فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڈ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا قسط 7

فی الحال میرے لئے وہ ٹیویشن چھوڑنا ممکن نہیں تھا مجھے وہاں سے معقول رقم مل رہی تھی اس لیے میں اسے چھوڑ کر فلحال اپنی آمدن کا ایک واحد ذریعہ بند نہیں کرسکتی اس دن تو میں وہاں سے چلی آئیں لیکن جب دوسرے دن میں ٹیویشن پڑھانے گئی تو دوسرے دن بھی بچے موجود نہیں تھے ان کو وہی خبیث باپ گھر میں موجود تھا اس نے مجھے دھوکے سے اندر بلایا کہا کہ بچے آج گھر میں موجود ہیں مگر اس دن میری قسمت ہاری تھی بچے گھر میں موھوجو د نہیں تھے۔۔جاری ہے

اندر لے جا کر اس نے گیٹ اور دروازے بند کردئیے اس دن میری عزت کا جنازہ نکل گیا میں لٹی پٹی وہاں سے نکلی تو ہزار ہزار کے کچھ نوٹ اس نے میرے بیگ میں ڈال دیے اور کہنے لگا یہ تمہاری سال بھر کی ٹیوشن کی آمدن سے بھی زیادہ ہیں رو رو کر میرا برا حال تھا میرا دل چاہ رہا تھا کہ اس کا منہ نوچ لوں مگر میرے بس میں کچھ نہیں تھا اس دن کے بعد میں نے ٹیوشن جانا چھوڑ دیا اماں بیچاری پوچھ پوچھ کر تھک گئیں یہ کیا ہوا تم نے ٹیویشن کیوں چھوڑ دی مگر میں انہیں کیا بتاتی جب اس آدمی کے دیئے ہوئے پیسے ختم ہوگئے تو پھر مجھے سوچوں نے گھیرلیا میں سوچ میں ڈوب گئی سیدھے طریقے سے میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے گھر کی کفالت کولوں مگر کامیابی نہیں ہوئی اور اگر میں دوسرا رستہ اپنا الوں تو دولت کی فراوانی ہوجانے گی اس دن میں نے اپنا سب کچھ دائوہر لگا دیا میرا ذہن  مجھے سے باغی ہوچکا تھا دل اور دماغ کی آپس میں سردجنگ شروع ہوگئی دل کہتا تھا کے یہ راستہ ٹھیک نہیں مگر دماغ کہتا تھا پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے یہی راستہ ٹھیک ہے میں دوبارہ اسی ٹیویشن پڑھانے والے گھر میں چلی گئی وہاں بچے موجود تھے ان کی ماں مجھ سے نہ آنے کا شکوہ کرنے لگی میں نے انہیں بتایا کہ میں کچھ دن آتی رہی مگر آپ موجود نہیں ھی اس دن میرا اس کے خاوند کے سے بھی آمنا سامنا ہوا وہ مجھے دیکھ کر چیطانی ہنسی ہنسنے لگا اس دن بہت زوروں کی بارش ہورہی تھی اور میں بچوں کو پڑھا کر فارغ بیٹھی تھی گھر آنا میرے لئے مسئلہ تھا تو بیگم صاحبہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ ٹیچر کو ان کے گھر چھوڑ آئیں اس آدمی نے خوشی خوشی گاڑی نکالی اور مجھے گاڑی میں بٹھا کر میرے گھر چھوڑنے چل پڑا سارے راستے وہ میرے ساتھ بہودہ حرکتں کرتا چلا آیا اس دن میرے دماغ میں یہ بات آئی کے اس آدمی کو کیش کرنا چاہیے میں نے اس سے اس کا نمبر مانگا تو وہ حیرت زدہ ہوگیا پھر میں نے اس سے اپنا رابطہ بڑھا دیا اور آہستہ آہستہ اس سے مال بٹورنے لگی وہ میرا پہلا شکار تھا۔۔جاری ہے

اسے میں نے اتنا پیسہ کھینچھا کہ تنگ آکر اس نے خودہی میرے سے جان چھڑالی مجھے اس نے غلط راستے پر ڈال دیا تھا لیکن اس راستے پر چل کے میں نے خوب دولت کمائی اسی آدمی کے توشط سے میرے کئی امیر لوگوں سے رابطے ہوئے اور کئی اسی طرح بیگمات سے بھی میرے راہ رسم بڑھنے لگے آج آپ جس ہوٹل میں بیٹھے ہیں یہاں پر کم ازکم ایک رات میں پانچ سے پچاس ہزار تک کمانا میرے لیے کوئی مشکل بات نہیں اب آپ ہی بتائیں میری اس بربادی کا ذمہ دار کون ہے کیا میں خود اپنی مرضی سے اس راستے پر چلی یا اس معاشرے نے مجھے بے راہ روی پر مجبور کردیا آج میرے پاس بہت پیسا ہے لیکن میں جس چنگل جس جال میں پھنس چکی ہوں اس سے نکلنا میرے لیے ممکن نہیں چھوٹی دونوں بہنیں شہرکے اچھے کالج میں پڑھ رہی ہیں بھائی کو تعلیم دلوار ہی ہوں اور ماں باپ بھی خوش ہیں وہ میرے پیشے سے واقف نہیں مجھے زور دیتے ہیں کہ شادی کر لو مگر میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگی اس کی دُکھ بھری کہانی سن کر میرے آنسو نکل آئے میرا دل اندر سے پھوٹ پھوت کر رونے لگا یہ معاشرہ انسان کو سید ھے راستے پر نہیں چلنے دیتا وہ بہت معصوم بھولی بھالی سی لڑکی تھی انتہائی شریف اور اچھی میں نے کہا گلناز میں نے تم سے ساری زندگی کچھ نہیں کہا لیکن میں تم سے ایک التجاکرتا ہوں کہ اس راستے سے واپس آجائو گلناز سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگی اس کی جھیل سی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے نہیں عرفان میرے راستے کی کوئی منزل نہیں اور نہ ہی کوئی پرائو اس لیے مجھے نہ کوئی منزل ملگے گی اور نہ ہی میں نے کہیں رکنا ہے اب میں اجازت چاہوں گی ارے نہیں نہیں بیٹھو میں کھانا منگواتا ہوں نہیں عرفان میں چاہے جہاں بھی رہوں کھانا اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی کھاتی ہوں میں اسے دروازے تک چھوڑنے گیا سنو گلناز تمہارا گھر کہا ہے ۱۵۶ شاہنواز کالونی وہ اپنا ایڈوس بتا کر چلی گئی میں بوجھل دل سے واپس بستر پر آکر لیٹ گیا۔۔جاری ہے

میں گلناز کی کہانی سن کر بہت دکھی ہوگیا تھا اپنے حالات اور اس کے حالات کا موازنہ کرنے لگا میرے مقابلے میں اس بیچاری نے بہت سی تکلیفیں جھیلی تھیں عورت ذات ہوکر اپنے اوپر اتنے ستم سہے تھے لیٹے لیٹے اچانک مجھے موکل کا خیال آیا میں نے اسے بلب کیا تو وہ حاضر ہوگیا سنو اگر میں کسی کے حالات کے بارے میں جاننا چاہو تو کیا تم مجھے اطلاع دے سکتے ہو جی جیسے آپ کو حکم تو پھر مجھے گلناز کے بارے میں بتائو وہ کہاں رہتی ہے اور اس وقت کیا کر رہی ہے موکل نے میرے سامنے کچھ پڑھ کر ہوا میں ہاتھ لہرایا اور پھر مجھے بتانے لگا وہ اس وقت ٹیکسی میں اپنے گھر کو جارہی تھی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی کھانا کھاتی ہوںمیں نے موکل سے پوچھا کہ کیا میں کسی نظروں سے اوجھل ہوسکتا ہوں جی جس وقت میں آپ کا ہاتھ پکڑے ہوں گا آپکو کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ہاں مجھے یاد آیا کیا تمہیں بھی کوئی دوسرا دیکھ سکتا ہے جی نہیں آپ کے علاقوہ مجھے کوئی نہیں دیکھ سکا اچانگ دروازے پر دستک ہوئی سلامت برتن اٹھانے آیا تھا اندر آکر مجھے وہ حیرت سے دیکھنے لگا کے میں کس کے ساتھ باتییں کر رہا تھا مجھے اس بات کا یقین  ہوگیا کہ موکل کو میرے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا جانے کے بعد میں نے موکل سے کہا کہ مجھے مزید کچھ رقم چاہیے موکل نے فورا مجھے ڈھیر سارے نوٹ لادیے میں نے موکل کو رخصت کیا اور میٹھی نیند سوگیا دوسترے دن میں نے گلناز کے گھر جانا تھا میری ہوری کوشش تھی کہ گلناز کو اس راستے سے ہٹا سکوں مگر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے دوسرے دن میں نے موکل کو طلب کیا اور اسے گلناز کے گھر چلنے کا حکم گیا ورہ پلک جھپکنے میں مجھے گلناز کے گھر لے گیا میں گلناز کے گیٹ کے سامنے کھڑا تھا میں نے چونکہ موکل کا ہاتھ تھام رکھا تھا اس لئے میں سب کی نظروں سے اوجھل تھا اچانگ گیٹ سے گلناز نکلی گلناز نے بہت زیادہ میک اپ کر رکھا تھا اور بہت سجھی سنوری تھی قریب ہی تھا کہ میں اچانک ظاہر ہوجاتا اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں اس کا پیچھا کرکے دیکھوں گا یہ کہاں جاتی ہے گلناز سڑک کنارے کھڑی ہوگئی اور تھوڑی دیر بعد ایک لمبی سی پچارو آجر اس کے سامنے کھڑی یوئی گلناز پجارو میں سوار ہوئی تو چپکے سے میں بھی اس کے ساتھ ہی فاڑی میں سوار ہوگیا اسے محسوس ہی نہیں ہوا کہ گاڑی میں اس کے ساتھ کوئی وار بھی سوار ہوچکا تھا۔۔جاری ہے

فاڑی ایک آدمی چلا رہا تھا جو شکل و صورت اور حلیہ سئ ہی ڈرایئور لگ رہا تھا گاڑی موڑ مڑتے اونچے نیچے راستوں سے ہوتی ہوئی گنجان شہر میں ایک کوٹھی کے سامنے جاکھڑی ہوئی گیٹ کیپر نے گیٹ کھولا اور گاڑی اندر داخل ہوگئی یہ کافی حیسن کوٹھی تھی بہت بڑا خوبصورت لان جابجا پودے لگے ہوئے تھے گلناز ٹک ٹک کرتی ہیک کے ساتھ اندر جانے لگی تو میں بھی اس کلے پیچھے چل پڑا مین حال سے ہوتی ہوئی گلناز ایک سجے سجائے بیڈروم  میں داخل یوئی اندر ایک پچاس پچپن سالہ آدمی آرام دہ کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا گلناز کو دیکھ کر اس نے خوشی سے کہہ لگایا اور بولا ہیلو ڈارلنگ گلناز بھی اسے ہیلو کہہ کر بید پر دراز ہوگئی ہاں جانو کیسی رہی رات کی کارگزاری بس ٹھیک جبران میں تنگ آگئی ہوں روز روز کے اس کام سے مجھے سکون سے رہنے دو آدمی قہقہہ لگا کر بولا ارے ابھی کہاں جانا ابھی تو تمہیں بہت آگے جانا ہے جبران کیا اتنی دولت کافی نہیں شہر کے ہرپوش علاقے میں ہمارے سٹور ہیں ہرمحکمے ہر ادارے میں لوگ ہماری بات مانتے ہیں ہر امیر آدمی سے ہمارے تعلقات ہیں زندگی میں اور کیا چاہئے گلناز بڑے بے تکلفا نہ انداز میں کہہ رہی تھی وہ آدمی جس کا نام جبران تھا شکل صورت سے ہی بہت شاطر لگ رہا تھا گلناز میں سوچ رہا ہوں کے آپ ہمیں شادی کر لینی چاہیے نہیں جبران جب تک میں اپنی چھوٹی بہنوں کا فرض ادا نہ کرلوں اس وقت تک میں شادی نہیں کرسکتی لو ویسے تمیاری مرضی مجھ تو پنکی بھی شادی کرنے کے لیے تیار ہے نام مت لو میرے سامنے اس ڈائن کا گلناز غصے سے بولی کیوں کیا ہوا وہ تو تمیہاری بھی سیلئ ہے جبران بولا نہیں میں باز آئی ایسی سہیلی سے دیکھو گلناز پنکی کیا تعلق ہے اب گلناز دوبارہ باہر کی گاڑی کی طرف جا رہی تھی وہ گاڑی میں سوار ہوئی تو اس بار پھر عرفان اس کے ساتھ تھا کوٹھی سے نکل کر گاڑی دوبارہ سڑکوں پر روان دواں تھی ایک متوشط سے علاقے سے انہوں نے ایک لڑکی کو ساتھ لیا لڑکی نے کافی شوخ میک اپ کر رکھا تھا۔۔جاری ہے

وہی ہی پنکی تھی اب کے بار گلناز اس سے مخاطب تھی ہاں پنکی اب سنائو آج کیا پروگرام ہے سب سے پہلے ہمیں ان چار پانچ عورتوں سے ملنا ہے جہیں ہم نے پچھلی بار سلائی مشینیں لے کر دی تھی ان کے پاس جتنی لڑکیاں کام سیکھنے آتی ہیں

کہانی ابھی جاری ہے بقیہ حصہ جاری شئیر کر دیا جائے گا