دنیا میں کتنا غم ہے پاکستان کے ایک خوبصورت اور باوقار شاعرمیاں بیوی کو کس کی نظر لگ گئی کہ آج دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور رو پڑتے ہیں پڑھیے ایک رلا دینے والی سچی کہانی

آج میں آپ کو ایسے انسان کی کہانی سناتی ہوں، جوزندگی کے مشکل ترین حالات سے وفاداری اور گریس کے ساتھ لڑ رہا ہے ۔ایسے لوگ نہ فیس بک کے ذریعے ٹریجڈی کی کہانیاں سنا کر ہمدردیاں بٹورتے ہیں ، نہ ہی مصیبت میں ساتھی کا ساتھ چھوڑ تے ہیں۔۔۔۔جاری ہے


نامورکالم نگارروبینہ فیصل اپنے اس کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔ سچے لوگ دنیا میں بہت کم ہیں ۔۔اگران لوگوں کو نظر انداز کیا جائے یا انکی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو دنیا میں کھوکھلا پن بڑھتا جائےگا ، گہرائی اور قربانی ختم ہی ہو جائیگی ۔وفا کے ایسے نایاب پر ندوں کو سنبھال کے رکھنا اور ان کی قدر کر نا ، ہمارا فر ض ہے ۔کیونکہ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی زندگی پر ٹوٹا ہوا اعتبار واپس جڑتا ہے ۔میں نے جب اعجاز رانا سے پو چھا ۔۔ بھائی ، صفیہ اب کیسی ہے ؟ کہنے لگے: ویسی ہی ہے ۔۔ پہلے پلکیں ہلا لیتی تھی ، اب ان کی حرکت بھی معدوم ہو تی جا رہی ہے ۔میں جب بھی ان سے صفیہ کا اور بچوں کا حال پو چھتی ہوں ، تو انکے جواب میں شامل حیرت بھی مجھ تک پہنچتی ہے جیسے کہہ رہے ہوں جب سارا شہر خاموش ہے تو آپ کو کیا فکر پڑی رہتی ہے ۔۔۔ایسی انسانی امیدیں ، اب انسان نے انسان سے لگانا چھوڑ دی ہیں ، اس بستی کو نہ جانے کب حیوانی بستی کہا جانے لگے۔میں بات کر رہی تھی اعجاز رانا کی اور شاعرہ صفیہ مریم کی ۔کچھ سال پہلے اس حسین جوڑے کو شائدٹورنٹو شہر کی نظر کھا گئی ۔لمبے قد کاٹھ کے ، دونوں میں سے کون زیادہ پیارا تھا ، کسی سے یہ فیصلہ نہ ہو تا تھا ۔جب اندر صفیہ کو اپنی شاعری پڑھنا ہو تی تھی ، وہ ڈسٹرب نہ ہو ، اعجاز بھائی بچوں کو باہر ہی مصروف رکھتے، خوبصورت جوڑا۔۔چار گول مٹول سے بیٹے۔۔مجھے نظر ِ بد پر کچھ ایسا یقین نہیں تھا ، مگر دیکھتے ہی دیکھتے ، جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ،میرا اعتقاد بھی متزلزل ہوا ۔ کوئی چھ سال پہلے جب صفیہ مریم اپنی امی کی موت کے بعد پاکستان سے آئی تو اس کی ایک انگلی اورپھر ہاتھ بے جان ہو نے لگا۔ اپنے بولنے کے دنوں میں ، وہ اپنے دوستوں سے بولتی تھی۔۔۔جاری ہے

کہ میری کتاب چھپ جائے ، تو مجھے سکون آجائےگا۔۔ اچھے لوگوں نے اسکی مدد کی ، اسکی شاعری کی کتاب چھپ گئی ، لیکن اس سے پہلے مفلوجیت ، انگلی سے ہو تے ہو ئے پو رے جسم میں پھیل چکی تھی ۔ جب اعجاز بھائی نے مجھے فون کر کے کہا ، روبینہ !! صفیہ کی کتاب آگئی ہے ۔ تو مجھے سمجھ نہ آئے کہ خوش ہو ںیا اداس ۔کیونکہ اس سے پہلے میں اور فیصل اسے ہسپتال میں دیکھ کر آچکے تھے ۔اس کا سارا دھڑ مفلوج ہو چکا تھا ، مگر کم بخت آنکھیں متحرک تھیں ، اور مجھے دیکھتے ہی آنسوﺅں سے بھر گئیں۔ LATERAL SCLEROSIS ALS AMYOTROPHIC جیسی انوکھی بیماری اسے دبوچ چکی تھی ،اس بیماری کی اذیت پسندی یہ ہے کہ ، سارے اعصاب کو مفلوج کر کے ، سننے ، سمجھنے کی صلاحیت کو برقرار رکھتی ہےاس دن عید تھی اور اعجازبھائی کی عید ہسپتال میں ہو رہی تھی ،انہوں نے صفیہ کے ناخنوں پر لال رنگ کی نیل پالش لگا رکھی تھی ، وہ مجھے آنکھوں کے اشارے سے دکھانے لگی ، میں نے اس سے ادھر ادھر کی باتیں کر نی شروع کر دیں ، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔ اسکی آنے والی کتاب کی باتیں اور اس سے وعدہ کیا ، کہ کتاب کی رونمائی کی تقریب کروائیں گے ۔اسکے آنسو اس کی گالوں سے پھسلنے لگے ۔ میں نے اسے کہا : تم بہت چالاکو ہو ،حساسیت کے ساتھ ، اس دنیا میں گذر بسر مشکل تھی ، دیکھو تم نے کمال سمجھداری کا ثبوت دی ااور آرام سے ، آگئی ، سب بلاﺅں سے بچ کر ، اور سکون سے اعجاز بھائی سے خدمت کروا رہی ہو۔ ،وہ کھلکھلا کر ہنس دی، اور فخر سے اپنے محبوب شوہر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔جاری ہے

اسے ہنسا کر میں نے اپنے آنسو نگلے اور اعجاز بھائی کو دیکھا جو آنکھوں میں سچائی ، شرافت ، محبت اور وفا لئے کسی چٹان کی طرح کھڑے تھے ۔آج ا س بات کو گذرے بھی چار سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے ۔اب تو صفیہ کی آنکھیں بھی رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑ رہی ہیں ۔مگر مجھے دیکھتے ہی وہ آج بھی چمکتی ہیں ۔ میں نے اعجاز بھائی سے پو چھا :آپ کو لوگ دوسری شادی کا نہیں کہتے ؟ “کینیڈا میں اکیلے ،چار لڑکوں کو سنبھالنا ، اور وہ کوئی افسر بھی نہیں ، پاکستان میں وکیل تھے مگر یہاں oddجاب ہی کرتے ہیں ،ایسی مشکل جاب، گھر ، بچے اور صفیہ ، سب کو سنبھالنا ۔۔ وہ صفیہ کو مستقل ، ہسپتال بھی چھوڑ سکتے ہیں۔اپنے لئے سٹریس فری زندگی کا دروازہ کھول سکتے ہیں ۔ مگر وہ وفا کی اس شمع کو ہاتھوں میں تھامے ہو ئے ہیں ، جو آج کی کالی دنیا میں تقریبا بجھ چکی ہے ۔”روبینہ ، آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ ، مجھے کئی رشتے آرہے ہیں ، خاندان سے اور باہر سے ، مری میں نے صفیہ سے محبت کی شادی کی تھی اور اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسکی جگہ کوئی اور عورت میری زندگی میں نہیں آسکتی۔انکی سبز آنکھوں میں روشنی تھی۔آپ کی زندگی بے رنگ ہو گئی ہے ۔ خود پر خوشیوں کے دروازے بند نہ کریں ، بچوں کو بھی ماں کی ضرورت ہو گی۔۔۔”میں نے روایتی فقرے کہے ۔۔خوشیوں کے دروازے ایک ہی انسان کے ساتھ کھلتے ہیں ،۔۔۔جاری ہے

ہم انسان ہیں ، جانور نہیں جو ساتھی بدلتے رہیں ۔ اور بچوں کی ماں کوئی اور عورت نہیں بن سکتی۔میں اسے اس امتحان میں کیوں ڈالوں ؟ اپنے آرام کے لئے ؟۔۔۔”اس محبت ، وفا اور سچائی کی چٹان کے آگے میں نے دل ہی دل میں سر جھکایا ۔کون کہتا ہے کہ مرد بے وفا ہو تے ہیں ۔ مرد ہی توفادار ہو تے ہیں ، جو بے وفا ہو تے ہیں وہ مرد کب ہو تے ہیں

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں