1جن زادی ایک انوکھی کہانی

مجھے دس کلو مٹھائی چاہیے اُس کی آواز بڑی مترنم تھی  وہ  دوکان میں داخل ہوئی تو فضا خوشبو سے معطر یوگئی یہ خوشبو  ایسی تھی جو میں نے کبھی نہ لگائی اور نہ سونگھی سیلزمین مجھ سے باتیں کرنے میں مگن تھا کہ اچانک وہ دوکان میں داخل ہوئی مٹھائی کا آڈر دیکھر اس نے ہزار ہزار کے چار نوٹ کائونٹر پر رکھے مٹھائی ڈبوں میں ہیک کردوں یا ٹوکریاں بنا دوں ڈبوں میں پیک کردیں

۔۔جاری ہے

بھال اتنی رات میں ٹوکرے کیسے اُٹھا کر جائوں گی بولی سیلزمین سرہلا کر خاموشی سے مٹھائی ڈبوں میں ہیک کرنے لگا اس کے جسم سے اُٹھنے والی مہک سے میرا دماغ تک مہلک اٹھا وہ بالکل میرے قریب کھڑی تھی قد تقریبا پانچ فٹ اور ایک دو انچ تک ہوگا اگراس نے برقع نہ پہنا ہوتا تو میں اس کے جسم کے تمام نشین و گراز دیکھ سکتا تھا اس کی سریلی آواز کا جادو ابھی تک میرے کانوں میں رس گھول رہا تھا سیلزمین نے دس کلو مٹھائی ڈبوں میں پیک کر سلیقے سے رکھ دی لیجئے آپ کی مٹھائی حاضر ہے سیلزمین نے مٹھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کیا میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں میں نے مداخلت کرتے ہوئے کہا بڑی مہربانی ہوگی وہاں مین سٹرک پر میری کار پارک ہے بس وہاں تک آپ کو زحمت کرنی پڑے گی اس کی نشیلی آنکھوں میں نہ جانے کیا بات تھی میں بہکنے لگا وہ مست چال سے آگے بڑھ گئی اور میں شاپر اٹھا کر اس کے پیچھے پیچھے  چلنے لگا میرا اشتیاق بڑھ رہا تھا کہ میں مزید اس سے بات کروں بس پشھلی سیٹ پر رکھ دیں اس نے کار کا دروازہ بند کردیا وہ میرا شکریہ ادا کرکے کار میں بیٹھ گئی میں پتھر بنا اس کے دودھ جیسے سفید چہرے اور ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا آپ کون سی خوشبو استعمال کرتی ہیں بہت اچھی ہے میں نے پوچھا میں یہ جاننا چایتا تھا کہ آیا یہ مصنوعی خوشبو ہے یاس کے مرمدین بدن کی مہک ہے اس کا جواب میں تمہیں دوسری ملاقات میں دوں گی وہ مسکرا کر کار اسٹارٹ کرنے لگی اور پھر ایک ادا سے دیکھ کر چلی گئی میں سوچوں میں گم واپس مٹھائی کی دوکان پر آگیا پیو یار یہ اس وقت مٹھائی کا کیا کرے گی میں نے پیو سے سوال کیا کوئی خوشی کی تقریب ہوگی یار پیو لڈو ترتیب سے لگا رہا تھا تو کیا کوئی مرد نہیں ان کے گھر میں میں نے سوال داغا کیا پتہ یار پیو بیزاری سے بولا چل یار اب دوکان بند کرنے کا تائم ہے پیو بولا تو مین بھی خدا حافظ کہہ کر خاموشی  سے نکل آیا پیو دکان کو تالہ لگا کر میرے ساتھ چل پڑا پیور یار ایک بات سمجھ میں نہیں آئی یہ اتنی مٹھائی کا کیا کرے گی اور وہ بھی رات کے اس وقت ارے یار ہوگئی کوئی تقریب ویسے میں تمہیں ایک بات بتائوں ایک مرتبہ میرے پاس ایک آدمی آیا

۔۔جاری ہے

اور اس نے تیس ہزار کی مٹھائی خریدی اور کہنے لگا میرے میرے تمام رشتہ دار اور بچے یہیں آکر مٹھائی کھائیں گے ایک بچے کی سالگرہ ہے اور کچھ ہی دیر بعد ڈھیر سارے بچے آئے اور ساری مٹھائی چٹ کرگئے میں ہکا بکارہ رہ گیا شاید وہ جن تھے مگر میں یقین سے نہیں ہہ سکتا کہ وہ کون تھے ہوسکتا ہے پیو وہ جن ہوں ہاں یار انسان تو اتنی مٹھائی کھا نہیں سکتے جن ہی ہوں گے پیو سوچتے ہوئے بولا تو کیا پیو مٹھائی یہ لڑکی جنوں میں سے تھی جو اتنی مٹھائی لے گئی میں نے پوچھا ہوسکتا ہے یار میں کیا ککہ سکتا ہوں پیو سرچھٹکتے ہوئےبولا ایسے جسطرح اس کے جسم سے خوشبوئیں اُٹھ رہی تھی اس سے تو ایسے ہی لگتا ہے ممکن ہے اس کا تعلق بھی جنوں کی نسل سے ہوں کیوں کہ میں نے اکثر نوٹ کیا ہے جب یہ میری دکان میں داخل ہوتے ہیں تو اسی قسم کی معتر خوشبو سے دکان کی فضا مہکتی ہے جیسا کہ تم نے بھی محسوس کیا ہے کہ اس لڑکی کے دکان میں داخل ہوتے ہی کس قدر بھینی بھینی خوشبو فضا میں رچ بس گئی تھی ہاں پیو بھائی خواہش کو پالیا میں بڑبڑایاپیو بھائی میری بات سن کر بولے کونسی تمہاری خواہش میں نے کہا یہی کہ کسی جن زدای سے ملاقات ہوجائے کس سے دوستی ہو سیرو تفریح کرتا پھروں اور اس کی طرح ہوائوں میں اڑوں لوگوں کو تنگ کروں مگھر مگر کیا پیو نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تجس سے پوچھا پیو بھائی میری تو ابھی اس فقط چند بائیں ہوئی میں باقی خواہشیں تو اپنی جگہ پر ہی تو کیا تم نے اس سے پوچھا تھا کہ وہ کونسی خوشبو استعمال کرتی ہے پیو بھائی ہاں پر اُس نے دوسری ملاقات پر بات کو ٹال دیا میں پیو بھائی سے اجازت لے کر گھر کو چل پڑا میں ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا مگر بے روزگار جس رات دیر سے سوتا صبح گئے تک سوتا رہتا مگر جس رات جلدی سو جاتا صبح سویرے اٹھ کر کوئی کام تلاش کرنے کی کوشش کرتا کام نہ ملنے کی صورت میں مزروری کرتا اور شام کو تھکا ہارا چند روپے کما کر آجاتا آج بھی میں دیر سے سویا تھا اس لیے دن کے بارہ بجے تک سوتا رہا میں شہر میں ملازمت کی غرض سے آیا تھا

۔۔جاری ہے

جن کہ میرے والدین اب گائوں میں ہی تھے میں ابھی تک ان کو پیسے نہیں بھیج سکا تھا شرمندگی تھی کہ میرے والدین نے مجھے پرھایا لکھایا مگر میں ان کو بوجھ نہیں اٹھا سکا شہر میں ملازمت کے لیے سفارش کی ضرورت تھی جو میرے پاس نہیں تھی میرا اس بھرے شہر میں کوئی جاننے والا بھی نہیں ھا گائوں دیہات کی آب ہوا اور اچھا کھانا پیا اور والدین کی محبت نے مجھے صحت مند اور توانا بنایا تھا جس کی بدولت میں سخت مزدورہ بھی کرسکتا تھا شام تک ادھر ادھر پھرتا رہا رات ہوتے ہی پیو کی دکان پر چلا گیا مجھے بڑی بیتابی سے اس حسینہ سے دسری ملاقات کا انتطار تھا ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی جن زادی ہو اور اس سے دوستی ہو جائے تو زندگی عیش میں گزر جائے والدین کی خدمت بھی کروں اور دوسرے مسکینوں کے کام بھی آئے سکوں پیو دکان پر موجود نہیں تھا لہذا میں دکان کے اندر کھڑا ہو کر اس حسینہ کا انتظار کرنے لگا لگایک اسی مہک سے میرا دماغ معطر ہونے لگا تو میں نے بے چین ہو کر ادھر ادھر دیکھا مگر مجھے نظر نہیں آیا ہے یہ مہک مجھے پاگل کئے جا رہی تھی میں دیوانوں کی طرح اس لڑکی کو ڈھونڈنے لگا کہ اچانک ایک طرف سے وہ مجھے آئی ہوئی دکھائی دی میں خوش ہوگیا چند لمحوں بعد وہ دوکان کے اندر میرے سامنے موجود تھی کیا آپ بھی مٹھائی چاہیئے دس کلو میں نے گفتگو کا آغاز کیا جی ہاں آج بھی مجھے اتنی مٹھائی چاہیے مگر اتنا کہہ کر اس نے بات ادھوری چھوڑ دی مگر کیا اگر کوئی پریشانی والی بات ہے تو مجھے بتائیں میں حاضر ہو آپ کی ہر طرح مدد کرسکتا ہوں میں نے بلا سوچے سمجھے بولتا چلا گیا مگرآج میرے پاس گاڑی نہیں ہے وہ مجبورا بولی تو کیا ہوگیا آپ جتنے دور چائیں گی

۔۔جاری ہے

میں مٹھائیاٹھا کر آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں میں نے پیشکش کر ڈالی میں آپکی شکرگزار ہوں گی اور موقع ملنے پر آپ کا احسان کا بدلہ اتار دوں گی اس کے لہجے میں سچائی تھی اور چہرے پر مختلف قسم کے تاثرات تھے میں نے دس کلو مٹھائی تول کر ڈبوں میں پیک کر دی اور شاپروں کو رتیار کردیا اتنے میں پیوآگیا تو اس نے پیسے نکال کر مجھے دیے میں نے پیو کے حوالے کردیئے پیویار میں ان کے ساتھ مٹھائی لے کر جا رہا ہوں آج یہ اپنی گاڑی نہیں لے کر آئی میں شاپر اٹھا کر چل پڑا پیو مجھے حیرت سے دیکھنے لگا وہ لہرا لہرا کر آگے چلنے لگی میں نے دونوں ہاتھوں میں پانچ پانچ کلو کے شاپر اٹھائے ہوئے تھے اگر آُ گاڑٰ نہیں لائیں تو ہم ٹیکسی میں چل سکتے ہیں میں نے وزن محسوس کرتے ہوئے مشورہ گیا ہاں ایسا ممکن ہے مگر آج میرے پاس پیسے کم ہیں اگر تم ٹھک گئے ہو تو شاپر مجھے دے دو میں اٹھا لیتی ہوں اس نے کہا تو میں نے کہا نہیں مجھے یہ چھا نہیں لگ رہا وہ میرے ہوتے شاپر اٹھائے یہ میری توہین تھی کچھ دیر ہم خاموشی سے چلتے رہے پھر میں نے پوچھا آپ نے اس دن خوشبو کونسی لگا رکھی تھی اور آج بھی اسی قسم کی مہک آپ سے آرہی ہے کیا کروگے جان کر تمہیں افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اس نے دکھ سے جواب دیا میں ہکا بکا ہو کرا س کی طرف دیکھنے لگا آپ اپنا دکھ میرے ساتھ بانٹ سکتی ہیں میری زندگی میں پہلے ہی کیا رکھا ہے بےروزگاری نامرادی اور خوہش میں نے دکھ سے کہا کیا تم میرے کام آسکتے ہو میری خاطر جان کی بازی لگا سکتے ہو اس نے لجچاجت بھری نظروں سے مجھے دیکھ کر پوچھا کیوں نہیں متحرمہ میں آپ کے کام آسکتا ہوں میں نے سوچے سمجھے بغیر جواب دیا تم مجھے زہرا کہ سکتے ہو ٹھیک ہے ہم کل ملتے ہیں اور آرام سے بات کریں گے اس نے کھلی پیشکش کی مجھے اپنی امید پوری ہوتی نظر آئی ٹھیک ہے میں کل رات ایک بچے کے قریب آپ کو کیفے کے سامنے ملوں گا میں نے کہا اس مٹھائی کیا کروں میں نے مٹھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا مجھے ٹیکسی میں سوار کروا دو میں گھر جاکر کرایہ دوں گی میں نے ٹیکسی روک کراسے سوار کروادیا اور مٹھائی کے شاہر رکھ دیئے وہ مسکرا کر میرے طرف دیکھ کر چلتی بنی میں گھرلوٹ آیا

۔۔جاری ہے

کیونکہ آج مجھے جلدی سونا تھا صبح مزدوری کیلئے جاتا تھا مجھے پیسوں کی شدت ضرورت تھی اگر میرے پاس پیسے ہوتے تو میں اسے چائے کھانا کھا سکتا تھا یہ سوچ کر میں سو گیا ٹھیک سات بجے میری آنکھ کھلی ناشتے سے فارغ ہوکر میں نے اسی چورا ہے کا رخ کیا جہاں پر بیروزگار نوجوان مزدوری کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ٹھیکیدار وہاں آکر انہیں ساتھ لے جاتے ہیں مجھے بھی ایک ٹھیکیدار اپنے ساتھ مزدوری پر لے گیا سارا دن محنت کے بعد تین سو روپے ہاتھ آئے میں نے غنیمت جانا گھر جاکر نہایا اور دھلے کپڑے پہنے سورچ ڈوب رہا تھا اور اندھیرا پورے شہر کو اپنے گھیرے میں لے چکا تھا میں زہرہ کو جلد ازجلد چاہتا تھا میں نے سن رکھا تھا کہ جن اور بدروحین رات بارہ بچے سے پہلے نہیں نکلتے اور صبح اذان سے پہلے پہلے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جاتے ہیں میں نے اس ملاقات کا ذکر پیوسے نہیں کیا کیونکہ وہ مھے ہرگزا سے ملنے نہ دیتا میں وقت گزاری کے لئے سڑکوں پر آگے پیچھے پھرتا رہا اندر سے ڈر بھی رہا تھا کہ بھوتوں چڑیلوں سے دوستی کتنی خطرناک ہوسکتی ہے میں نے سوچا کیون نہ وقت گزارنے کے لیے رات ۱۲ تک جا شو دیکھ لوں مگر پھر سوچا کہ میرے پاس پیسے پہلے ہی کم ہیں اگر خرچ کر دیے تو اور کم ہو جائے گے اور جب وہ مجھے سے ملی تو اس نے مجھے سے کہا رضوارن میرا تعلق انسانوں سے نہیں ہےبلکہ جنات کے ایک قبیلے سے ہے آُ پ مجھ پر شک تھا تو لیں میں ایسے یقین میں بدل دیتی ہوں میں واقعی جن زادی ہوں میں حیرت سے اچھل پڑا تو کیا

۔۔جاری ہے

تم واقعی ہاں رضوان پرسکون رہو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی دراصل میں خود ایک عذاب کا شکار ہوں یہ مٹھائی میں اپنے لیے نہیں بلکہ قبیلے کے سردار کے لیے لے کر گئی تھی مجھے شروع سے ہی انسان یعنی آدم زاد پسند ہیں میری آدم زادوں سے اس محبت کو میرے قبیلے والے اچھا نہیں سمھتے اس لیئے مجھے سزا کے طور پر انسانوں میں بھیج کر مجھ سے مشقت کے کام لیئے جاتے ہیں میری تمام طاقتیں ختم کر دی گئی ہیں جنہیں صرف اسی صورت میں بحال کیا جاسکتا ہے کہ مجھ سے کوئی نوجوان شادی کرلے اور میں اس وقت تک کسی آدم سے شادی نہیں کرسکتی جب تک کوئی آدم زاد خود مجھ سے شادی کی حامی نہ بھرلے اور اگر میں ایسا کرلوں تو پھر مجھے اپنے قبیلے سے ہمیشہ کے لئیے نکال دیا جائے گا مھر میری طاقعیں مجھے واپس مل جائیں گی اور اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو میری ققتیں بحال ہوسکتی ہیں مگر ایک  بات یاد رکھو اس کام میں تمہیں میرے قنیلے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تم رہتی کہاں ہو مین نے پوچھا ہم انسانوں کی بستیوں سے دور رہتے ہیں اس شہر سے باہر ایک پرانا قبرستان ہے اس کے پاس ہی ہمارے قبیلے کا ڈیرہ ہے اچھا میں وہاں جاسکتا ہوں میں نے ہوچھا تم کیا کروگے وہاں جا کر وہ پوچھنے لگی میں صرف دیکھنا چاہتا ہوں وہ پر سوچ انداز میں بولی تم کب میرے ساتھ چلنا چاہوگے دن اور وقت بتا دو اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا ویٹر آدر لینے آگیا میں نے درجن کباب سیخ تکے اور لیگ پیس کے ساتھ کوکالا والا کا آڈر دے دیا ویڑ آڈر لکھ کر چلا گیا میں آض ہی تمیارے ساتھ چلتا ہوں کھانے کے بعد میں نے کہا اچھا کیا میں پوچھ سکتی ہوں تم کہ کیا تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو وہ کہنے لگی دیکھو زہرا اس بھرے سنسار میں میرا کوئی نہیں حالانکہ میرے والدین موجود تھے میری زندگی پہلے ہی بیکار ہے اگر تمہارے کسی کام آسکوں تو مجھے خوشی ہوگی اوہ تو کیا واقعی تمہارا کوئی نہیں وہ بولہ میرے کچھ رشتہ دار گائوں میں موجود ہیں

۔۔جاری ہے

مگر شہر میں کوئی نہیں کیا میں بھی نہیں وہ میری آںکھوں جھانکتے ہوئے بولی میں نے کہا ہی تو جس کی وجیہ سے میں سب کچھ کرنے پر تیار ہوں خوشی سے اس کا چہرہ گلنار ہوگیا رضوان اگر تم مجھ سے شادی کر لو تو یکھنا میں تمہیں مالا مال کر دوں گی دنیا کی ہر خوشی دوں گی اتنے میں ویٹر کھانا لے کر آگیا گرم گرم کباب دھواں اڑاتے تکے گرم گرمن روٹیاں بھاپ اڑاتے لگ پیس اور ٹھنڈی بوتلیں میری بھوک چمک اُٹھی ۔۔۔
کہانی ابھی جاری ہے جن زادی بقیہ حصہ جاری شئیر کردی جائے گا 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔