موم کا مجسمہ قسط نمبر 2

شریف محمد کی بیوی اس کے لیے کھانا لے آئی شریف کھنا کھا کر آرام کی غرض سے بستر پر لیٹ گیا موم کا مجسمہ تکئیے کے نیچے رکھا ہوا تھا جیسے ہی شریف محمد نے سر تکیے پر رکھا تکیہ کے نچیے سے باریک سی آواز آئی ارے خدا کے لیے چھوڑو مجھ پر وزن ڈالا کر مارہی ڈالو گے ایسا محسوس ہوں جیسے کوئی ننھی سی بچی کہیں دور سے بول رہی ہو شریف محمد کےکانوں میں جون ہی آواز پڑی وہ حیران رہ گیا آواز کس طرف سے آرہی تھی وہ سوچ میں پڑگیا کتنے ظالم ہو تم تم نے تو مجھے مار ہی ڈالا تھا۔۔جاری ہے ۔

آواز دوبارہ آئی تو شریف خوفزدہ ہوگیا کون ہو تم اور کہا ہو سامنے آئو وہ گھگھیا بول میں جو کوئی بھی ہوں تمہیں بہر حال مجھ پر اتنا وزن نہیں ڈالنا چاہئ تھا شریف محمد نے غور کیا تو آواز چارپائی کے نیچے سے آتہی تھی اس نے چارپائی کے نیچے جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا اب کی بار باریک سی کھنگ دار ہنسی کی آواز آئی ارے بدھو نیچے کیا جھانگ رہے ہو میں تو وہین پر ہوں جہاں تم نے مجھے رکھا ہے شریف کا دھیان ایک دم تکیہ کے نیچے موم کے مجسمے پر گیا اس نے گھراہٹ میں تکیہ اٹھا کر دیکھا تو نیچے وہی موم کا مجسمہ پڑا ہوا تھا اس نے موم کا مجسمہ ہاتھ میں پکڑا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹنے کو آگئیں موم کا مجسمہ ساکت تھا مگراس کی گول گول چمکدار چھوٹی چھوٹی آنکھیں حرکت کر رہی تھی اس نے گھبرا کر وہ بارہ مجسمے کو تیکہ پر پھینک دیا پر اسےظاکم انسان مجھے کیوں پھینک دیا مجھے کیوں اتنی بے دردی سے دوبارہ پٹخ دیا لگتا ہے کسی نے قدرے کے ہتھے چڑھ گئی ہوںشریف محمد تذبذب میں تھا کیا یہ تم ہی ہو جو بول رہی ہو شریف محمد نے مجسمے کی طرف دیکھ کر کہا مجسمے کی چمکدار اانکھیں دائرے میں حرکت کر رہی تھی وہ ہنس کر بولی ہاں میں ہی ہوں اور تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں تم نے مجھے امنیکا کے طلسم سے آزاد کیا ہے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گئی بلکہ تمہیں فائدہ ہی دوں گی شریف محمد اس کی بات سن کر کچھ حوصلہ مہیں ہوگیا اچھا تو تم ہو کون اور مجسمے میں کیسے گئی۔۔جاری ہے ۔

کیا تم انسان ہو یا پری کون ہو تم جواب میں مجسمے کے اندر سے کھکھلا کر ہنسنے کی آواز آئی میں شمیکا ہوں اور تمہاری قست بدلنے آئی ہوں تمہارا احسان ہے مجھ پر تم نے مجھے ایک ہزار سال بعد اس ردخت سے آزا کروایا شریف محمد اس کی بات سن کر خوشی سے اچھل پڑا لیکن پھر ایک دم بولا لیکن تم ایک ہزار سال سے اس میں کیسے قید ہو وہ درخت تو اتنا پرانا ہے وہ گھنے جنگل میں ہے اور اس جنگل میں امنیکا کا سکہ چلتا ہے تمہاری قسمت اچھی جو تم اس کی نظروں میں آنے سے بچ گئے اب اسے پتہ چل چکا ہوگا کہ میں آزاد ہوچکی ہوں مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اس وقت میں اس کے جال میں پھنس چکی تھی لیکن اب وہ میرا مقابلہ نہیں کرسکتی اتنا کہہ کر مجسمہ خاموش ہوگیا باہر سے کھٹکے کی آواز آئی شریف کی بیوی رضیہ اندر آکر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی کیس سے باتیں کر رہے ہو ارے بھاگو ان کسی سے نہیں شریف محمد جلدی سے سے مجسمہ تکیے کے نیچے ھگسیٹ کو بولا رجیہ ایک شکی اور وہمی عورت تھی گو کہ شریف محمد کوئی کوئی خوبرو نوجوان نہیں تھا مگر وہ اپنے شوہر کے حوالے سے شک وشبے میں رہتی دیکھ شریف محمد یہاں کوئی عورت کی آواز آرہی تھی رضیہ بازو پھیلا کر بولی اچھا تو پھر ڈھونڈلے شریف دوبارہ چارپائی پر لیٹتے ہوئے بولا رضیہ برا سامنہ سنا کر چلی گئی شریف محمد نے سوچا اب اس سے بات کرنا مناسب نہیں رضیہ سوجائے تو شمیکا سے بات کروں گا شریف کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔۔جاری ہے ۔

آخرکار اس کے ہاتھ آکہ دین کا چراغ لگ ہی گیا تھا اسے خوشی کے مارے نیند نہیں آرہی تھی جونہی رات کا دوسرا پہر شروع ہوا و شریف محمد چپکے سے اپٹھا اور دروازہ کھول کر باہر جھانکنے لگا شمیکا اس نے آہستہ سے آواز دی مگر بالشت پھر کا مجسمہ بالکل خاموش رھا شریف محمد اس کو آوازیں دتیا رہا مگر کوئی جواب نہ آیا اسے مجسمے سے کئی ہوئی باتوں پر شک ہونے لگا کہ کہیں اس نے جواب تو نہیں دیکھا تھا مگر نہیں یہ سچ تھا تو پھر مجسمہ اب کیوں نہیں بول رہا تھا شریف پریشان ہوگیا س کا دل ڈوبنے لگا اچھا بھلا امیر ہونے چلا تھا اسے خوامخوا رصیہ پر غصہ آگیا اگر یہ کمینی اس وقت نہ آتی تو میں اس مجسمے یعنی شمیکا سے کچھ منگوا ہی لیتا وہ دل ہی دل میں رضیہ پر لعنت بھینے رہا تھا جب کافی دیر تک مجسمے میں کوئی حرکت اور آواز پیدا نہ ہوئی تو شریف محمد نے اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر مٹی کے طاقچے کے اوپر رکھ دیا وہ سوچنے لگا کہ مجسمہ کیوں خاموش ہوگیا پہلے تو اچھا بھلا بول رہا تھا۔۔جاری ہے ۔

کتنی اچھی باتیں کر رہی تھی وہ شمیکا مگر اس منحوس رضیہ نے آکر سارا کام خراب کر دیا وہ اسے دل میں گالیاں نکلتا ہوا نیند کی واردی میں تم ہو گیادوسری صبح اپٹھا تو اس کا دھیان سب سے پہلے طاقچے پر گیا مجسہ بدستو کپڑے میں لپٹا وہیں رکھا تھا اس نے نماز ادا کی اور غسل کے بعد رضیہ کو آوازیں دینے لگا رضیہ تھوڑی دیر بعد اپٹھ کر باہر چولہے میں لکڑیاں جلانے لگی تاکہ ناشتہ بنا سکے شریف محمد آج کام پر جانے کا بالکل موڈ نہیں تھا وہ بہت اداس تھا آکر مجمسہ خاموش کیوں ہو گیا وہ بول کیوں نہیں رہا تھوڑی دیر بعد اس کی بیوی غصہ آگیا مگر وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا رضیہ ناشتہ رکھ کر مڑنے لگی اس کا دھیان طاقچے پر جا پڑا ارے یہ کیا رکھا ہے وہ کپڑے میں لہٹا مجسمہ نکال کر دیکھنے لگی ارے بہت خوبصورت گڑیا بنی ہوئی ہے شریف محمد منہ میں لقمہ ڈالتے ہویے ایک دم چونکا اور بجلی کی سی تیزی سے اُٹھا اور مجسمہ اس کے ہاتھ سے لے کیا ارے رہنے دو تمہارے کام کی چیز نہیں۔۔جاری ہے ۔

رضیہ اس کے اندرپر آگ بگولہ ہوگئی ارے تم نے مجھ سے یہ گڑیا کیوں چھینی رضیہ نے اس مجسمہ جھپٹ لیا اور بولی اس سے تو میری بیٹی کھیلے گی اتنا کہہ کر وہ مجسمہ اٹھا کر کمرے سے نگل گئی اور شریف محمد منہ تکتا رہ گیا جس اس کے حواس بحال ہوئے تو رضیہ کے پیچھے بھاگا

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کہانی ابھی جاری ہے

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں