موم کا مجسمہ قسط نمبر1

شریف اٹھ جا کب تک سوتا رہے گا دن چڑھا آیا ہے کوئی روزی روٹی کی فکر کر رضیہ غصے سے بولی اچھا تھوڑی دیر سونے دے اٹھتا ہوں شریف کسمکسا کرکے پھر کمبل اوڑھ کر سوگیا رضیہ سر جھٹک کر ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی تھوڑی دیر بعد اس نے ناشتہ بنا کر بچوں کو دیا تھا چلو بھئی محمد فیضان اور کلثوم دونوں سکول چلو جیسے ہی دونوں بچے ناشتے سے فارغ ہوئے۔۔جاری ہے ۔

رضیہ نے انہیں بستے تھماتے ہوئے کہا دونوں بستے کندھے پر ڈال کر گھر سے نکل گئے شریف محمد کچھ شرم کر رضیہ دوبارہ شریف کے پیچھے پڑگئی ارے کمبخت تھوڑا آرام کرنے دے شریف کمبل سے منہ نکالتے ہوئے بولا مگر رضیہ تو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑگئی تھی آخر چاروناچار شریف اٹھنا ہی پڑا تم جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو میں تمہارے لئے ناتشہ بنا دیتی ہوں رضیہ لکڑیوں کو پھونک سے جلاتے ہوئے بولی بڑا احسان کرے گی میرے اوپر ملکہ رانی کہیں کی شریف چپلیں پہنتاہوں اٹھ کھڑا ہوا وہ ابھی آرام کرنا چاہتا تھا مگر رضیہ کے شور و غل سے اٹھ کھڑا ہوا صحن میں جاکر نلکے سے پانی نکالا منہ ہاتھ دھویا اور ناشتہ کرنے بیٹھ گیا پڑاٹھا دیسی گھی اور لسی کا بڑا کلاس رضیہ نے اسکی پسند کا ناشتہ اس کے سامنے رکھا تو اس کی ساری بیزاری دور ہوگئی ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے صحن میں بندھا گدھا کھولا کلہاڑا اٹھایا ہو اور جنگل کی طرف نکل پڑا شریف اپنے نام کی طرح شریف مگر تھوڑا نکھٹو تھا پیشے کے اعتبار سے وہ ایک لکڑہارا تھا خاندانی لکڑہارا تھا باپ دادا کے زمانے سے یہی کام کر رہا تھاگزر اوقات اچھی ہورہی تھی مگر پھر بھی اس پر امیر بننے کی دھن سوار رہتی اکثر سوچتا رہتا کہ خدا کرے کوئی الادین کا چراغ ہاتھ آجائے تو میں راتوں رات امیر ہو جائوں مگر وہ جانتا تھا ایسا ہونا ممکن نہیں یہ قصے کہانیوں کی باتیں ہیں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنے گدھے پر لاد کر گھر لے آتا۔۔جاری ہے ۔

اور دوسرے دن قریبی قصبے میں جاکر انہیں بیچ دیتا گائوں میں وہ اکیلا لکڑہارا نہیں تھا نیاز علی اور دین محمد کے علاوہ اور بھی کچھ لکڑہارے گائوں میں موجود تھے سب اپنی گزراوتات سے مطمئن تھے مگر شریف دل ہی دل میں امیر بننے کے خواب دیکھتا رہتا وہ گدھے کو ہانکتا ہوا جنگل کی طرف جا رہا تھا راستے میں نیاز علی مڈبھیڑ ہوگی وہ دور سے للکار مار کر بولا شریف محمد کیا حال ہے تیرا ٹھیک ہوں جواب میں شریف محمد نے ہاتھ ہلایا یار شریف محمد میں نے تیرے منہ سے کبھی یہ بات نہیں سنی کہ اللہ کا شُکر ہے نیاز محمد ہنس کر بولا شریف کھسیانا ہوگیا ہاں یار اللہ کا کرم ہے شریف محمد وہاں سے کھسکنا چاہتا تھا سو گدھے کو ہانکتا نکل پڑا آج اس کا من لکڑیاں کاٹنے کو نہیں کر رہا تھا مگر مجبوری تھی گھر کا چولہا کیسے جلتا اسے تین لوگوں کا پیٹ بھرنا تھا دو بچے فیضان ، کلثوم اور بیوی رضیہ وہ دل کا بُرا نہیں تھا مگر وہ اپنے کام سے مطمعین نہیں تھا وہ چاہتا تھا اپنے بچوں کو اچھی زندگی دینا چاہتا تھا وہ شہر کی زندگی سے بُری طرح متاثر تھا لیکن جانتا تھا شہر میں رہنے کے لیے نوٹ چاہیں جو اس کے پاس نہیں تھے۔۔جاری ہے ۔

کاش کبھی میرے بھی حالات اچھے ہوں اپنے بیٹے کو بابو بنا سکوں انہی سوچوں میں گم وہ جنگل میں پہنچ گیا اس کے ایک دو ساتھی لکڑیاں کاٹ رہے تھے آج وہ ان سے باتیں کرنے کے موڈ میں نہیں تھا وہ ان سے کنی کتراا ہوا آگے نک پڑا چلتا ہوا وہ جنگل کے نسبتا گھنے حصے میں آگیا اس نے گدھا ایک درخت سے باندھا اور خود کلہاڑا لے کر ایک ڈال کاٹنے لگا وہ کافی دیر تک لکڑیاں کاٹتا رہا جب اس کی ضرورت کے مطابق لکڑیاں اکٹھی ہوگئیں وہ درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تاکہ تھوڑی دیر کو سانس بحال کرلے لکڑیوں کا ڈھیر اس کے سامنے پڑا تھا اس نے باندھ کر گدھے پر لادنا تھا وہ تھوڑی دیر بیٹھا سستاتا رہا پھر اُٹھ کر اس نے لکڑیاں اکٹھی کرنی شروع کر دیں اس نے بڑا تنا نیچے رکھا تاکہ اس پر چھوڑی لکڑیاں رکھ کر مضبوطی سے باندھ دے اسے ایسا محسوس ہوا جیسے تنے کے اندر کوئی چیز کھڑکی ہو اس نے تنے کو ہلا کر دیکھا تو اسے پھر آواز آئی اس نے سمجھا شائد کوئی لکڑی کا لکڑا ہو جس کے ٹکڑانے سے آواز آئی ہو اس نے تنا نیچے رکھ کر اس پر کلہاری کے وار کر کے تنے کو چھید ڈالا اور ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک چھوٹا سا موم کا مجسمہ تھا۔۔جاری ہے ۔

وہ حیرت سے اس کو دیکھنے لگا یہ کیا چیز تھی موم کے مجسمے کی آنکھیں بند تھیں موم کا مجسمہ بہت پرانا لگ رہا تھا کسی بڑی مہارت سے اے تخلیق کیا تھا لیکن یہ درخت کے تنے کے اندر کیسے آیا و ہ اس بات پر حیران تھا وہ سوچنے لگا اسے پھینگ دوں پھر اس نے سوچا رکھ لوں جب شہر جائوں گا تو کباڑ میں بیچ ڈالوں گا کچھ روپے مل جائیں گے آخر اتنی محنت سے اسے تنے کے اندر سے نکالا ہے اس نے موم کے مجسمے کو اپنی قمیض کے اندر اڑس لیا اور جلدی سے لکڑیاں باندھنے لگا لکڑیاں باندھ کر اس نے گدھے پرلادیں اور قصبے کی طرف چل پڑا قصبے میں پہنچ کر اس نے لکڑیاں پیچیں اور پھر کباڑئے کے پاس چل پڑا اس نے موم کا مجسمہ قمیض سے نکال کر کباڑ والے کو دیا کباڑیا اسے دیکھ کر ہنسنے لگا کہنے لگا شریف محمد کیا ہوگیا اب بچوں کے کھلونے بھی بیچنے لگا ہے اس کے میں تجھے پانچ روپے دوں گا شریف محمد بُرا سا منہ بنا کر بولا بس صرف پانچ روپے بہت کم ہیں ابے میں تجھے اس کا کیا دوں۔۔جاری ہے ۔

ایک موم کی گڑیا جیسا ہی تو ہے کباڑیا بولا اچھا ناراض مت ہو دے دے شریف محمد بولا کباڑیے نے جیب سے پانچ روپے نکال کر اسے دے دیے پُرانا زمانہ تھاپانچ روپے آج کے پانچ سو کے برابر تھے شریف محمد جونہی واپس مڑا اس نے سوچا مجسمہ تو اچھا بنا ہوا ہے کیا ہو اگر میری بیٹی اس کے ساتھ کھیل لے اس نے مڑکر کباڑ والے سے کہا بھیا یہ مجھے واپس دے دو میں اسے بیٹی کا کھلوانا سمجھ کر ہی گھر لے جاتا ہوں کباڑ والا مکاری سے بولا اچھا چل اب اس کے مجھے چھ روہے دے شریف محمد بُرا سا منہ بنا کر بولا اوئے ابھی تو تم نے مجھ سے پانچ کا خریدا ہے تو کیا ہوا اب میرا ہے میں جتنے کا چاہوں بیچوں کباڑیا بولا شریف محمد نے پانچ کا نوٹ اس کو پکڑایا اور مجسمہ اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور واپس مڑُ گیا کباڑیا دل ہی دل میں اے گالیاں نکالتا ہوا۔۔جاری ہے ۔

اپنے کام میں مصروف ہوگیا اب اس مجسمبے کے پیچھے کیا لڑتا شریف محمد نے بازار سے سودا سلف خرید ا اور گھر کی راہ لی گھر پہنچا تو اس نے دونوں بچے سکول سے آچکے تھے وہ گدھا باندھ کر سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا اس نے مجسمہ نکال کر تکیے کے نیچے رکھا اور کمر سید ھی کرنے لیٹ گیا

کہانی بھی جاری ہے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں