں ڈالا ارے اماں کیا کرتی ہو میں ہنسنے لگا یہ میری نوکری کی ایڈوانس تخواہ ہے مجھے اچھی نوکری ملی ہے ار میرے باس بہت اچھا ہیں میں نے بتایا ہے کہ میں نے اپنی بہنوں کی شادی کرنی ہے بس انہوں نے میرے کام سے خوش ہوکر مجھے رقم ایڈوانس دے دی ہے اچھا میری اماں گائوں کی سادہ عورت تھی جلدی میری باتوں میں آگئی اماں نے رقم لے کر جلد سے ڈوپٹے میں باندھ لی اچھا بیٹا میں ایسے سنبھال لوں پھر تیرے ابا سے بات کرتی ہوں اماں خوشی سے دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ابا کو پتہ تو وہ بھی بہت خوش ہوئے اور مجھے ڈھیروں دعائیں دیں دو مہینے کے اندر اندر میں نے اپنی بہنوں کا فرض سادگی سے ادا کر دیا انہیں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی لوگ حیران تھے کہ ایک دن ہی میں مجھے ایسی کون سے نوکری مل گئی جس سے میں نے چٹ پٹ دونوں بہنوں کو بیاہ دیا لیکن سب جانتے تھے کہ میں شہر میں پڑھ لکھ رہا ہوں اس لیے ضرور مجھے کوئی بہت اچھی نوکری ملگئی ہوگی شادی کے بعد میں نے اچھی خاصی رقم اماں اور ابا کے حوالے کی اور کہا اماں اب میں شہر جا رہا ہوں نوکری کے سلسلے میں تو جلدی واپس نہیں آسکوں گا اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو یہ رقم اپنے پاس رکھو انشااللہ مجھے جونہی فرصت ملی میں واپس آئوں گاجاری ہے

انہیں مطمئن کرنے کے بعد میں اپنا سامان سمیٹ کر شہر کی طرف چل پڑا اب مجھے شہر میں جاکر اپنے قدم جمانے تھے کیونکہ گائوں کی زندگی میرا مستقبل نہیں تھا میرے ذہن میں پلاننگ تھی کہ شہر میں جاکر پہلے شہر کے بڑے حلقہ احباب میں اپنی پہچان بنائوں لیکن اس سے پہلے میں شہر کے کچھ بڑے لوگوں کے حالات جابا چاہتا تھا اور اگلی زندگی کا آغاذ کرنے کے لیے اپنے لیے کوئی راستہ چننا چاہتا تھا چونکہ گائوں کی نسبت شہرون میں رہنا زیادہ مشکل ہوتا ہے رہنے کے لیے مناسب جگہ کا روبار اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے اخلاقی لوازمات میں شہر اھر اپنے ہاسٹل والے کمرے میں آگیا ہاسٹل انچارچ نے مجھے اپنے کمرے میں طلب کیا جب میں ہاسٹل انچارج کے کمرے میں گیا تو اس نے بتایا کہ رواں مہینے کے کچھ بقایاجات میری طرف رہتے تھے میاں تمیں کوئی ہوش نہیں کہ ۱۵۰ روپے تمہارے رہتے ہیں جو تم نے بقایا جمع کروانے ہیں انچارج سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا مجھے اندر ہی اندر غصہ تو بہت آیا کہ ۱۵۰ روپے کی خاطر یہ میرے ساتھ کس انداز میں بارت کر رہا ہےجاری ہے

مگر میں غصہ پی گیا اس وقت میں اس جیسے کئی ملازم خرید سکتا تھا میں نے خاموشی سے ۱۵۰ روپے جمع کروائے اور اسے کہہ دیا کہ امتحانات کے بعد اب میں یہاں نہیں رہوں گا اس لیے میرے نام سے کمرے کی رجسٹریشن ختم کر دی جائے میں ہاسٹل کے کمرے سے اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل آیا اب میری منزل ایک فائیوسٹار ہوٹل تھی جہاں میں کچھ دن آرام سے رہنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے مہنگے ترین سوٹ خریدے آج کے بعد مجھے نئی زندگی کا آغاز کرنا تھا اس لیے میر تن پر لباس بھی اچھا ہونا چاہیے تھا سوٹ خرید کر میں نے بیگ اٹھایا اور فائیوسٹار ہوٹل کی طرف چل پڑا ہوٹل کے کائونٹر میں نے جب کمرے کی بکنگ کے لیے کہاو مینجر مجھے سر سے پائوں تک دیکھنے لگا میرا حلیہ دیکھ کر اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں ایک ہفتے کے لیے اس ہوٹل میں کمرہ لے سکوں گا مگر جن میں نے ہزار ہزار کے نوٹ اُس کے سامنے پھینکے تو وہ جلدی سے میری اینٹری کرنے لگا کمرے کی چابی اُس نے اُتھا کر میرے حواکے کی اور ایک ویٹر کو اشارہ کیاجاری ہے

کہ صاحب کو ان کے کمرے میں چھوڑ آئو میں شاہانہ انداز میں کمرے کی طرف چل پڑا وہاں کے فلور پر مجھے ایک بہت اچھا کمرہ مل گیا ویٹر میں نے پچاس روپے ٹپ دی تو وہ حیرت سے اچھل پڑا جھک جھک کر مجھے سلام کرنے لگا اس وقت کے پچاس روپے آج کے پانچ سو سے بھی زیادہ طاقتور ور تھے

کہانی ابھی جاری ہے بقیہ کہائی جلدی شئیر کر دی جائے گی

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔