دو عورتیں ایک کہانی لمبے قد اور صحت مند ہونے کی وجہ سے وہ اٹھارہ برس کی لگ رہی تھی

نویدہ خالہ، باجی کے پڑوس میں رہتی تھیں۔ ان کی بیٹی ماریہ بڑی حسین تھی۔ شومئی قسمت ان کی کفالت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ خالہ گھر چلانے کے لئے گڑ کی مٹھائی بنا کر بیچتی تھیں۔ اس قلیل آمدنی میں گزارہ ممکن نہ تھا۔ خالہ نے اپنے بھائی وصی کو خط لکھا کہ گھر میں فاقے ہورہے ہیں۔ تم سعودیہ عربیہ میں ہو۔ ہوسکے۔۔۔جاری ہے

تو ہر ماہ کچھ رقم بھیج دیا کرو۔ وصی کو انہی دنوں ایک اچھی ملازمت ملی تھی۔ سوچا کہ شاید بیوہ بہن کی کفالت کے لئے اللہ نے رزق کا یہ در کھولا ہے۔ وہ ہر ماہ نویدہ خالہ کو ایک معقول رقم بھجوانے لگا۔دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کے میسر آنے لگی تو خالہ نے بیٹی کے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ چاہتی تھیں کہ کسی اچھے گھرانے کا رشتہ آجائے تو وقت پر ہاتھ پیلے کردیں لیکن ماریہ دوسری طرح کی لڑکی تھی۔ وہ خود کو منوانا اور کچھ کرکے دکھانا چاہتی تھی۔ آزاد خیال تھی اور کسی کا دبائو قبول نہ کرتی تھی۔ اسے نت نئے لباس پہننے کا شوق تھا۔ گھر کے کاموں میں دلچسپی نہ تھی، ہر وقت بن ٹھن کر رہتی تھی۔ ماں اسے روکتی ٹوکتی لیکن وہ ماں کا کہنا بالکل نہیں مانتی تھی۔ جب جی چاہتا، بن بلائے مہمان کی طرح ہمارے گھر آبیٹھتی۔ میرے بہنوئی صبح سے کام پر چلے جاتے اور باجی کھانا پکا کر اپنے کمرے میں جا کر سو جاتیں۔ تبھی وہ دبے قدموں صحن سے گزر کر مدثرکے کمرے میں گھس جاتی۔باجی کے دیور کا نام مدثر تھا اور اس کا کمرہ الگ تھلگ تھا۔ ان دنوں میری عمر دس بارہ برس تھی۔ ماریہ مجھے اشارے سے بلا کر کہتی۔ چائے بنا دو۔ میں کچن میں جاکر چائے بنا کر لے آتی۔ ان دنوں کسی بات کا شعور نہ تھا۔ ماریہ، مدثر کے ساتھ جو باتیں کرتی، وہ کچھ سمجھ میں آتیں اور کچھ نہ آتیں۔ میں اس کی گرویدہ تھی۔ وہ اپنے گھرسے میرے لئے گڑ کی مٹھائی اور تل کے لڈو ضرور لے کر آتی تھی۔ یہ مٹھائی مجھے بہت پسند تھی شاید اسی سبب وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔۔۔۔جاری ہے

ماریہ کا ہمارے گھر آنا میری بہن کو پسند نہ تھا لیکن خالہ نویدہ کی وجہ سے اسے کچھ نہ کہتی تھیں مگر مجھے منع کرتیں کہ اس لڑکی سے زیادہ گھلنا ملنا ٹھیک نہیں، یہ اچھی لڑکی نہیں ہے۔ اپنی بہن کی یہ روک ٹوک مجھے ناگوار گزرتی تھی۔ سوچتی کہ ایک یہی تو ہے جس کی وجہ سے میرا دل یہاں لگا رہتا ہے، ورنہ باجی کے گھر میں تو بوریت برستی تھی۔ ان دنوں وہ امید سے تھیں، ان کی طبیعت خراب رہتی تھی۔ کسی سے بات نہ کرتیں۔ تھوڑا سا کام کرتیں اور جاکر کمرے میں لیٹ جاتیں۔ باجی کی ساس بوڑھی تھیں، وہ بھی اپنے کمرے میں لیٹی رہتی تھیں۔ ان کی دیکھ بھال ایک رشتے دار عورت کرتی تھی جو صبح دس بجے آتی اور شام پانچ بجے گھر چلی جاتی تھی۔ ایسے ماحول میں بھلا کوئی بچی کیسے خوش رہ سکتی تھی۔ امی، بھائی کے پاس دبئی گئی ہوئی تھیں، اس لئے مجھے باجی کے پاس رہنا پڑا تھا۔ لڑکیاں تو اپنی ہم جولیوں میں ہی خوش رہتی ہیں۔ مجھے تنہائی کا احساس ستاتا تو ماریہ سے باتیں کرنے لگتی تھی۔ وہ بھی خوب پیار جتلاتی۔ وہ میرے احساسات سمجھتی تھی۔باجی کو ماریہ کی وجہ سے کافی الجھن محسوس ہوتی لیکن میں یہاں کچھ عرصے کے لئے آئی تھی، اس لئے وہ مجھ پر سختی نہ کرتی تھیں۔ مجھے جب موقع ملتا، چھت پر جاکر ماریہ کو بلاتی۔ وہ فوراً آجاتی۔ مدثر گھر نہ ہوتا تو مجھ سے باتیں کرتی۔ اس کی باتیں ایسے موضوعات پر ہوتیں جو نوعمر لڑکی کے دل کو گدگداتے ہیں۔باجی کا گھر ایسی جگہ تھا جہاں باہر کی طرف جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ جب وہ سو رہی ہوتیں، ماریہ اور میں گھر سے نکل کر جھاڑیوں میں بیٹھ جاتے۔ یہاں کی ٹھنڈک اچھی لگتی۔ سامنے ہوٹل تھا۔ وہ پوچھتی۔ بینا…! کیا گرم گرم سموسے کھائو گی؟ چٹنی کے ساتھ بڑا مزہ آئے گا۔ میرے منہ میں پانی بھر آتا۔ سامنے ہی کڑھائی میں ہوٹل کا ملازم سموسے بنا رہا ہوتا۔ یہ ایک خوبرو نوجوان تھا جو کسی دوسرے شہر سے تلاش روزگار کے لئے آیا تھا اور اس چائے خانے پر ملازم ہوگیا تھا۔ اس کا نام وزیر تھا۔۔۔۔جاری ہے

باجی سو جاتیں تو ماریہ مجھے جھاڑیوں میں لے جاتی۔ خود ایک پتھر پر بیٹھ جاتی اور کہتی۔ یہ لفافہ جاکر وزیر کو دے دو اور کہو کہ اس میں سموسے ڈال دے، لفافے میں پیسے ہیں۔ میں لفافہ نہ کھولتی اور جاکر اس لڑکے کو تھما دیتی۔ وہ اس میں سے خط نکال لیتا اور گرم گرم سموسے ڈال دیتا ساتھ چٹنی کی تھیلی بھی…! یوں وہ روز اپنے پیسوں سے سموسے منگوا کر مجھے کھلاتی اور خود بھی کھاتی۔ یہ گویا ایک طرح کی پکنک تھی ہمارے لئے! اس ہوٹل کے اسٹور کی کھڑکی جھاڑیوں کی طرف کھلتی تھی۔ وہ اس کھڑکی میں آکر ماریہ سے باتیں بھی کرتا۔ وہ عجیب لڑکی تھی۔ اتنی بے باک تھی کہ مجھے ڈر لگتا لیکن اسے کسی کا ڈر نہ تھا، جیسے کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہ ہو۔ باپ کا سایہ سر پر تھا اور نہ کوئی بڑا بھائی تھا اس کا…! شاید اسی وجہ سے وہ اتنی دلیر ہوگئی تھی۔ماریہ نے چھٹی کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ وہ تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا جانتی تھی، مگر ظاہر کرتی جیسے اسے بہت کچھ آتا ہے۔ گلی کے لڑکوں سے بھی ہنس ہنس کر باتیں کرتی۔ ان دنوں اس کی عمر سولہ سال ہوگی لیکن لمبے قد اور صحت مند ہونے کی وجہ سے وہ اٹھارہ برس کی نظر آتی تھی۔ایک دن مدثر نے باجی سے کہا۔ بھابی جان! کیا آپ کو پتا ہے کہ ماریہ اس ہوٹل والے لڑکے وزیر کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ میں نے خود اسے لاری اڈے پر اس کے ساتھ جاتے دیکھا ہے۔ آپ جاکر اس کی ماں کو بتایئے۔مجھے کیا پڑی ہے، وہ بھاڑ میں جائے۔ یہ کہہ کر میری بہن نے حقارت سے منہ پھیر لیا۔ مدثر کو مگر چین نہ تھا۔ وہ ان کے سر ہوگیا کہ جاکر نویدہ خالہ کو بتائیں وہ بھاگ گئی ہے۔ بھاگ گئی ہے تو اچھا ہوا ہے۔ ہمیں کیا…؟ میں نہیں جاتی اس کی ماں کو بتانے۔ تم بھی چپ رہو، خود ہی جان لے گی وہ اپنی بیٹی کے کرتوت…!مدثر تو چپ ہوگیا مگر زمانہ کہاں چپ رہتا ہے۔ اگلے دن ہر طرف یہی چرچے تھے کہ نویدہ کی لڑکی بھاگ گئی ہے۔ دراصل محلے والے بھی اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے، بلکہ اس کی ماں کو الزام دیتے تھے کہ اس نے لڑکی کو اتنی ڈھیل دی ہوئی ہے۔ انہوں نے نویدہ خالہ سے کوئی ہمدردی نہ کی۔ وہ رو رو کر بیٹی کو پکارنے کے سوا کچھ نہ کرسکیں۔ بھلا وہ کیا کرسکتی تھیں۔ ان کا کون تھا ساتھ دینے والا! ایک بھائی وہ بھی ہزاروں میل دور سعودی عربیہ کے کسی مقام پر کام کرتا تھا۔ وہ بھلا کیونکر ان کی پکار سنتا۔۔۔۔جاری ہے

مدثر کا ایک دوست توقیر لاہور کے ایک فلم اسٹوڈیو میں کام کرتا تھا۔ اس نے مدثر کو فون کیا کہ تمہارے پڑوس میں جو لڑکی رہتی تھی، وہ یہاں آئی ہوئی ہے اور فلم میں کام کرنا چاہتی ہے۔ توقیر ایک بار مدثر سے ملنے آیا تھا اور وہ ماریہ کو دیکھ چکا تھا، تبھی پہچان گیا اور فون کردیا۔ مدثر نے پوچھا۔ کس کے ساتھ ہے اور کہاں ٹھہری ہوئی ہے، اتا پتا بتائو تو میں اس کی ماں کو خبر کروں۔جس لڑکے کے ساتھ آئی ہے، میں اسے نہیں جانتا مگر اس لڑکے کا ایک رشتے دار یہاں فلم اسٹوڈیو میں ایکسٹرا کا رول کرتا رہا ہے۔ یہ لوگ اسی کے گھر ٹھہرے ہوئے ہیں۔مدثر نے دوست سے رابطہ رکھا۔ کچھ دنوں بعد اس لڑکے کا دوبارہ فون آیا کہ ماریہ کو ایک فلم میں ایکسٹرا کا رول مل گیا ہے اور اب اسے دوسری لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کی پریکٹس کروائی جارہی ہے۔ ماریہ کے بارے میں کچھ دنوں بعد توقیر نے مدثر کو ایک نئی خبر دی کہ وہ ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ گھل مل گئی ہے جو فلم میں ہیرو کے روپ میں جلوہ گر ہونا چاہتا ہے۔ ایک امیر باپ کا بیٹا ہے۔ خوبصورت اور ہینڈسم ہے اور فلمساز کو سرمایہ فراہمکرنے کے بدلے میں ہیرو بننا چاہ رہا ہے لیکن اسے اداکاری نہیں آتی۔ اس کا نام ولید ہے۔ولید کا باپ شہر کا ایک معزز تاجر تھا اور یہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ باپ اس کی ہر آرزو پوری کرتا تھا۔ ولید نے ماریہ کو دیکھا تو اسے یہ لڑکی بھا گئی۔ ولید نے ماریہ سے شادی کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بات وزیرخان اور اس کے رشتے دار نوجوان کے لئے صدمے کا باعث بنی۔ ماریہ نے ان لوگوں کو دھتکار دیا اور ولید کی دی ہوئی رہائشگاہ میں رہنے لگی۔ وزیر سخت برہم تھا۔ ماریہ اسے شادی کا خواب دکھا کر یہاں تک پہنچی تھی اور اب وہ اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتی تھی۔ وہ اسٹوڈیو ولید کی گاڑی میں آنے جانے لگی۔ ایک روز جبکہ ماریہ اسٹوڈیو آئی ہوئی تھی، دوست نے وزیر کو فون کردیا۔ وہ بھی وہاں آکر ماریہ سے جھگڑنے لگا کہ تم میرے ساتھ آئی تھیں، تو اب میرے ساتھ چلو ورنہ اچھا نہ ہوگا، تم نے مجھے دھوکا دیا ہے، جبکہ تمہاری خاطر میں نے نوکری چھوڑی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پولیس میں تمہارے کسی رشتے دار نے رپورٹ درج کروا دی ہو تو پھر پولیس بھی میرے پیچھے ہوگی۔ میں تو تمہارے چکر میں کہیں کا نہ رہا۔ ابھی ان میں جھگڑا ہورہا تھا کہ ولید وہاں آگیا جو فلمساز کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے جو وزیر کو ماریہ سے جھگڑتے دیکھا، اسے سخت غصہ آیا۔ وزیر کی سخت لہجے میں بے عزتی کی کہ تمہیں یہاں سے دھکے دے کر نکلوا دوں گا۔ دفع ہوجائو اور آئندہ کبھی ادھر نظر مت آنا۔ پھر اس نے ماریہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گیا۔ وزیر اپنی اس توہین پر سر تا پا جل کر بھسم ہوگیا۔ اس نے قسم کھائی کہ ماریہ کو اس کی بے وفائی کا مزہ چکھا کر رہے گا۔۔۔۔جاری ہے

ولید، ماریہ کو لے کر اپنے گھر گیا اور والدین سے کہا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ باپ نے فلموں میں کام کرنے کی خواہشمند اس لڑکی کو بہو بنانے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ جو لڑکی گھر چھوڑ کر یہاں تک آگئی ہے، وہ بہو بنانے کے لائق نہیں ہے۔ ولید نے اصرار کیا تو باپ نے اسے گھر سے نکال دیا۔ولید، ماریہ کو لے کر اپنے ایک دوست کے خالی فلیٹ میں آگیا اور اس سے کہا کہ جب تک وہ نکاح کا انتظام کرتا ہے، وہ یہاں رہے گی۔ وہ اس کی دیکھ بھال کے لئے آتا رہے گا۔ ولید نے یہ بھی ہدایت کی کہ اب وہ اسٹوڈیو نہیں جائے گی اور نہ کسی فلم میں کوئی رول کرے گی۔ ماریہ بہت خوش تھی کہ ولید جیسے خوبرو اور امیر لڑکے نے اسے اپنانے کا وعدہ کرلیا تھا اور رہائش بھی دے دی تھی۔ ضرورت کی ہر شے فلیٹ میں موجود تھی۔ اس نے اسٹوڈیو جانے کا ارادہ ترک کردیا کہ اب ایک اچھی زندگی کی امید روشن ہوگئی تھی۔ وہ خود بھی زندگی شریفانہ انداز سے گزارنا چاہتی تھی۔ باہر کی دنیا کی ایک جھلک دیکھ کر اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ فلم انڈسٹری میں ایک بے سہارا لڑکی کا بڑی اداکارہ بن جانا، دولت اور شہرت کمانا، کوئی آسان کام نہیں ہےایک دن ولید آیا تو اس نے کہا کہ وہ کچھ شاپنگ کرنا چاہتی ہے۔ ولید نے گاڑی اور ڈرائیور بھیج دیا۔ وہ بازار چلی گئی۔ وزیر اس کی تلاش میں تھا۔ دن، رات ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہیں نظر آجائے تو اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرلے۔ اس نے اپنے شہر سے دو دوستوں کو بلا کر اس مشن میں ساتھ ملا لیا جو اسلحہ رکھتے تھے اور اس کے رشتے دار بھی تھے۔ انہوں نے قسم کھائی کہ تم ہمارے بھائی ہو اور ہم تمہاری بے عزتی کا بدلہ لینے میں تمہارا ساتھ دیں گے۔جب ولید کی گاڑی اسٹوڈیو کے سامنے سے گزری تو انہوں نے گاڑی کا نمبر نوٹ کرلیا، جس میں ماریہ بیٹھی ہوئی تھی۔ انہوں نے گاڑی کا پیچھا کیا اور ماریہ کا ٹھکانہ معلوم کرلیا۔ ایک دن اس فلیٹ کے در پر دستک ہوئی جہاں ماریہ رہ رہی تھی۔ ماریہ نے یہ سمجھ کر دروازہ کھول دیا کہ ولید آیا ہوگا کیونکہ وہ اسی وقت آتا تھا اور اس کے سوا کوئی یہاں نہیں آتا تھا۔ دروازے پر جب اس نے وزیر کو دیکھا تو اس کی جان نکل گئی۔ وزیر! تم یہاں…؟ تم کیسے پہنچ گئے یہاں؟ لگن سچی ہو تو آدمی چاند پر بھی پہنچ جاتا ہے۔ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، تم کیا چیز ہو۔۔۔۔جاری ہے

کیوں آئے ہو، میں نے منع کیا تھا نا کہ میرا پیچھا چھوڑ دو۔ اب دوبارہ مت آنا، چلے جائو یہاں سے…! تم مجھے دھوکا دو اور میں اتنی آسانی سے چلا جائوں، ہرگز نہیں۔آخر تم چاہتے کیا ہو؟ کچھ نہیں بس! میری تھوڑی سی عرض سن لو تو میں پھر چلا جائوں گا۔ کہو! جلدی کہو اور جائو ایسا نہ ہو کہ ولید آجائے اور…!اس کا اتنا خیال ہے اور جس نے تمہاری خاطر زندگی دائو پر لگا دی، اس کا کوئی خیال نہیں۔ پہلے میرے ساتھ وقت گزارہ اور اب ولید کے ساتھ عیش کررہی ہو۔ یہ ٹھیک بات نہیں۔ بتائو کیا یہی ہے محبت…؟اف…! تم وہ بات کرو وزیر جو تم نے کہنی ہے۔ تمہارے لئے خوشخبری ہے میرے کزن کو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ماریہ کو ایک بار فلم اسٹوڈیو لے آئو۔ ہم اسے فلم میں ہیروئن کا رول دیں گے۔ میری بات کا یقین نہیں ہے تو تم خود چل کر ڈائریکٹر سے بات کرلو۔مجھے کوئی رول نہیں کرنا اب وزیر…! خدا کے لئے میرا وقت برباد نہ کرو۔ میرا پیچھا چھوڑ دو۔ چلے جائو یہاں سے…! وہ ہاتھ جوڑ کر بولی۔ تبھی وزیر نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور اسے کھینچتا ہوا فلیٹ کے اندر لے گیا۔ اس دوران اس کے دونوں دوست جو فلیٹ کے نیچے فٹ پاتھ پر کھڑے اس کا انتظار کررہے تھے، اوپر آگئے۔ فلیٹ کا دروازہ کھلا دیکھا تو اندر جھانکا۔ وزیر اور ماریہ میں ہاتھاپائی ہورہی تھی۔ وہ بھی فلیٹ میں گھس آئے اور تینوں نے مل کر ماریہ کو زندگی کی قید سے آزاد کردیا۔۔۔۔جاری ہے

آناً فاناً یہ لوگ وہاں سے نکلے۔ فلیٹ کو باہر سے بند کرکے گاڑی میں فرار ہوگئے۔ ولید جب فلیٹ پر آیا تو ششدر رہ گیا، کیونکہ دروازے پر قفل لگا ہوا تھا۔ وہ سمجھا ماریہ فلیٹ چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ اس نے اپنے دوست کو جو فلیٹ کا مالک تھا، فون کیا کہ فوراً آجائو، فلیٹ پر تالا پڑا ہے اور ماریہ فون بھی نہیں اٹھا رہی۔ مختیار جب آیا تو اس نے اندازہ لگا لیا کہ بات اتنی سادہ نہیں، معاملہ ٹیڑھا ہے۔ اس نے اپنے ایک واقف کار پولیس والے کو فون کیا۔ وہ لوگ فوراً آگئے۔ ان کی موجودگی میں جب تالا توڑا گیا، اندر ماریہ بے حس و حرکت پڑی تھی۔ وہ زندگی کی بازی ہار چکی تھی۔یہاں تک کا احوال مدثر تک پہنچا۔ اس کے بعد جانے کیا ہوا، مجھے نہیں معلوم! میرے اسکول میں گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوگئی تھیں۔ امی جان دبئی سے واپس آچکی تھیں۔ باجی نے مجھے واپس امی جان کے پاس بھیج دیا۔ آج سوچتی ہوں تو ساری باتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں جو اس وقت سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس واقعہ کو بڑی مدت ہوگئی ہے۔ شاید ماریہ کے اپنے بھی اسے بھلا چکے ہوں لیکن میں آج تک اس لڑکی کو بھلا نہیں سکی جو کسی پارے کی طرح تھی اور ایک لمحے کو بھی سکون سے نہیں بیٹھتی تھی۔ شاید اس کی اسی پارہ صفت شخصیت نے اسے موت سے ہمکنار کرایا۔ اکثر سوچتی ہوں۔۔۔جاری ہے

بعض لوگ کیوں اتنے پارہ صفت ہوتے ہیں؟ کیا چیز انہیں چین نہیں لینے دیتی، ہر دم بے چین رکھتی ہے؟ بالآخر اپنی اسی سیماب صفتی کے ہاتھوں موت کی نذر ہوجاتے ہیں۔ حالات ان کو بے چین رکھتے ہیں یا وہ پیدائشی اس طرح کے ہوتے ہیں، یہ بات آج تک میری سمجھ میں نہیں آسکی)

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں