2جن زادی ایک انوکھی کہانی

میں عام طور پر اتنا کھانے کا شوقین نہیں مگر اس وقت بھوک سے میرا برا حال تھا اور اتنا لذیذ کھانا دیکھ کر میری بھوک چملنا قدرتی بات تھی ذہرا بھی میرے ساتھ کھانا شروع ہوگئی دل ہی دل میں مجھے خوف بھی محسوس ہو رہا تھا کہ ایک جن زادی میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہی ہے مگر مجھے اپنی قسمت کا دروازہ کھلتا ہوا محسوس یو رہا تھا

۔۔جاری ہے

وہ کھانے میں مجھ سے کہیں زیادرہ تیز تھی کھانا کھانے کے بعد میں نے دل نے بل ادا کیا اور ہم باتیں کرتے ہوئے کیفے سے باہر نکل آئے تو اب تمہیارا کیا پروگرام ہے رضوان زہرہ پوچھنے لگی زہرا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اس لیے میرا خیال ہے کہ تم مجھے ابھی اپنے قبیلے کی طرف لے چلو زہرا پر سوچ انداز میں بولی ٹھیک ہے مگر اچھی طرح سوچ لو اس راستے میں بہت سی مشکلات ہیں زہرا اب جو کچھ بھی ہے جینا مرنا تمیارے سنگ ہے میں نے ایک ٹیکسی کو اشارہ کیا اور ہم ٹیکسی میں بیٹھ گئے میں نے اسے شہر سے باہر پتہ سمججھایا اور ٹیکسی ہوا سے باتیں کرنے لگیں تھوڑی ہی دیر میں ہم شہر سے باہر ہماری مطلوب جگہ پر موجود تھے ٹیکسی سے اتر کر میں نے کرایہ ادا کیا ٹیکسی والا واپس مڑ گیا زہرا یہاں تو کرئی قبرستان نہیں ہے میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا سنو ہم لوگ اتنے بیوقوف نہیں کہ گزرگاہوں کے پاس اپنے ڈیرہ جمالیں آدم زاد اکثر ہمارے پیچھے رہتے ہیں  اور ہمہیں نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہیں میں نے ہنس کرکہا لیکن زہرہ میں نے تو سنا ہے کہ جنات آدم زادوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تمیارا اپنا نظریہ ہے سوچنے کا اور میرا اپنا زہرا نے سمجھ داری سے جواب دیا سڑک سے اتر کر ہم کچی راستے پر جنگل کی طرف چل پڑے چلتے چلتے تھک گیا ہم کاگی دور نکل آئے تھے تکہ کباب سب ہضم ہوچکے تھے دوبارہ سے بھوک چمک پڑی تھی ایک جگہ درختوں کے جھنڈ سے نکل کر ہم نے پیچھے دیکھا تو جھنڈ کے اس پار ایک بہت بڑا قبرستان تھا جو شاید پرانے زمانے میں بنا ہوا تھا اب اس کےآس پاس کوئی آبادی نہیں تھی زہرا کہنے لگی میرے قبیلے نے اس قبرستان کے پیچھے ڈیرہ لگا رکھا ہے تو کیا تم لوگ مستقل طور پر یہیں رہتے ہو یا جگہ بدلتے رہتے ہو زہرا بولی نہیں ہم جگہ بدلتے رہتے ہیں مگر جہاں ہمارا دل لگ جائے وہاں پر کئی کئی مہینے گزار دیتے ہیں

۔۔جاری ہے

یہاں رہتے ہوئے ہمیں چھ ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں اونچے اونچے راستوں ست لیے ہوئے وہ مجھے قبرستان کے پاس پہنچ گئی ایک قبرکی اوٹ سے پرلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی وہاں ہمارا قبیلہ ہے میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے کچھ نظر نہ آیا ایک تو رات کا وقت تھا اور دوسرا اندھیرے کی وجہ سے مجھے کچھ نظر نہیں اآرہا  اس نے اپنا ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے لہرایا اور کہنے لگی اب دیکھو میں نے پرلے کی طرف دیکھا تو میں حیران رہ گیا عجیب و غریب شکلوں والے کئی لوگ ادھر ادھر کو پھر رہے تھے جن میں بچے بوڑھے جوان عورتیں سب ہی قسم کے لوگ تھے قد کاٹھ جسا مت انسانوں کی طرح مگر شکلیں عجیب و غریب تھی میں خوف زدہ ہوگیا میں نے کہا زہرہ کیا تم بھی ان کے جیسی ہو وہ کھلکھلا کر ہنسی اور کہنے لگی ہاں پہلے ان جیسی تھی مگر اب نہیں میں نے اپنی مرضی سے آدم زاد والا روپ چن لیا ہے اگر کوئی آدم زاد مجھ سے شادی کرلی تو میں ہمیشہ اسی روپ میں رہوں گی اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کچھ لوگ ہماری طرف آرہے ہیں زہرا یہ دیکھ کر گھبرا گئی اور مجھے کہنے لگی چلو فورا بھاگو ہم دونوں پیچھے کی طرف بھاگنے لگے زہرا مجھے لے کر ایسے بھاگی جیسے موت ہمارا پیچھا کر ہی ہو بھاگتے بھاگتے ہم دوبارہ سڑک تک پہنچ گئے سڑک پر پہنچ کر وہ مطمئن ہوگئی اور کہنے لگی اگر واپس آنے میں ایک لمحے کی بھی دیر ہوجاتی تو وہ ہماری تکا بوٹی کر دیتے میں اندر ہی اندر خوفزدہ ہوگیا کہ یہ کون سی مصیبت میں پڑگیا زہرا کہنے لگی اگر تم جاننا چاہو تو جاسکتے ہو

۔۔جاری ہے

میں نے پوچھا تھا تم کہاں جائو گی وہ کہنے لگی میں ادھر ادھر بھٹکتی رہوں گی نہیں زہرا میں جلد تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں زہرا کے چہرے پر خوش دمنکے لگیں لگر رات کے اس پہر تم زہرہ ہم شادی توکل ہی کریں گے اس وقت تو کچھی نہیں ہوسکتا تو ٹھیک ہے پھر ہم اپنے اپنے راستوں پر چلے جاتے ہیں کل ملاقات ہوگی اتنا کہہ کر وہ مڑ گئی اور میں سڑک پر شہر کی طرف چلنے لگا میں تھوڑا سا پریشان ہوگیاکہ اب اتنی دور واپس لیسے جائوں گا میں نے گھبرا کر زہرا کو آواز دینی شروع کردی وہ چند لمحموں بعد میرے سامنے آگئی کیا ہوا رضوان  میری تما طاقتیں سلب ہوچکی ہیں میں پیدل جتنا چاہوں تمیارے ساتھ چل سکتی ہوں مگر میں اہنی کوئی طاقت استعمال کرکے تمہیں گھر نہیں پہنچا سکتی چلو اتنا کرو کہ جتنا میرے ساتھ پیدل چل سکتی ہوں میرا ساتھ دے دو وہ کافی دور تک مجھے چھوڑنے آئی دن کا اجالا پھیلنے میں تھوڑی ہی دیر تھی کہ میں شہر میں داخل ہوگیا گلی کوچوں میں ابھی تک کتے بھونگ رہے تھے کہیں کہیں کسی گلی یا مارکیٹ کا چوکیدار نظر آجاتا ایک چوکیدار جس نے ڈنڈہ اٹھا رکھا تھا مجھے دیکھ کراچانک میرے سامنے آگیا بابو کون ہو تم اس وقت کہاں ست آرہے ہو ارے بھائی میں مسافر ہوں شہر کے باہر گیا تھا ابھی واپس آرہا ہوں اچھا ٹھیک ہے

۔۔جاری ہے

جائو وہ مجھے مسلسل مشکوک نظروں سے گھور رہا تھا میں اپنے رہائش کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا یہ کمرہ بھی مجھے پیو کی مہربانی سے ملا تھا جو میرا اس شہر میں پہلا واقف کار تھا چھوٹا سا کمرہ تھا جو میری ضرورت کے لئے کافی تھا ایک پرانی سی مارکیٹ کی بالائی منزل پر کچھ کمرے کرائے کے خالی تھے پانی کا خاطر خواہ انتظام نہیں تھا اس لیے زیادہ تر گودام کے طور پر استعمال ہوتے تھے میں وہائش کے طور پر ایک کمرہ لے لیا اور ٖسل میرا کا انتظام ساتھ کی ایک مارکیٹ کے حمام میں سوچنے لگا اگر اس سے شادی کرلی تو پھر اسے کہاں رکھوں گا لڑکی کو صرف اپنی جسمانی خواہشات کیلئے بلکہ اس کی ضروریات کا بھی بورا خیال رکھنا پڑتا ہے مگر وہ جن زادی ہوتی ہے شاید اس کی ضروریات ایسی نہ ہو جیسی انسانوں کی ہوتی ہے

۔۔جاری ہے

طرح طرح کے خیالات میرے ذہن میں آکر رہے تھے ایسا نہ یو کہ میرے تمام منصوبے خاک میں مل جائیں اور میرے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے لیکن ابھی تک صرف امید پر ہی دار ومددار تھا کمرے میں پہنچ کر میں لیٹ گیا اور مسلسل کافی دیر تک سوچوں میں گم رہا اگر بالفرض شادی ہو بھی جائے تو اسے کہاں رکھوں گا یہ سوال بار بار میرے ذہن میں اٹھا رہا تھا پہلے سوچا کہ پیو سے مشورہ کر لو پھر میں نے سوچا کہ پیو تو بالکل اس مسئلہ پر راضی نہیں ہوگا وہ مجھے بالکل اس سے شادی نہیں کرنے دے گا میں سوچوں میں صوبا نہ جانے کس وقت سو گیا اانکھ کھلی تو دس بج رہے تھے میں نے ناشتہ کیا اور باہر بے مقصد گھومنے لگا ظاہر ہے اس وقت کام کہاں سے ملتا میں پیدل ایک فٹ پاتھ پر جا رہا تھا

۔۔جاری ہے

کہ اچانک ایک کار میرے پاس آکر رک گئی کار ایک نوجوان لڑکی چلا رہی تھی سنو یہاں سے ایمپریس مارکیٹ کتنی دور ہے میں نے اشارے سے بتایا کہ اس طرف ایک آدھ کلومیڑ وہ بولی اگر آپاسی طرف جا رہے ہیں تو پلیز ہمیں وہاں تک گائیڈ کر دیں میں تذبذب میں پر گیا
کہانی ابھی جاری ہے بقیہ حصہ جاری شیئر کردیا جائے گا

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔