فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڈ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا قسط 6

میں محویت سے گلناز کو دیکھ رہا تھا گلناز آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی جتنی کالج کے زمانے میں ہوا کرتی تھی مگرنہ جانے اسے کس کی نظر کھا گئی جو اس مکروہ دھندے میں پھنس گئی گلناز تھوڑی دیر کے لئے ریلیکس ہوگئی تھی وہ میرے سامنے شسرمندگی کا اظہار کر رہی تھی مگر اس کا حوصلہ بڑھا رہا تھا گلناز تم بلا تکلف مجھے اسے دل کی ہر بات کہہ سکتی ہوں۔۔جاری ہے

تم ایسی نہیں تھی تم نے یونہی یہ قدم نہیں اٹھایا ہوگا یقین کسی مجبوری کے تحت یہ سب کچھ کیا ہوگا میرے اتنا کہنے کی دیر تھی کے گلناز کے آنسوئوں کی جھڑی برسنے لگی کچھ پھرا اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد گویا ہوئی یہ اسی زمانے کی بات ہے جب میں کالج میں پڑھتی تھی کالج میں کن حالات میں پڑھ رہی تھی یہ میں جانتی ہوں یا میرا خدا یا پھر تیسرے میرے گھر والے گواہ تھے حالات ایسے نہیں تھے کہ میں پڑھ سکری لیکن پڑھنا اس لیے ضروری تھا کہ میں اپنے گھر والوں  کا بوجھ اٹھانا چاہتی تھی مجھ سے چھوٹی دو بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی ابا کی ریٹائرمنٹ کے بعد کمانے والا کوئی نہیں تھا گھر میں اور کوئی مرد نہیں تھا اس لئے گھر کا بوجھ ہم نے ہی اٹھانا تھا اماں مشکل سے کپٹرے سی سی کر میری کالج کی فیس دے رہی تھی اور محض فیس ہی ضروری نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے ساتھ ساتھ اور بھی لوازمات ہوتے ہیں کہٹرے کتابیں جوتے کھانا پینا ہر چیز ہمیں ترس ترس کر ملتی تھی بھائی ابھی اتنا چھوٹا تھا کہ اس پر کوئی آس لگانے کا فائدہ نہیں تھا وہ ہم بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا میں گھر والوں کے دلاسے دے دے کر تھک گئی تھی کہ میری پڑھائی جونہی ختم ہوگئی میں کوئی نوکری لگ جائوں گی ایک دن ہمارے محلے کی ایک عورت جو اکثر ہمارے گھر آتی جاتی تھی اماں کے پاس آئی وہ رشتے کرانے والی عورت تھی ہم نے اسے کسی کے رشتے کا نہیں کہا تھا کیونکہ میں سب سے بڑی تھی مگر وہ اپنے طور پر ہی ہمارے گھر ایک رشتہ لے کر آگئی اتنا کہہ کر گلناز نے پانی کا گلاس اٹھایا اور غٹا غٹ پانی پینے لگی شاید وہ پانی سے اپنے دل کی آگ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی اماں کے پاس آکر وہ عورت بولی بہن تیری گلناز کے لیے ایک رشتہ لائی ہوں یہ صرف رشتہ نہیں بلکہ سمجھتو تمیارے گھر کی قسمت کھل گئی اماں بہت حیران ہوئیں انہوں نے تو کسی رشتے کا اسے نہیں کہا کہنے لگی گلناز کی ماں لڑکا انگلینڈ سے آیا ہے اور لڑکی کو بیاہ کر ستھ لے جانا چاہتا ہے اتنا دولت مند ہے۔۔جاری ہے

کہ تمہاری بیٹی نوٹوں کی آگ بھی لگائے تو ختم نہ ہوں پہلے تو ماں نے انکار کای مگر وہ بار بار اصرار کرنے لگی قسمت ایک بار دروازے پر دستک دیتی ہے اسے خالی ہاتھ مت لوٹا تمہاری بیٹی نوٹوں میں کھیلے گی اماں اس کی بات پر سوچنے پر مجبور ہوگئی اماں نے اس سے کچھ وقت مانگ لیا دو تین دن کے بعد وہ دوبارہ ہمارے گھر آئی تو پھر اماں کو اسی بات ہر مجبور کرنے لگی اماں نے مجھ سے بات کی تو میں نے صاف انکار کر دیا مجھ ہر ان دنوں صرف ہی دھن سوار تھی کہ میں نوکری کرکے اپنے گھرکا بوجھ اٹھائوں اگر میں شادی کر لیتی تو پھر میرے بہن بھائی اور ماں باپ کا کیا بنتا میں نے ماں سے اس عورت کے سامنے کہہ دیا کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی مگر وہ عورت اتنی ڈھیٹ کے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اس نے مجھے پاس بٹھا کر پیار سے اور چاپلوسی سے سمجھانا شروع کردیا اب کے بعد اماں بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی نجانے اس نے اماں کو کیا سبز باغ دکھائے تھے ماں بھی اسی بات پر لگ فئی اور چارونا چار انہیوں نے مجھے اس بات پر راضی کر لیا میں شادی کرو اماں کو بھی لالچ پڑگئی تھی کہ اگر میری گلناز کی شادی ہوگئی تو پھر اس کے ساتھ ہمارے گھر کے حالات بھی بدل جائیں گے رشتے کرانے والی نے صرف اتنا بتایا کہ لڑکا جس دن آئے گا اسی رات تمہارا نکاح ہوگا اماں نے اصرا کیا کہ لڑکا پہلے دجھائو تو وہ کہنے لگی لڑکا ابھی انگلینڈ میں ہی ہے وہ صرف ایک ہفتے کے لیے آئے گا اور جس دن آئے گا اسی دن شام کو نکاح کردیں گے اماں اس بات پر راضی نہیں تھی اماں کہنے لگیں کہ پہلے ایک نظر لڑکا دیکھوں گی رشتہ کرانے والی اس بات پر مان گئی۔۔جاری ہے

اور ٹھیک دو ہفتے کے بعد وہ ہمارے گھرآئے دوفیشن ایبل عورتیں اور ایک تیس پینتیس سال کا لڑکا ان کے ساتھ تھا لڑکا دیکھنے میں ٹھیک تھا اس لیئے میری نے فوری ہاں کر دی ابا جان کتے رہے کہ تھوڑا سا دیکھ بھال لر کولیکن پر اماں کہنے لگی مجھے رشتہ کرنے والی پر اعتبار ہے وہ ہمارے محلے کی ہے ہم سے کیوں جھوٹ بولے گی لڑکے نے صرف ایک ہفتہ پاکستان میں رکنا تھا اس لیے انہوں نے دوسرے دن ہی نکاح پر زور دینا شروع کر دیا گھر والے چار ونا چار مان گئےہھر دوسرے دن شام کے یوتے میرے نکاح رکھ دیا گیا دوسرے دن لڑکے والے آئے اور نکاح کرکے لے گئے اچھا خاصا گھر تھا اماں نے جو کچھ بنایا تھا سب میرے جہیز میں دے دیا کہنے کو تو عام جہیز تھا مگر ہماری دن رات اور خون پسینے کی کمائی تھی لڑکے والے کے حالتا ہم سے بہت اچھے تجے کوٹھی نما گھر اور بہت امیر کبیر لوگ تھے مجھے اندر ہی اندر بہت حیرت تھی کہ ان لوگوں نے ہم جیسے غریبوں کو ہی کیوں چنا تھا پوچھنے پر بتایا کہ وہ بھی رشتے کرنے والی پر اتنا ہی اعتبار کرتے ہیں جتنا ہم کرتے تھے میرا خاوند ایک ہفتہ رہ کر چلا گیا اور اس نے میر کیس جمع کروادیا دو مہینے کے اندر اندر میرا ویزالگ اور میں بھی انگلینڈ چلی گئی میری شادی کے بعد انگلینڈ جاتے ہیں میرے سارے سسرال والے بھی انگلینڈ آگئے انگلینڈ میں ایک چھوٹا سات گھر تھا جس میں میرا خاوند میری ساس سسر اور ایک نند تھی شادی سے پہلے چھ ماہ تو بالکل ٹھیک حالات رہہے مگر پھرآہستہ آہستہ حالتا خراب ہوتے گئے۔۔جاری ہے

میرے خاوند کی روٗین بہت غلط تھی وہ دو شفٹوں میں کام کرتا اورمیرے لیے محض چار یا پانچ گھنٹے ہی بچتے جو سوکر گزار دیار مشینی زندگی کا میں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا مجھے پیچھے اپنے گھروالوں کی بھی فکر تھی مجھے انہیں بھی کچھ نہ کچھ بھیجنا تھا اور جو کچھ مجھے میرے خرچ کے لیے دیتے وہ میں اپنے گھر اپنی ماں کو بھیج دیتی میری ساس کو اس بات کا پتہ چلا تھا وہ بہت ناراض ہوئی اس نے میرے خاوند سے کہہ کر میرا خرچہ بند کروادیا وہ اس بات پر راضی نہیں تھیجں کہ میں اپنے ماں باتہ کو کچھ بھیجو جب میں نے ان سے بات پر اعتراض کیا تو پھر ساس نے میرا اپنے ماں باپ سے رابطہ بھی بند کروادیا اسے نجانے کیا چھوڑ دیں کہ وہ بالکل نہیں جانتی تھی کہ میں اپنے پیچھے والوں سے رابطہ دکھو اس بات پر میرے خاوند نے نے اپنی ماں کا ساتھ دیا جس سے میں پریشان اورافسردہ رہنے لگی میں نے خاوند سے درخواست کی کہ مجھے کوئی کام کرنے دے مگر وہ اس بات پر نہ مانا کہنے لگا گھر میں بھی کام کی ضرورت ہے نند کہن جاب کرتی تھی مجال ہے جو گھر کے کسی کام کو ہاتھ لگا دے ایک دن میں نے چوری چھپے خاوند کے فون سے جب گھر بات کی تو پتہ چلا گھر کے حالات بہت خراب تھے۔۔جاری ہے

میں زار و زار رونے لگی خاوند کو پتا چلا کہ میں نے چوری چھپے اس کا موبائل استعمال کیا ہے تو اس نے مجھے پیٹنا شروع کر دیا میں اس ملک کے قوانین سے واقف نہیں تھی اس لئے میں خوفزدہ ہوگئی زندگی میرے لیے جہنم بن چکی تھیں انہوں نے میرا پاسپورٹ بھی اپنے قبضے میں لرلیا میرے لیے فرار کی کوئی صورت نہیں تھی سارا دب مجھ سے کام کروانا اور مارنا پیٹنا ان کا مشغلہ بن گیا اب مجھے سمجھ لگی کہ انہیں وہاں ایک مفت کی نوکرانی کی ضرورت تھی کیونکہ وہاں پر نوکر رکھنا مشکل کام ہے اس لیے وہ مجھے چکمہ دے کر شادی کرکے یہاں سے لے گئے میں ان کے ظلم وستم تو برداست کر لیتی مگر میرا گھر سے رابطہ بند کروانے پر مجھے دن رات بے چینی اور پریشانی رہنے لگی پھر میں نے ایک راتخاوند کی الماری سے چوری چھپے اپنا سپورٹ نکالا اور گھر سے بھاگ نکلی میں اس ملک میں کسی صورت نہیں رہنا چاہتی تھی اس لیے میں گھر سے نکل آئی باہر نکلی تو کوئی پتہ نہیں تھا کہاں جائوں کیا کروں۔۔جاری ہے

ایک ٹیکسی مین بیٹھی تو خوش قسمتی سے وہ پاکستانی نوجوان تھا میں نے اسے مدد کی گذارش کی تو وہ اُس کو مجھ پر رحم آگیا نیک دل انسان تھا مجھے لے کر ایک ٹریول ایجنٹ کے پاس گیا ٹریول ایجنٹ بھی پاکستانی تھا دونوں نے مل کر میری مدد کی اور مجھے ٹکٹ خرید کر دی وہ مجھے وہاں پر رہنے کے کئی اور راستے بھی بتا رہے تھے مگر میں ویاں رہنا نہیں چایتی تھی انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم یہاں رہو اور اپنا کیس لڑو پھر تم کچھ حاصل کرسکتی ہوں مگر مجھے اپنے سسرال والوں کا پتہ تھا وہ بہت ظالم لوگ تھے میں پاکستانی آگئی گھر واپس آئی تو گھر والے مجھے دیکھ کربہت خوش ہوئے لیکن میرے واپس آنے کے حالات کا پتا چلا تو میری اماں رو رو کر پاگل ہوگئی اب مجھے اس سے طلاقق لینے کے لیے رجوع کرنا تھا رشتے کرانے والی کو پتہ چل گیا تو وہ بھی آکر مجھے ہی برا بھلا کہنے لگی ابھی مجھے دو ہفتے ہوئے تھے میرا خاوند میرے پیچے میرے گھر آئے تو میں نے نفرت سے منہ پھیر لیا وہ بہتیرا میری منتیں کرتا رہا کہ اب چلو اب تمیارے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہوگا مگر میں کسی صورت اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی میں نے اس سے طلاق لے لی میری پڑھائی بھی جھوٹ چکی تھی اور زندگی بھی خراب ہوچکی تھی میں نوکری کرکے اپنے گھو والوں کی کفالت کرنا چاہتی تھی اوراپنے ماضی کو اپنی زندگی سے نکال چاہتی تھی مگر میں جانتی تھی۔۔جاری ہے

کہ ایسا ممکن نہیں میں نے نوکری کے لیے کوششیں شروع کر دیں خوش قسمتی سے مجھے ایک پرائیویٹ سکول میں نوکری مل گئی ڈیوٹی ٹھوڑی سخت تھی لیکن تخنواہ انتی تھی کہ میرے گھر کا چولہا آسانی سے چلنے لگا صبح سویرے اسکوللے لیے نکلتی اور گھر آتے آتے دن ڈوبنے والا ہوتا سکول کے بعد ٹیچرز کو بچوں کے کئی کام کرنے پڑتے کاپیاں چیک کرنے حساب کتاب اور کئی معاملات کرتے کرتے تقریبا دن گزر جاقتا تھا گھر آئی تو تھک کر چور ہوچکی ہوتی ہماری تنخواہیں ہمناری محنت کے مطالق نہیں تھی ایک دن میرے ساتھ ٹیچرز نے فیصلہ کیا کہ ہم مل کر پرنسپل سے تخنواہ بڑھانے کی بات کریں جب ہم نے تخنواہ بڑھانے کی بات کی تو پرنسپل نے ہمیں کھری کھری سنا دیں تخنواہ نہیں بڑھ سکتی پہلے اسکول کے معاملات کافی مشکل سے چل رہے ہیں مگر ہم جانتے تھے کہ پرنسپل خوب پیسے کما رہا ہے بچوں سے تگڑی پیسے وصول کرتے ہیں مگرٹیچر کو اتنا نہیں ملتا ہم نے تجاوز کیا تو پھر ہمیں کھڑے کھڑے سکول سے نکال دیا گیا باقی ٹیچرز کا تو پتہ نہیں مگر مرے سکول سے نکلنے کے بعد میرے لیے مشکلات بڑھ گئیں کچھ دن گھر بیھٹے گزر گئے تو نوبت فاقوں تک آپہنچی۔۔جاری ہے

ایک دو سہیلوں کے  سے کچھ ٹیویشن مل گئی ایک جگہ پر دو بچوں ایک لڑکی اور لڑکے کا پڑھانے ہوتا تھا مجھے خاطر خواہ معقول رقم کی آفرکی رکشے میں آنے جانے کا کرایہ بھی انہی کے ذمہ تھا میں اندر ہی اندر خوش ہوگی کہ چلو ایک اچھی رقم آئے گی میں ان بچوں کو پڑھنا نے کے لیے کوٹھی جانا شروع کردیا ان بچوں کی ماں بہت اچھی تھی مگر ان کا باپ بہت خبیث آدمی تھا

کہانی ابھی جاری ہے بقیہ حصہ جلدی شیئر کردیا جائے گا

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔