فریب قسط نمر 5 ۔ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا

ویٹر پانچ سو روپیہ حاصل کرکے بہت خوش تھا مجھے بار بار جھک کر سلام کر رہا تھا صاحب اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو کائونٹر پر فون کرکہ کہیں کہ سلامت کو بھیج دیں میں حاضر ہوجائوں گا کسی چیز کی بھی ضرورت ہو وہ آنکھ دبا کر بولا تو میں اس کا اشارہ سمجھ گیا ارے  نہیں یار میں ایسا ویسا آدمی نہیں پھر بھی صاحب پوچھنا تو ہمارا فرض ہے نا اس بار وہ سنجیدگی سے بولا اچھا تو کیا کیا آئٹم ہے تمہارے پاس میں چسکا لیتے ہوئے بولا صاحب آپ حکم کریں ٹینا روزی یسمین نشا ارے بس بس میں نے ہاتھ اپٹھا کر کہا اب تم جائو میں آرام کروں گا وہ سرہلا کر چلا گیا ایک تو ہر ہوٹل عیاشی کا گڑھ بن چکا ہے میں سوچ کر رہ گیا مجھے لڑکیوں میں دلچپسی ضرور تھی۔۔۔جاری ہے

مگر اتنی طوفافی نہیں نہیں کہ میں ہر وقت انہی کے پیچھے بھاگتا رہوں مجھے اپنے بچپن میں گائوں کی ایک لڑکی شمیم بہت پسند تھی وہ بہت خوبصورت اور سانولی سلونی تھی مگر اب ماشااللہ چار بچوں کی ماں تھی ایک وقت تھا جب میں اسے دیکھنے کے بہانے تلاش کرتا تھا جب میں شہر گیا تو پھر شہر کی زندگی میں گم ہوگیا شہر میں رنگ رنگ کی لڑکیاں تھیں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا بہت مشکل تھا ہر روز کوئی نہ کوئی اچھی لگتی جو پیلے دن والی سے زیادہ خوبصورت لگتی میری کلاس میں ایک لڑکی پڑھتی تھی گلناز بہت معصوم سی سادہ سے چوٹی کیے یہ ہمیشہ ایک پرووار سی شخصیت لگتی میں چنچل لڑکیوں کے بجائے اسے بہت پسند کرتا تھا مجھے شوخ اور چلبلی لڑکیاں بالکل پسند نہیں بلکہ مجھے تو بچپن میں امیتابھ بچپن کی فلم ڈان کا یہ ڈائیلدگ بہت اچھا لگتا تھا کہ مجھے دو طرح کی لڑکیاں پسند نہیں ایک وہ جو آسانی سے ہاتھ نہ آئے اور دوسری وہ جوآسانی سے جھولی میں آگریں یہ مثال مجھ  ہر تقریبا سو فیصد فٹ ہوتی تھی لیکن وہ لڑکی گلناز نجانے کیوں مجھے اچھی لگتی تھی چھ ماہ کے بعد ہی اس نے کالج چھوڑ دیا تھا مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اس کے گھریلو حالات اچھے نہیں تھے مگر کسی امیر آدمی کا رشتہ آنے پر اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کر دی میں کئی دن تک اس کی کمی محسوس کرتا رہا لیکن پھر حالات معمول پر آگئے اس کے بعد ہے آج تک مجھے کوئی خاص اچھی نہیں لگی میں نرم نرم بستر پر لیٹ گیا اور اپنی تھکاوٹ اتارنے لگا شام کے وقت میں نے کائونٹر پر فون کیا کہ مجھے اچھی سی چائے بنا کر دی جائے میں چائے کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا اندر آجائو سلامت چائے کی ٹرے اُٹھائے اندر داخل ہوا چائے میرے سامنے ٹیبل پر رکھی اور چائے بناکر پیش کی کیسی لگی صاحب آپ کو چائے ہاں سلامت بہت اچھی ہے سلامت نے ادھر ادھر دیکھ کر کوٹ کی جیب سے ایک البم نکال کر میرے سامنے رکھا صاحب لڑکیاں دیکھیں۔۔۔جاری ہے

اگر ان میں سے کوئی چاہیے ہو تو میں لاسکتا ہوں میں نے سر اٹھا کر سلامت کو دیکھا مجھے غصہ تو بہت آیا مگر اچانک میرے ذہین میں نجانے کیا خیال آیا کہ میں البم اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا پہلے صفحے پر بہت خوبصورت لڑکی تھی دوسرے صفحے پر بھی ایک بہت ماڈرن لڑکی کی تصویر تھی جونہی میں نے تیسرا صفحہ پلٹا تو وہ تصویر میرا دماغ گھمانے کے لئے کافی تھی تیسرے صفحے پر گلناز کی تصویر تھی میرے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا سلامت میری اس تصویر میں دلچپسی دیکھ کر خوشی سے مجھے دیکھنے لگا وہ سمجھا کہ شاید مجھے وہ لڑکی پسند آگئی سلامت یہ کون ہے سلامت مجھے سے البم لے کر دیکھنے لگا اور کہنے لگا صاحب یہ مجھے تو نہیں پتا کہ یہ کون لڑکی ہے یہ تو روزی میڈم کو پتا ہے میں نے پوچھا یہ روزی میڈم کون ہے صاحب یہ ہم کو بتانے کا آرڈر نہیں آپ مجھے بتائیے کہ آپ کو کونسی لڑکی چاہیے میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے گلناز کی تصویر پر انگلی رکھی سلامت مجھے یہ لڑکی چاہیے سلامت مجھے یہ لڑکی چاہیے سلامت بولا صاھب کس وقت اسکو لے کر آئوں تم کسی بھی وقت اسے میرے پاس لے آئو صاحب اس کا آپ کو پانچ ہزار دنیا ہوگا سلامت خاص کاروباری لہجے میں بولا ٹھیک ہے کہہ میں نے جیب سے ہزار ہزار کے نوٹ نکال کر سلامت کر پکڑا دیے سلامت خوشی سے اچھلنے لگا صاحب ہم تھوڑی دیر میں اس کو لے کر آتا یوں تقریبا ایک گھنٹے کے بعد میرے دروازے پر سستک ہوئی میرا دل زور زور سے دھڑک ریا تھا گلناز مجھے دیکھ کر کیا سوچے گی کہ میں اس طرح کا بندہ ہوں کالج میں تو میری شرافت مشہور تھی لیکن اسے بھی تو یہ سوچنا چاہیے کہ میں اسے دیکھ کر کیا سوچوں گا سلامت دروازہ کھول کر میرے پاس آیا تو اس کے پیچھے پیچھے گلناز چلی آرہی تھی وہ نظریں جھکائے ہوئی تھی دیکھو صاحب کا خیال رکھنا انہیں کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے سلامت یہ کہہ کر واپس مڑگیا گلناز تم گلناز نے حیرت سے میر طرف سر اٹھا کر دیکھا وہ مجھے دیکھ کر ہکی بکی رہ گئی اب وہ شرمندہ شرمندہ سی نظر آرہی تھی۔۔۔جاری ہے

میں نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ آرام سے صوفے پر بیٹھ گئی میں نے اٹھ کر باہر کے دروازے کو لاگ کیا اور دوبارہ آکر اس کے سامنے بیٹھ گیا گلناز مجھے غلط مت سمجھنا میں آج ہی اس ہوٹل میں آکر ٹھیرا ہوں اور اس آدمی نے مجھے خود پیشکش کی تھی اور میرے سامنے البم رکھا میں نے تہماری تصویر دیکھ کر چونک پڑا اور تم سے ملنے کی خاطر تمہیں یہاں بلایا سچ پوچھو تو مجے تمہاری تصویر دیکھ کر شاک لاگا تھا میرے الفاظ پر گلناز نے رونا شروع کر دیا میں میں اسے روکا نہیں وہ کتنی دیر خاموش آنسوئوں سے روتی ہی گلناز اگر تمہارے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا ہو تو مجھے اپنے کہانی سنائوں میں نے ٹشوپیپر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا بلکہ ٹھہرئو پہلے تمہارے لئے میں کچھ کھانے پینے کے لیے منگوائوں میں نے کائونٹر پر فون کیا کہ چائے کے ساتھ کچھ سنیککس وغیرہ بیھج دیں تو تھوڑی دیر بعد سلامت چائے اور سنیکس دے گیا وہ حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ اس طرح کے موقع پر تو لوگ چائے وغیرہ سب بھول جاتے ہیں اور اپنی عیاشی میں مگن ہوجاتے ہیں میں کیسا آدمی تھا جو چائے اور سنیکس کے ساتھ عیاشی کا آغاز کر رہا تھا چائے پیو میں نے اسے چائے پکڑاتے ہوئے کہا عرفان تکلف مت کرو میں اس قابل نہیں وہ شرمندہ سے لہجے میں بولی گلناز تم کس قابل ہو یہ میں جانتا ہوں اس بات کو چھوڑو تم آرام سے چائے پیو اس نے چائے کے ہلکے ہلکے گھونٹ لینے شروع کردیئے چائے پینے کے دوران میں نے اسے مضاطب نہیں کیا اور زبردستی سنیکس کھلائے چائے پینے کے بعد وہ تھوڑی سی ریلیکس ہوگئی گلناز تم یہاں باکل خیریت سے ہو بالکل پریشان مت ہوں۔۔۔جاری ہے

میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگائوں گا تم مجھے آرام سے اپنے بارے میں بتائو نہیں عرفان تم نے میری پوری قیمت ادا کی ہے تمیارا میرے جسم پرپورا حق ہے مجھے ایک دم غصہ آگیا گلناز تمہیں یہ بات کہنے سے پہلے شرم آنی چاہیے میں نے تمہاری تذلیل کے لیے تمہیں یہاں نہیں بلایا اور نہ ہی میں نے اس سے البم مانگا تھا میں صرف تمہاری تصویر دیکھ کر چونک پڑا تھا اس لیے میں چاہتا تھا کہ تمہاری مدد کروں مگرتم مجھے ابھی تک غلط سمجھ رہی ہو میرے کہجے پر گلناز کو شرمندگی ہوئی اور وہ مجھ سے معذرت کرنے لگی ارے سوری عرفان میں تمہیں غلط سمجھی تھی گلناز اگر تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں تو میں تم سے زبردستی تمہارا حال نہیں پوچھنا چاہتا تم جاسکتی ہوں میرا اتنا کہنا تھا کہ گلناز اٹھ کر میرے قدموں میں گرپڑی اور رو رو کر مجھ سے معافی مانگنے لگی میں اس سچوایشن سے گھبرا گیا میں نے اسے اٹھا کر آرام سے صوفے پر بٹھایا اور کہا گلناز تم ریلیکس فیل کرو آرام سے مجھے اپنی کہانی سنائوں تم اس مکروہ دھندے میں کیسے آئی جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے سنا تھا۔۔۔جاری ہے

کہ تمہاری شادی کسی امیر آدمی سے ہوگئی تھی گلناز میرے سوال پرٹھنڈی سانس بھر کر بولی ہاتھ تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے میری شادی ایک امیر گھرانے میں ہوئی تھی پھر کیا ہوا میں نے تجس سے پوچھا پھر وہ بولنے لگی گلناز نے اپنی کہانی سنانے شروع کر دی
کہانی ابھی جاری ہے بقیہ حصہ جاری ہی شیئر کر دیا جائے گا 

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔