فریب ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا 12

نور خان حیرت کے عالم میں میرے ہاتھ میں چاقو اور اس آدمی کی کئی ہوئی لاش کو دیکھ رہا تھا صاحب جی یہ آپ نے کیا کر دیا اب تو آپ قاتل بن چکے ہیں۔۔۔جاری ہے

نور خان مجھے دیکھ کر بولا مجھے اس وقت نور خان کا یہ کہنا بہت برا لگا بکواس بند کرو اور جلدی سے اس لاش کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست کرو میں نے نور خان کو بری طرح ڈانٹتے ہوئے کہا نور خان جلدی سے ایک بوری لے آئو اور اس لاش کو کہیں ٹھکانے لگائو نور خان کو ایک دم جیسے ہوش آیا وہ بھاگتا ہوا گیا اور ایک بوری اٹھا لایا ہم دونوں نے مککر اس لاش کو بوری میں باندھا اور پھر میں نے گاڑی نکلا کر لاش ڈکی میں رکھی اور نور خان کو پیچھے بیٹھا لیا ہم شہر سے باہر ایک نالے میں وہ لاش پھینک آئے نور خان مسلسل مجھے اپنی باتوں سے زدوکوب کر رہا تھا میں نے اسے پھر ڈانٹا کہ تم چپ رہو خبر دار جو اپنی زبان پر کوئی بات لائے وہ اس وقت خاموش ہوگیا مگر دوسرے دن دبے لفظوں میں کہنے لگا صاحب جی اپنے یہ اچھا کام نہیں کیا میں نے اسے سمجھایا کہ یہ سب مجبوری میں ہوا ہے شام کے وقت نور خان نے مجھے اطلاع دی کہ ایک پولیس والا بنگلہ کے گرد چکر لگا رہا ہے ٹھیک اسی وقت بیل بجی اور نور خان ایک بری خبر لے کر آیا وہی پولیس والا ہمارے گھر تفتیش کے لیے آیا ہے میں چوکنا ہوگیا میں نے کہا اسے عزت سے لے آئوپولیس والا اندر آیا میں نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا تو وہ بیٹھ گیا جی میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں میں نے نہایت مہذب انداز میں کہا سیٹھ صاحب دراصل آپ کے بنگلے کے پاس کل رات سے ایک آدمی لاپتہ ہے تھا تو وہ جواری اور ایک عیاش آدمی تھا۔۔۔جاری ہے

مگر عبرت انگیز طور پر اس کی لاش شہر سے باہر نالے سے ملی ہے تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ کل رات ہوٹل سے نکلا اور اسکے بعد پھر واپس نہیں آیا آخری بار اسے آپ کے گھر کے قریب دیکھا گیا تھا میں کیا کروں میں نے سخت لہجے میں کہا بائو صاحب بات زرا سنبھل کر کرو تم پولیس کے سامنے بیٹھے ہو اس کے اتنا کہنے کی دیر تھی میں نے غصے سے کہا اگر تم میرے گھر میں نہ بیٹھے ہوتے تو میں تمہارا وہ حشر کرتا وہ میری تیور دیکھ کر سنبھل گیا مجھے صرف اتنا بتائیں کہ کیا ٓپ نے اسے دیکھا میرا اس سے کیا مطلب تمہارے خیال میں رات کو باہر چکر لگاتا رہتا ہوں میرے اس انداز پر وہ غصے سے ہونٹ کاٹنے لگا پھر ایک دم اُٹھ کر بولا ٹھیک ہے میں چلا ہوں اگر ضرورت پڑی تو آپ کو تھانے چلنا ہوگا میں کہیں نہیں جائوں گا میرے گھر سے باہر کیا ہوتا ہے اس کا ذمہ دار میں نہیں میں نے دو ٹوک کہا اتنے میں ایک دم نور خان اندر آگیا اس کے ہاتھ میں شربت کے دو گلاس تھے میں نے غصے سے کہا۔۔۔جاری ہے

نور خان کیا میں نے تم سے کہا کہ شربت لائو ارے صاحب جی مہمان کو پانی تو شٹ اپ یو ایڈیٹ میں نے زور دار تھپڑ نور کان کو رسید کیا پولیس والا غصے سے اٹھ کر طلا کو رسید کیا پولیس والا غصے سے اُٹھ کر چلا گیا صاحب جی میں تو آپ کو مشل سے بچایا چاہتا ہوں اگر اس پولیس والے کو کچھ دئے دلا کر او یو شٹ اپ کمینے انسان نور کان ہنس کر بولا صاحب جی کچھ سوچین رونہ آپ کے لیے مشکل ہوجائے گی میرے ذہن میں سب کچھ آگیا نور خان اب مجھے بلیک میل کر رہا تھا وہ چاہتا تھا میں اس پولیس والے اور خود نور خان کو کچھ دے کر ان کا منہ بند کر دوں لیکن نور خان مجھے نہیں جانتا تھا میں نے ذرامے باری کرتے ہوئے کہا نور خان اب کیا ہوگا اگر میں مشکل میں پڑگیا ہاں صاحب جی یہ ہوئی نا بات میں آپ کو بچا سکتا ہوں۔۔۔جاری ہے

اس پولیس والے نے خود مجھ سے کہا ہے کہ سچ سچ بتا دو تو میں آہ کو بچا سکتا ہوں اس کو ابھی یہ نہیں پتہ کہ قتل کس نے کیا ہے بات ان بھی دب سکلتی ہے اگر آپ چاہیں تو نور خان مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا وہ ساری بات میری سمجھ میں آگئی میں دل ہی دل میں ہنسنے لگا اچھا نور خان مجھے کیا کرنا ہوگا صاحب جی میں نے آپ کا نمک کھایا ہے میں اس کو بالکل نہیں بتائوں گا کہ قتل کس نے کیا ہے آپ بس دس لاکھ مجھے دے دیں میں اسی کے اندر اندر اس کا بھی منہ بند کر دوں گا میں زور دار قہقہہ لگا کر بولا بس صرف دس لاکھ چلو کوئی بات نہیں دوں گا اور کچھ نور خان خوشی سے اچھل پڑا۔۔۔جاری ہے

بس کچھ نہیں صاحب جی بس آپ رقم مجھے دے دیں اور آپ کا کام ختم ورنہ یہاں پولیس والے ہمیں نہیں چھوڑیں گے اچھا چلو میں تمہیں کل صبح رقم دے دوں گا میں نے کہا نور کان خوشی سے سر ہلا کر چلا گیا
کہانی ابھی جاری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں