شادی کے لئے والدین رضا مند نہ ہوں تو لڑکی لڑکے کو کیا کرنا چاہیے شریعت کیا کہتی ہے بڑے کام کی تحریر سامنے آگئی

اپنی پسند کی شادی کے معاملے میں جہاں والدین کی رضا مندی شامل کرلی جاتی ہے وہاں بعض جوڑے والدین کی مرضی کے بغیر بھی نکاح کرلیتے ہیں۔۔جاری ہے ۔

جس سے ان کا طرز عمل سماجی طور پر بھی اور اسلامی حوالے سے بھی غلط تصور کیا جاتا ہے ۔بہت سے واقعات میں جب لڑکی اور لڑکے شادی کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو وہ شادی کرنا لازم سمجھتے ہیں ،بصورت دیگر وہ گمراہ ہوسکتے ہیں ۔ان کی عمر بھی بڑھنے لگتی ہے یا وہ اس عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ شادی کئے بغیر ان کا گزارہ نہیں ہوتا ،ایسے حالات میں جب والدین سے کہتے ہیں کہ ان کی شادی کردی جائے توالٹا ان بچوں کو لتاڑ دیا جاتا ہے ،بچے والدین کو سمجھاتے ہیں کہ ان کی شادی کرنا اسلامی اور سماجی تقاضا ہے لیکن والدین پھر بھی سمجھتے ۔اس پر جب بچے اپنی منشا سے شادی کرلیتے ہیں تو والدین ناراض ہو جاتے اور ان کے اقدام کو بھی غیر اسلامی کہہ دیتے ہیں ۔۔۔جاری ہے ۔

اس پرممتاز مفتی عبدالقیوم ہزاروی کا کہنا ہے کہ بہترتو یہی ہوتاہے کہ والدین کو راضی کرکے شادی کی جائے تاکہ بعد میں وہ بچوں کا ساتھ دے سکیں اور خدا نہ کرے کوئی مسئلہ بن جائے تو والدین کی حمایت حاصل ہو ۔ ایسے والدین کو قرآن وحدیث کا حکم سنانا چاہئے کہ دیکھیں شرعی طور پر یہ حکم ہے، آپ لوگ کیوں ضد کر رہے ہیں،۔۔جاری ہے ۔

امید ہے راضی ہو جائیں گے۔ اگر کسی صورت بھی وہ بچوں کی پسند کی شادی نہیں کرتے تو بچے خود بھی شادی کر سکتے ہیں۔یہ غیر اسلامی نہیں ۔ لیکن والدین کا احترام کرنا اور ہر صورت ان کی خدمت کرنا ان کا فرض بنتا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں