فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا قسط 9

رضوانہ ایک اسٹیٹس کی ماری لڑکی تھی جس کے لیے پیسہ اور دنیاوی لوازمات اہم تھے مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا میں محظ اسے ایک شوخ چنچل اور بھولی بھالی لڑکی سمجھتا تھا یہ راز مجھ پر اُس دن کھلا جس دن ہلکی ہلکی بارش کا سمان تھا میں ناشتے کے بعد اپنے لان میں ٹہل رہا تھا میرے ذہن میں ایک خیال آیا کیوں نہ رضوانہ سے ملا جائے موسم بھی اچھا ہے خوب گپ شب رہے گی میں یہ سوچ کر۔۔جاری ہے

اس کے گھر کو چل پڑا اُن کا گیٹ کھلا تھا اور چوکیدار بھی نہیں تھا شائد باہر نکلا ہو میں سوچتا ہوا اندر چلتا گیا میں ہال کے باہر میرے قدم رک گئے اندرسے رضوانہ اوراس کی ماں کی قہقہوں کی آواز آرہی تھی رضوانہ ماں سے کہہ رہی تھی آنٹی آپ فگر نہ کریں میں اس کاٹھ کے اُلو کو ضرور پھانس کر رہوں گی آنٹی یہ اپنی ماں کو آنٹی کیوں کہہ رہی ہے میں سوچنے لگا مگر دوسرا جملہ مجھے ہلا گیا عرفان ایک بے وقوف اور سیدھا سادھا آدمی ہے اب کی بار ماں جیسے رضوانہ آنٹی کہہ رہی تھی وہ بول رہی تھی تم اسے پوری کوشش کروگی بھنس جائے اور جلد ازجلد اس علاقے میں یہ ہماری پہلی اور آخری واردات ہوگی یہاں کوٹھیاں تو اچھی ہیں مگر لوگ پھٹیچر سے ہیں یہی ایک کام کا آدمی نظر آئا ہے روزی اسے کہہ کر مخاطب کر ہی تھی اوریہ وہی عورت تھی جو مجھے بیٹا بیٹا کہتے نہیں تھکتی تھی اتنی میٹھیزبان والی عورت اور اس وقت کیا زہر اُگل رہی تھی میں حیران رہ گیا رضوانہ بولی آنٹی آپ دیکھیں میں کیسے اس الو کو گدھا بناتی ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا اس مرتبہ میرا ڈاتمنڈ سیٹ پکا ہے۔۔جاری ہے

ارے بےبی تم فکر مت کرو بس تم شکار کو نکلنے نہیں دینا خان صاحب قہقہہ لگا کر بولے میرے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں تو یہ لوگ اتنے فراڈئے اوپر اوپر سے اتنے سنجیدہ اور معتبر بنتے ہیں اور اندر سے کتنے کھوٹے ہیں فراڈئیے کہیں کے تم لوگوں کو سبق سکھنانا پڑے گا میں چپکے سے واپس آگیا میرا دل بہت بے چین تھا یہ نئے فراڈ گروپ سے واسطہ پڑگیا پہلے ابھی فارغ نہیں ہوئے تھے میں انہی سوچوں میں گم اپنے گھر پہنچ گیا میرا دماغ آگے کی سوچ رہا تھا اب آگے کا کیا لائحہ عمل ہونا چاہیئے گھر تو بنا لیا اب شادی بھی کرنی ہے ماں باپ کو بھی لانا ہے اگر رضوانہ اچھی ہوتی تو نہیں نہیں وہ دھوکے باز ہے اسے میں ہرصورت سزادے کر رہوں گا دوسرے دن صبح صبح رضوانہ میرے لیے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر لے آئی ارے عرفان صاحب آج میرے ہاتھوں کا پکا ناشتہ کریں وہ مسکرا کر بولی میں بھی جوابا مسکرایا۔۔جاری ہے

دل ہی دل میں سوچنے لگا ناگن کتنی چالباز ہے مگر تم بھی کیا سوچوگی کس آدمی سے پالا پڑا ہے یہ تمہارا اس علاقے میں نہیں بلکہ اس دنیا میں آخری فراڈ ہوگا ڈاکڑکی معلومات میں نے لے لی تھیں ڈاکٹر خان کوئی ڈاکٹر واکٹر نہیں تھا ایک ہسپتال میں کسی ڈاکٹر کا اسٹنٹ تھا مگر مجھے تو سو فیصد جعلی معلوم ہو رہا تھا ان کا دھندہ ہی یہی تھا امیر مردوں کو پھانسنا اور لڑکی کی ادائیں دکھلا کر لڑکے کو شادی پر مجبور کرنا اور مال اینٹھنا اس گروپ میں اور کتنے لوگ شامل تھے یہ مجھے نہیں معلوم تھا یہی جاننا تھا رضوانہ میرے سامنے بیٹھی تھی میں وہ تھرموس سے چائے کپ میں ڈال ہی تھی میں آہستہ سے بولا اور کتنے لوگ شامل ہیں تہمارے گروپ میں میری بات پر وہ ہکی بکی میری طرف دیکھنے لگی کیا کہہ رہے ہیں آپ عرفان صاحب کون سا گروپ وہ ہکلانے لگی دیکھو روزی وہ اپنا نام سن کر مزید پریشان ہوگئی مجھے سچ سچ بتا دو تم لوگ میرے سامنے ابھی بچے ہو وہ اُٹھ کر بھاگنے لگی مگر وہ ایسے لیسے بھاگ سکتی تھی دروازہ تو میں بند کرکے لاک کر چکا تھا وہ دروازے کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر بے۔۔جاری ہے

سود وہ واپس مڑی دروازہ کھول پلیز مجھے جانا ہے اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑرہی تھیں نہیں بےبی ایسے کیسے تم اس وقت تک نہیں جاسکتی جب تک میں نہ چاہوں میں اسے کلائی سے پکڑ کر نیچے تہہ خانے میں لے گیا وہ اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کر ہی تھی مگر بے سود میں اسے تہہ خانے میں لے جاکر بند کر دیا وہ روتی ہی چلاتی رہی مجھے اچانک پتہ نہیں کیا ہوگیا میں اسے بھانگ سزا دینے پر تل گیا میں دو گھنٹے تک لان میں ٹہلتا رہا اور پھر سو گیا شام کے وقت میں باہر آیا اور لان میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اچانک اُنکا نوکر ہماری کوٹھی میں داخل ہوا اورسیدھا میرے پاس چلا آیا صاحب جی رضوانہ بی بی تو نہیں آئیں یہاں صبح ٓئی تو تھیں مگر ناشتہ دینے کے بعد اسی وقت چلی گئیں کیا وہ گھر نہیں پہنچیں نہیں صاحب جی بی بی کی والدہ والد بہت پریشان ہیں بی بی تو گھر نہیں پہنچیں میں بظاہر چہرے پر پریشانی لاکر اس کے ساتھ رضوانہ کی کوٹھی چل گیا۔۔جاری ہے

اس کی ماں جسے وہ آنٹی کہہ رہی تھی اور باپ خان بہت پریشان تھے مجھ سے پریشانی کے عالم میں پوچھنے لگے بیٹا رضوانہ تمہارے پاس آئی تھی جی انکل مگر وہ تو اسی وقت ناشتہ دے کر چلی گئی میں نے کہا میں چہرے پر بالکل سچ کی سنجیدگی سجائے تھا وہ تو پھر کہاں گئی اس کا باپ پریشانی سے بولا پلیز بیٹا اسے ڈھونڈو وپ پتہ نہیں کہاں چلی گئیاتنی دیر تو وہ کبھی گھر سے باہر نہیں رہی فیشن ایبل آنٹی بولی اچھا آنٹی میں دیکھتا ہوں میں ان کی کوٹھی سے باہر آیا اور بت معصد سڑکیں گھومنے لگا ایک گھنٹہ گھوم پھر کر میں واپس ان کی گھر گیا تو ایل پولیس والا بیٹھا تھا یہ وہی سپاہی تھا جو مجھ سے تھانے میں ایس ایچ او کی معافی کےلیے میرے پائوں پڑا تھا مجھے دیکھ کر اُٹھ کر سلام جھاڑنے لگا میں سلام کا جواب دیا اور کہا یار ان کی بیٹی لا پتہ ہے صبح سے آپ ان کو دھدنڈنے میں مدد کریں صاحب جی اسی سلسلے میں انہوں نے ہمیں بلوایا ہے میں رپورٹ لکھ رہا ہوں اچھا وہ کچھ دیر ان سے سوالات کرتا رہا مجھ سے بھی پوچھا وہ صبح کتنے بجے آپ کے پاس آئی پھر کہاں گئی میں نے اسے مکمل پرکردیا انہیں مجھ پر زرہ برابر بھی شک نہیں تھا میں ان سے اجازت لے کر گھر آگیا میں نے نور خان سے کھانا لانے کے لیئ کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا میں اپنے نوکر کو بھی اس راز میں شریک نہیں کرسکتا تھا۔۔جاری ہے

جب نور خان کھانا لایا تو میں نے وہی کھانا اپتھایا اور نیچے تہہ خانے چلاگیا دیکھا تو رضوانہ فرش پر بیٹھی رو رہی تھی مجھے دیکھ کر ایک دم اُٹھ کھڑی ہوئی میرے پائوں میں گر پڑی خدا کے لیئے مجھے نکالو میں تم سے معافی چاہتی ہوں خدا کے لیے وہ زاروزار رونے لگی میں نے پاس پڑی کُرسی کھینچی اور اس پر بیٹھ گیا یہ کو کھانا کھائو میں نے کھانا فرش پر رکھا نہیں مجھے نہیں کھانا پلیز مجھے نکلاو میں یہاں گھٹ گھٹ کر مرجائون گی میں قہقہہ لگانے لگا نہیں بے بی اتنی جلدی کیا ہے ابھی تمہیں نہین نکال سکا تم آرازم سے کھانا کھائو وہ میرے طرف دیکھنے لگی تو کیا اگر میں کھانا کھالوں تو مجھے جانے دو گے ہاں میں نے اسے دلاسہ دیا اوہ ندیدوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑی کھانا کھانے کے بعد بولی چلو مجھے نکاکو نہیں بےبی پہلے تم مجھے بتائو تم نے مجھے چکر دینے کا پلان کیوں بنایا وہ خاموش نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولی میں فراڈ نہیں میں خود کسی کے ہاتھوں پھنس چکی ہوں میں مجبور ہوں اچھا بے بی تو ٹھیک ہے نہ بتائو یہاں پر ہی گلتی سڑتی رہو میں اُٹھنے لگا۔۔جاری ہے

تو وہ پھر اُٹھ کر میرے گھٹنے پکڑنے لگی پلیز مجھے جانے دو میں سب سچ بتادوں گی میں رک گیا نہیں ابھی بتائو وہ یچکیاں لینے لگی میں پھر بیٹھ گیا چلو شاباش بتائو وہ پھر زار وزار رونے لگی اوہو بتائی ہو یا میں جائوں میں نے کہا تو وہ کہنے لگی بتاتی ہوں یہ اُن دونوں کی بات ہے وہ اپنی کہانی سنانے لگی ۔۔۔

کہانی کا بقیہ حصہ جاری شیئر کردیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں