شادی کے بعد خوشگوار زندگی

لفظ شادی محض ایک لفظ نہیں بلکہ یہ ایک پوری دنیا ہے اور دو انسانوں پر کھلنے والے زندگی کے نئے درو بام کا نام ہے۔ بظاہر بڑا رومانٹک، خوش کن اور دل آویز لفظ ہے۔ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر جنہوں نے ابھی تک اس کا مزا نہ چکھا ہو، خصوصاً لڑکیاں اس کے ذکر سے خوابوں اور خیالوں کی ایک ایسی ماورائی دنیا میں پہنچ جاتی ہیں۔جاری ہے ۔

جہاں پیار و محبت کی بارشیں رنگ و خوشبو کی باتیں اور صرف چاہنے اور چاہے جانے کی تمنا ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو شادی دو دلوں کا ملاپ اور دو خاندانوں کے یکجا ہونے کانام ہی نہیں بلکہ ایسا پل ہے جہاں عقل کے ڈگمگانے اور فہم کی سست روی، ہزاروں آزمائشوں کی صورت میں اس بندھن کو نہ صرف کمزور بلکہ ایک لفظ کی کاٹ سے ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے۔ یوں شادی کے ذریعے جو دو افراد ایک خوشگوار اور پرمسرت سفر پر زندگی بھر کے ہم سفر بنتے ہیں ان کے راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں۔ شادی شدہ زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ذہنی ہم آہنگی پر ہے، جب دو فریق یکجا ہوتے ہیں تو آپ کی خامیاں بھی پتا چلتی ہیں۔ کامیاب زندگی بسر کرنے کا راز یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو خامیوں اور خوبیوں سمیت قبول کریں۔ میاں بیوی کا راستہ جتنا نازک ہوتا ہے اتنا ہی مضبوط اور پائیدار بھی ہے۔ اگر فریقین ایک دوسرے کی خامیوں اور کوتاہیوں کو وسیع ذہن اور خوش دلی کے ساتھ قبول کریں اور آپس میں ان کے تدارک کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ شادی کامیابی سے ہم کنار نہ ہو۔ مگر یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ اس سلسلے میں مرد اپنا محاسبہ نہیں کرتا۔ وہ عورت میں ہی خامیاں ڈھونڈتا ہے۔جاری ہے ۔

اور اسی کو قصور وار گردانتا ہے۔ اپنے آپ کو ہر طرح کی کمزوری یا کمی سے مبرا سمجھتا ہے۔ اس کی یہی خواہش رہتی ہے کہ عورت اپنے آپ کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالے مگر وہ خود کسی کی مرضی کے تابع نہیں ہوتا اور یہی فرق اس رشتے کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہی کمزوری آگے چل کر ازدواجی زندگی کی عمارت کو ڈھا دیتی ہے۔ شادی کی کامیابی میں بڑا ہاتھ مرد کی اعلیٰ ظرفی اور وسعت نظری کا بھی ہے۔ بیوی کے گھر والوں کے ساتھ اس کا بہتر رویہ اور ان کی کبھی کسی بے توجہی کو ان کی کوئی مجبوری جاننا۔ کسی مشکل یا کڑے وقت میں ان کو اپنے ماں باپ سے کم نہ سمجھنا اور ان کی ہر ممکن مدد اور تسلی سے اپنے آپ کو بھی ان کی اولاد ثابت کرنا ازدواجی زندگی کو خوش گوار اور مستحکم کرتا ہے۔ شادی کی کامیابی میں مذکورہ تمام عوامل کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا اور اہم عمل عورت کا اپنے شوہر کی پسندناپسند کے مطابق معقول حد تک ڈھل جانا ہے۔۔جاری ہے ۔

اس بات کا خیال رہے کہ ہر جائز اور ناجائز بات پر ہاں کہنا اس میں شامل نہیںبلکہ اپنے حقوق و فرائض کا خیال اور احترام کرتے ہوئے اس کی خواہشوں کو پورا کرنا شامل ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی ایک سمجھ دار بیوی یقینا یہ بخوبی جان جاتی ہے کہ اس کا شوہر کن باتوں سے خوش اور کن عادتوں کو ناپسند کرتا ہے، اگرچہ شروع میں عورت کے لیے اپنے مزاج سے ہٹ کر دوسرے کی باتوں کی تعمیل اور خوشنودی کے لیے اپنی عادتوں کو بدلنا اور ان باتو ں کو اپنانا جو اس کی فطرت کے خلاف ہوں یقینا دشوار ترین ہوگا لیکن اس کے ساتھ اگر یہ خیال دل میں جاگزیں رہے کہ یہ دوسرا کوئی اور نہیں۔جاری ہے ۔

اس کا شریک زندگی، دکھ سکھ کا ساتھی ہے تو عورت کو ان کو اپنانے میں طمانیت محسوس ہو گی۔ وہ جان لے گی کہ اس میں گھر کا سکون اور شوہر کی خوشی مضمر ہے۔ یوں ہم سفر کے ساتھ سفر شاداب اور مہکتا رہے گا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں