ایک بوڑھا آدمی سڑک کنارے آوازیں لگا رہا تھا آنڈے لے لو گرم آنڈے ۔۔۔ اچانک ایک کار پاس آکر رکی اس میں ایک ماڑرن سے آنٹی

شہر کی ایک مشہور اور پوش علاقے کی سڑک پر ایک ضعیف العمر شخص آوازیں لگا رہا تھا ،،،گرم آنڈے ، گرم آنڈے ۔۔۔۔۔ایک نئی گاڑی اس کے پاس آ کر رکی اور شیشہ نیچے کرتے ہوئے ایک باوقار خاتون نے بابا جی سے پوچھا ۔۔۔۔

۔۔جاری ہے

ایک اُبلا انڈہ کتنے کا ہے؟ 15روپے کا ایک بیٹی۔۔۔ بزرگ نے سردی سے ٹھٹھرتی آواز میں کہا۔ امیر عورت خالص کاروباری انداز میں بولی ۔۔ 50 روپے کے 4 دیتے ہو تو بولو۔ ۔۔۔ لے لو بیٹی، بزرگ نے یہ سوچ کر کہا کہ کوئی گاہک تو ملا۔ اگلے دن خاتون اپنے بچوں کو لےکر ایک مہنگے ریسٹورنٹ گئی

۔۔جاری ہے

اور سب بچوں کا من پسند کھانا آرڈر کیا، کھانا کھانے کے بعد جب بل 1900 روپے آیا تو خاتون نے اپنے قیمتی پرس سے 2000 روپے نکال کر ویٹر کے ہاتھ میں موجود بل والی پیلٹ پر رکھے اور حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوئی بولی ۔۔۔بقایا تم رکھ لو ۔۔۔یہ کہا اور اپنی دولت پر اکڑتی و اٹھلاتی خاتون ہوٹل سے باہر نکل گئی ۔ تو گویا اِس خاتون نے اپنی فتح اِس میں سمجھی کہ جس بوڑھے انڈے بیچنے والے کو زیادہ پیسے دینے چاہیئے تھے تو اِس کا حق مار لیا،

۔۔جاری ہے

اور جو پہلے ہی بڑے ناموں کے ریسٹورنٹس بنا کر عوام کو لوٹ رہے ہیں اُن کو 100 روپے زیادہ دے دیئے۔کبھی اِن غریبوں سے یہ سوچ کر ہی خریداری کر لیا کریں کہ شاید ہم کسی کی مدد کا سبب بن جائیں۔ اس بات پر غور ضرور کیجیے گا ۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani