ایک برے اور بے وقوف شوہر میں پائی جانے والی وہ ۲۰ نشانیاں جو بیوی کو اس سے نفرت پر مجبور کردیتی ہیں آپ میں کتنی ہیں

کیا آپ کو معلوم ہے* ایک بیوی کی حیثیت سے ایک عورت کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟* کیا ایک بیوی ایک خاندان کے بہتر مستقبل کی معمار ہو سکتی ہے؟* کیا آپ کا شماربری اور جاہل قسم کی بیویوں میں تو نہیں ہوتا؟ اگر ایسا ہے تو کیا آپ نے کبھی اپنی ذات میں ان خامیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو آپ کو آپ کو اس صف میں شمار کرتی ہیں۔*۔جاری ہے

کیا آپ ان خامیوں کو دور کر کے خود کو ایک بہتر خاتون،بیوی اور ماں ثابت کر سکتی ہیں؟تلخ حقائق:ایک سروے کے مطابق گذشتہ چند عشروں کے دوران پاکستان میں طلاق کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے 2005تا2008پاکستانی عدالتوں میں خلع اور طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے۔2008تا2011کے دوران1,24141مقدمات رجسٹر کیے گئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران اس شرح میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔صرف لاہور شہر میں ہر روز طلاق کے 100سے زائد کیسز رجسٹر ہوتے ہیں۔یہ اعدادو شمارپاکستان کے خاندانی نظام اور معاشرت کے لئے خطرے کا الارم ہیں اور اس حقیقت کو بخوبی عیاں کرتے ہیں کہ ہم سب آج کس سمت میں رواں دواں ہیں۔وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں یہ حقیقت توواضح ہے کہ ہمارا خاندانی نظام،ہماری معاشرت ہماری تہذیب مسلسل زوال کا شکار ہے۔معاشرے کے اہم کردار:میاں ،بیوی اوربچے خاندانی مثلث کے وہ تین ضلعے ہیں جو آپس میں مل کرزندگی کا نظام تشکیل دیتے ہیں۔ان میں سے ایک ضلع بھی اگر اپنے کردار سے منحرف نظر آئے تو ادھورے پن کا احساس زندگی کو مکمل نہیں ہونے دیتا۔بیوی کی حیثیت سے ایک عورت ہمارے معاشرے میں نہایت اہم کردار ادا کرنے کی مجاز ہے۔اس کردار سے انحراف معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم نے بعض بیویوں کی کچھ ایسی ہی خامیوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے جن کو اگر دور کر لیا جائے تو خاندانی ادارہ صیح معنوں میں معاشرے کی ایک بہترین اکائی ثابت ہو سکتا ہے جو معاشرے کو طاقتور کردار اور ایسے تخلیقی ذہن فراہم کرتا ہے جو مستقبل کے نئے زاویوں کی تشکیل کرتے ہیں۔۔جاری ہے

1: پہلی نشانی
شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرنا:
ایک جاہل بیوی ہمیشہ اپنے شوہر کے رشتے داروں سے نفرت کرتی ہے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہنے کے بجائے ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کبھی خوشدلی سے پیش نہیں آتی اورمعمولی باتوں پر سسرالیوں سے لڑجھگڑ گھر میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرلیتی ہے۔۔جاری ہے

2: شوہر کو اہمیت نہ دینا
جاہل بیوی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حق دار ہے۔ایسی اکثر بیویاں شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور شوہر کی بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔شوہر کو بہرصورت بیوی کی ایک مناسب اور بے غر ض توجہ درکار ہوتی ہے جس سے لاپرواہی فاصلوں کو جنم دیتی ہے۔۔جاری ہے

3: گھر پہ توجہ نہ دینا
جہالت کی ایک نشانی اپنے گھر پر توجہ نہ دینا بھی ہے۔ایسی بیوی گھریلو معاملات سے لاپرواہ سی نظر آتی ہے۔حتیٰ کہ گھر کے ضروری کام کاج اور اہم معاملات بھی جو ایک عورت ہی کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ادھورے پن کا شکار نظر آتے ہیں۔ایسی خاتون کا گھر صفائی ستھرائی سے عاری نظر آتا ہے ۔یہ ماحول آہستہ آہستہ گھر کے افراد کے رویوں میں بھی رچ بس جاتا ہے اور معیارِزندگی کو زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔۔جاری ہے

4: بچوں پر توجہ نہ دینا
ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حامل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات میں بھی بے توجہی برتتی ہے۔وہ نہ تو خود زندگی کے درست طور طریقوں کو اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی بچوں کو ان کا درس دیتی نظر آتی ہے۔اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کی صیح اقدار سے آگاہ نہیں ہوپاتے کیونکہ بحرحال ایک بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ بچوں کے معاملے میں اس فرض اس سے کوتاہی میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔


5: وقت کی پابندی نہ کرنا
جاہل بیوی کو وقت کی اہمیت کا قطعاً ادراک نہیں ہوتا۔اسکے بچے سکول اور شوہر آفس ہمیشہ لیٹ ہی پہنچتا ہے۔ناشتہ، لنچ یا ڈنر وغیرہ کے کوئی اوقات مقرر نہیں ہوتے۔ٖاس خاتون کے گھریلو امور افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔مناسب ٹائم مینجمنٹ کی عدم موجودگی افرادِخانہ کے مزاج میں چڑچڑے پن کوجنم دیتی ہے اور گھر کا پرسکون ماحول بد نظمی کی نظر ہو جاتا ہے۔۔جاری ہے

6: شوہر سے بدزبانی
معمولی لڑائی جھگڑوں میں بعض اوقات مصلحتاً خاموشی اختیار کر لینا اور غلطیوں کواگنور کر دیناگھریلو ماحول پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔مگر ایک جاہل بیوی ان خصوصیات سے ناآشنا ہوتی ہے۔معمولی باتوں پر بحث وتکرار اور پھر بدزبانی پر اتر آتی ہے ۔اس کا رویہ شوہر کے ساتھ عزت و احترام سے عاری ہوتا ہے۔بحث و تکرار، بد زبانی و بد تہذیبی کا یہ رویہ بالآخر شوہر کو گھر اور بیوی سے بددل کر دیتا ہے۔۔جاری ہے

7: شوہر کی گھر آمد کو اہمیت نہ دینا
اس آرٹیکل کو پڑھنے والی تمام خواتین سے میری گزارش ہے کہ ایک لمحے کے لئے ذرا یہ تصور کیجیئے کہ آپ ایک شوہر ہیں جو اپنے کام سے تھکا ہارا ،بھوکا پیاسا واپس آیا ہے اور آپ کی بیوی نے نہ تو آپ کی آمد ہی کو اہمیت دی ،نہ آپ کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھمایا اور نہ کھانے کا پوچھا۔تو آپ کیسا محسوس کریں گی؟ ایک جاہل بیوی شوہر کی آمد پر ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کرتی ہے۔۔جاری ہے

8: دوسری عورتوں کے سامنے شوہر کی برائی بیان کرنا
ایک جاہل بیوی شوہر کی خوبیوں پر کم اور خامیوں پر زیادہ توجہ رکھتی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ وہ دیگر خواتین اور لوگوں کے سامنے بھی بڑے دکھ کے ساتھ ان خامیوں کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہے۔اسے اس حقیقت کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ شوہر کی خامیوں کا دوسروں کے سامنے یوں برملا اظہار ان خامیوں کو دور تو نہیں کرسکتا ہاں مگر گھر کی فضا میں کچھ پیچیدگیاں ضرور پیدا کر دیتا ہے۔۔جاری ہے

9: شوہر کے والدین سے بدتمیزی
شوہر کے ماں باپ کی عزت نہ کرنا اور ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آناجاہل بیوی کی سب سے اہم نشانی ہے۔یہ رویہ گھریلو ماحول میں عدم برداشت کے عناصر کوجنم دیتا ہے ۔۔جاری ہے

10: شوہر سے سسرالیوں کی برائی اور شکایات بیان کرنا
شوہر کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آکرایک اچھا ماحول تشکیل دینے کے بجائے ایک جاہل خاتون نہ صرف ان کے ساتھ مقابلے اور تناؤ کی کیفیت پیدا کیے رکھتی ہے بلکہ شوہر سے ان غیبت اور جائز و ناجائز شکایات بھی بیان کرتی رہتی ہے اور گھر میں لڑائی جھگڑے کا موجب بنتی ہے۔گھر والوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے تنازعات جن سے سمجھوتا کر کے ایک سلیقہ شعار خاتون خوشگوار تعلقات کو تشکیل دیتی ہے، ایک جاہل خاتون ان کو اناکا مسئلہ بنا لیتی ہے۔۔جاری ہے

11: شکی بیوی
شوہر کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ایک جاہل بیوی کی اہم خاصیت ہے۔یہ بے بنیاد شکوک و شبہات نہ صرف ذہن کو بلکہ گھرکوبھی جہنم بنا دیتے ہیں۔۔جاری ہے

12: فضول خرچ بیوی
فضول خرچی بھی جاہل بیوی کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ایسی خواتین شوہر کی آمدنی وگھر کے خرچ میں کوئی تناسب نہیں رکھتیں اور نہ غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اس معاملے میں مسلسل لاپرواہی آخرکا ر مالی تنگی کو جنم دیتی ہے۔۔جاری ہے

13: نخرے والی بیوی
ہمارے یہاں اکثر بیویوں میں بات بات پر موڈ آف کر لینے اور بلا وجہ نخرے میں رہنے کی عاد ت پائی جاتی ہے۔ایسی خاتون خود کو دوسروں سے الگ تھلگ کوئی اونچے درجے کی مخلوق سمجھتی ہے۔شوہر کے ساتھ اس رویئے کا مسلسل برتاؤ آہستہ آہستہ نہ صرف اس روئیے کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے بلکہ شوہر کے دل میں بیزاری کے جذبات بھی پیدا کرتا ہے۔۔جاری ہے

14: شوہر کی حوصلہ افزائی نہ کرنا
ایک جاہل بیوی کبھی شوہر کی کسی کامیابی یا کسی خوبی کی تعریف کرکے اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ہمارے اس معاشرے میں جہاں ایک انسان کو قدم قدم پر لوگوں کے حوصلہ شکن رویوں کا سامنا رہتا ہے بیوی کی طرف سے حوصلہ افزائی کے دو بول شوہر کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔۔جاری ہے

15: کھانے میں شوہر کی پسند کا خیال نہ رکھنا
اکثر اوقات شوہر کی پسند کے مطابق کھانا بنانے کا اہتمام اس رشتے کو مزید پائیدار اور خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مگر اس شعور سے عاری ایک بیوی کو کھانے پینے کے معاملے میں شوہرکی پسند اور نا پسند کاپتہ ہی نہیں ہوتا اور وہ پتہ لگانے کی کوشش بھی نہیں کرتی۔ اصل میں ایک جاہل خاتون کی نظر میں شوہر کی پسند اور نا پسند کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔۔جاری ہے

16: گھر کا بجٹ نہ بنانا
ایک جاہل خاتون کبھی گھر کا بجٹ بنانے کی زحمت گوارا نہیں کرتی۔گھر کے اخراجات پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔مشکل وقت کے لئے پس انداز کی گئی رقم خواہ کتنی ہی قلیل کیوں ناہو اکثر کسی بڑی پریشانی سے بچا لیتی ہے یہ خاتون اس حقیقت سے نابلد ہوتی ہے۔۔جاری ہے

17: شوہر کے ذاتی استعمال کی چیزوں کا خیال نہ رکھنا
جاہل بیوی کبھی شوہر کے ذاتی استعمال کی چیزوں کا خیال نہیں رکھتی اور نہ انھیں مناسب جگہ پر رکھتی ہے۔۔جاری ہے

18: کام پر جانے کی تیاری میں شوہر کی مدد نہ کرنا
ملازمت پر یاکسی بھی اہم کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جاتے ہوئے شوہر کی تیاری میں مدد کرنا بظاہر ایک چھوٹا سا عمل ہے لیکن اس رشتے کو مضبوط بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ایک جاہل بیوی اس معاملے میں بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہے۔۔جاری ہے

19: دوسرے لوگوں کے سامنے شوہر کی عزت نہ کرنا
ایک جاہل بیوی کو شوہر کی عزت و احترام کا کچھ پاس نہیں ہوتاوہ نہ صرف گھر میں بلکہ دوسرے افراد کے سامنے بھی شوہر سے یہی سلوک روا رکھتی ہے اور شوہر کے لئے شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔بیوی کا یہ نا مناسب رویہ اس میں دراڑ ڈالنے کا سبب بن جاتا ہے۔۔جاری ہے

20: بار بار میکے جانے کی ضد کرنا
گھر پر توجہ دینے اور اسے سنوارنے کی بجائے یہ خاتون آئے دن میکے جانے کی ضد کرتی ہے۔گھر کواس کی موجودگی کی کس حد تک ضرورت ہے وہ اس بات کا ادراک کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی۔بیوی کی گھر سے غیر موجودگی ایک حد سے بڑھ جائے تو شوہر کے اندر گھر سے عدم دلچسپی کے عناصر کو جنم دیتی ہے۔اور بالآخر گھر محض ایک مکان بن کے رہ جاتا ہے۔

 مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔