جن زادی ایک انوکھی کہانی 4

ہم دونوں کھانے کا آرڈ کرنے کے بعد آرادم سے بیٹھ گئے وہ پر اشتیاق نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی لیکن میں جانتا تھا کہ اسے مجھے سے کوئی نہ کوئی غرض تھی اسی لئے وہ میری خاطر مدارت کر رہی تھی مس فوزیہ مجھے تسلی سے بتائیں آُ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے آپ کی مدد کرکے مجھے خوشی ہوگی اور میں اس کے عوض آپ سے کچھ نہیں چاہتا میں نے خوش دلی سے اسے آفر کی میری بات سن کر اس نے  قہقہہ لگایا مسٹر رضوان اس دنیا میں کوئی بھی غرض کے بغیر سودا نہیں کرتا نہیں

فوزیہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے نہ ہی ہر کوئی بکائو مال ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی بے ایمان ہوتا ہے جس طرح پانچ انگلیاں ایک جیسی نہی اس طرح ہر انسان ایک جیسا نہیں آپ کو شدید قسم کی غلط فہمی ہے کہ دنیا میں ہر کوئی ایک جیسا ہے مسٹر رضوان بات تو آپ بہت اچھی کر لیتے ہیں امید ہے کہ آپ دل کے بھی اتنے ہی صاف ہوں گے اتنی دیر میں ویٹر کھانا لے کر آگیا کھانا بہت مزے دار تھا ہم دونوں نے ضرورت سے زیادہ ہی کھا لیا کھانے کے بعد وہ ٹشو سے منہ صاف کرتے ہوئے بولی جی مسٹر رضوان تو بات دراصل یہ ہے کہ میں ایک مشکل میں پھنسی ہوئی ہوں میرے والد صاحب کا چھ ماہ پہلے انتقال ہوگیا تھا اوپ مس فوزیہ سن کر افسوس ہوا میں تاسف سے کہا میری والدہ کا میرے بچپن میں ہی انتقال ہوچکا تھا فوزیہ بات جاری رکھے ہوئے تھیاور والد صاحب کے انتقال کے بعد میرے لئے ایک بہت بڑی مشکل کھڑی ہوگئی دراصل انہوں نے چھ سال پہلے ایک عورت سے شادی کرلی تھی وہ اس عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے مگر کسی مجبوری کی بنا پر انہیں ایسا کرنا پڑا لیکن انہوں نے میرے خوف کی وجہ سے اسے گھر لے کر نہیں آئے بلکہ ایک الگ گھر لے کر اس میں رکھا مجھے اس بات کا پتہ کافی دیر بعد چلا اور میں ان سے ناراض بھی ہوئی مگر انہوں نے مجھے پیار محبت سے منا لیا اور اپنی مجبوری بتائی دراصل وہ پاپا کے بزنس پارٹنر کی بیٹی تھی اور ان کے بزنس پارٹنر کے انتعال کے بعد میرے پاپا ہی کو ان کا خیال رکھنا تھا کاروبار کے دوسرے لوگوں کے کہنے پر پاپا نے اس سے شادی کرلی اس کے والد صاحب انتعال سے پہلے ہی میرے والد سے اپنی پارٹنر شپ ختم کرچکے تھے

پاپا کا ان کے ساتھ کوئی لین دین نہیں تھا مگر اب شادی کے بعد وہ میرے پاپا سے اکثر جھگڑا کرتی رہتی کہ کاروبار میں وہ برابر کی حصہ دار ہے پاپا نے اسے تمام کاغذ دکھائے اور تمام ثبوت دیے حتیٰ کہ کاروباری لوگوں کے سامنے تک جروایا لیکن وہ اس بات کو ماننے پر تیار نہیں تھی دراصل اسے میری طرف سے خوف تھا کہ میں اسے پاپا کے بعد کسی طور پر بھی قبول نہیں کروں گی نہ ہی کاروبار میں اور نہ گھر میں پاپا نے اپنے انتعال سے قبل اپنی 30 فیصد پراپرٹی جائیداد اور کاروبار اس کے نام کر دیا تھا لیکم وہ اسی صورت میں ہوسکتا تھا جب میری شادی یو اور شادی کے بعد میں اپنے 70 فیصد کی مالھ بن جائوں گی لیکن اس نے میرے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے یہ دعویٰ دائر کردیا ہے کہ و ہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ کی مالک ہیں اب وکیل مجھے جلد از جلد شادی کا مشورہ دے رہا ہے اگر وہ اچھی عورت ہوتی تو میں ۷۰ فیصد بھی اس دے دیتی مگر وہ اچھے کردار کی عورت نہیں ہے اس لیے میں اس کے حق سے زیادہ نہیں دینا چاہتی فوزیہ کیانی سنانے کے بعد خوموش ہوگئی لیکن فوزیہ اس سلسلے میں آُ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں یہ تو آپ کا قانونی جھگڑا ہے اور گھر کی بات ہے جی نہیں مسٹر رضوان آپ ہی میری مدد کرسکتے ہیں میں حیران ہو کر بولا کیسے میں آپکی مدد کرسکتا ہوں مسٹر رضوان آپکو میا جھوٹا خاوند ہونے کا ڈرامہ کرنا پڑے گا میرا اور آپ کا ایک جعلی نکاح نامہ تیار کیا جائے گا جس کے تحت میں آپکی بیوی بن کر رہو گی لیکن یہ صرف میرے اور آپ کے درمیان ہو گا کہ ہم جعلی میاں بیوی ہوں گے جیسے ہی عدالتی کاروائی ختم ہوگی تمام جائیداد میرے نام ہوگی اس کے بعد میں آپ کا معاوضہ دے کر الگ کر دوں گی اگر آپ میرے کاروبار میں میرا ہاتھ بٹا چاہیں تو میں آپ کو نوکری دے سکتی یوں لیکن یہ راز بھی ہمارے درمیان ہوگا کہ آپ میرے ورکر ہوں گے دکھاوے کے لئے آپکو میرا شوہر بن کر میرے گھر رہنا ہوگا فوزیہ کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اپما مطلب حاصل کرنے کے لئے یہ لڑکی ہر حد تک جانے کو تیار تھی

مسٹر رضوان سوچئے ہمت آپ اپنی زندگی بدلنے کا گولڈن چانس ضائع نہ کریں وہ مجھے لالچ دیتے ہوئے بولی ٹھیک ہے فوزیہ میں آپکو سوچ کر جواب دوں گا میرا خیال ہے آب ہمیں چلنا چاہیے اس کی بات نے مجھے الحجھن کا شکار کردیا تھا اس نے ویٹرسے بل منگوایا اور بل ادا کرکے ہم باہر نکل آئے مسٹر رضوان آپ جہاں جانا چاہیں میں آپ کو چھوڑ سکتی ہو بس آپ مجھے اگلے چوک پر اتار دیئجے گا فوزیہ سے رخصت ہونے کے بعد میں سیدھا اپنے کمرے میں آگیا میرا ذہن متزلزل تھا ادھر زہرہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا وہ ابھی تک مجھ سے نہیں ملی تھی شام کو میں پیو کی دکان پر چلا گیا پیو کی دکان رات بارہ بجے بند ہونے تک میں اس کے پاس رہا اور منتظر تھا کہ شاید زہرا آئے لیکن وہ نہیں آئی یار پیو تجھ اسے ایک بات کرنی ہے میں نے پیو کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا اچھا بھائی دوکان کو تلا لگا لو پھر چلتے ہوئے بات کریں گے پیو نے دکان بند کی تو ہم دونوں وہاں سے باتیں کرتے ہوئے نکل آئے میں نے پیو کو فوزیہ کی آفر کے بارے میں ساری بات بتائی تو وہ کہنے لگا رضوان یہ موقع صائع نہیں کرنا چاہیے کچھ سرمایہ تیرے ہاتھ آئے گا تو اپنا کاروبار کرسکتا ہے میرا خیال یہی ہے کہ تمہیں اس کی آفر مان لینی چاہیے اگر تجھے اس کے ہاں نوکری بھی مل جائے تو تجھے اور کیا چاہیے

اس کے ساتھ شادی کا تھوڑا سا ڈرامہ کرنے میں کیا حرج ہے تیرا فائدہ ہو گا اسکی بات معقول تھی اسے رخصت ہو کر میں کمرے میں پہنچا تو رات گئے تک کروٹیں بدل بدل کر سوچ میں پڑا رہا پھر اس رات میں نے فیصلہ کرلیا کہ مجھے فوزیہ کی آفر قبول ہوگی دوسرے دن میں فوزیہ کے آفس صبح صبح پہنچ گیا چیڑاسی سے جاکر کہا کہ فوزیہ میدم سے ملنا ہے چیڑاسی مجھے گھورتے ہوئے بولا کیا کام ہے ان سے ارے تمہیں کیوں بتائوں تم کون ہونتے ہو پوچھنے والے میں نے جواب میں گصے سے آنکھیں دیکھائیں چپڑاسی بولا جانتے ہو میڈم اس دفتر کی سب سے بڑی افسر ہیں اس لئے ان سے پوچھے بغیر میں تمہیں نہیں جانے دوں گا ارے تو تمہیں کس نے روکا ہے انہیں بتائو کے رضوان صاحب آئے ہیں چپڑاسی غصے سے اندر چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد آیا اور کہنے لگا سر اب اندر جاسکتے ہیں اب کی بار اس کا لہجہ مئودبانہ تھا میں مسکرا کر اندر چلا گیا فوزیہ مجھے دیکھ کر اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور میرا استقبال کیا آئے رضوان صاحب مجھے یقین تھا کہ آپ ضرور آنیگے اس نے مسکرا مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں کرسی پر بیٹھ گیا دفتر بہت اچھا بنا ہوا تھا دفتر میں موجود قیمتی ساماں ایک سے بڑھ کر ایک تھا مس فوزیہ مجھے آپ کی آفر منظور ہے میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس میں آُ کی مدد کا عضر شامل ہے اس میں میری اپنی غرض بھی شامل ہے میں نے دو ٹوک کہا

رضوان صاحب مجھے آپ کی بات بہت پسند آئی آپ بے شک کھرئ انسان ہیں آُ بیٹھئے میں ابھی آتی ہوں اتنا کہہ کر وہ دفتر سے بایر چلی گئی میں دفتر کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں آواز گونجی رضوان تم غلط کر رہے ہو اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا یہ سو فیصد زہرا کی آواز تھی
کہانی ابھی جاری ہے بقیہ حصہ جاری شیئر کر دیا جائے گا 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں