ہمیں نہ بتائیں کہ ہم نے کیا پہننا ہے اور کیا نہیں جسٹس ثاقب نثار کے ٹی وی پر نامناسب لباس پہن کر آنے والیوں کے بارے میں ریمار کس دیتے ہی غریدہ فاروقی میدان میں آگئیں ایسی بات کہہ ڈالی کہ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی پروگراموں میں فحاشی نہ دکھانے کا حکم دیا اور ایوارڈ شوز میں خواتین کے لباس کو ناقابل قبول قرار دیا تو پاکستانیوں کی جانب سے چیف جسٹس کے اس فیصلے کو خوب سراہا گیا۔مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی جانب سے چیف جسٹس کی تعریف کی جانے لگی۔جاری ہے

کہ انہوں نے انتہائی حساس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے بہترین قدم اٹھایا ہے تاہم اینکر پرسن غریدہ فاروقی اس فیصلے کے حق میں نظر نہ آئیں جس کا اظہار انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا اور لکھا ” چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ ٹی وی پر فحاشی نہیں دکھائی جائے گی، ٹی وی ایوارڈ شوز میں خواتین کے لباس ناقابل قبول ہیں ،اچھا!!!۔۔۔ خواتین کیلئے اخلاقیات کی وضاحت ہو رہی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ کیا پہننا ہے اور کیا نہیں۔۔۔ میں نے یہ پہلے کہاں سنا تھا؟ مائی لارڈ!!! یہ 2018ہے“غریدہ فاروقی نے یہ ٹویٹ کی تو صارفین آگ بگولہ ہو گئے اور انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایسی ”درگت“ بنائی کہ وہ آئندہ کوئی ٹویٹ کرنے سے پہلے ہزار مرتبہسوچیں گی۔ثناءنامی صارف نے لکھا ”اگرچہ یہ 2018ءہے یا جو بھی ہے، نظریہ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا لہٰذا ہمیں لیکچر دینا بند کرو۔ چیف جسٹس آف پاکستان بالکل درست کام کر رہے ہیں۔۔۔ بہت بہت شکریہ چیف جسٹس صاحب! میں آپ کی مکمل حمایت کرتی ہوں“ڈاکٹر ماہ نور اعجاز نے لکھا ”اسلام جو کہتا ہے تم کو ماننا پڑے گا، یہ اسلامی ریاست تمہارے باپ کی نہیں ہے“محمود الحسن نے لکھا ”اگرچہ یہ 2018ءہے، لیکن لباس سے متعلق قرآن پاک میں واضح احکامات موجود ہیں، کیا آپ نے کبھی پڑھا ہے؟“فیصل عرفان نے لکھا ”تم جو سائیڈ پوز مارتی ہو اپنے گھٹیا پروگرام میں۔جاری ہے

اس پر پابندی نہیں لگی ہے۔۔۔ حوصلہ کرو حادثاتی طور پر بنی تجزیہ نگار۔۔۔ زیادہ شوق ہے ایسے شوز دیکھنے کا تو یوٹیوب پر دیکھ لیا کرو“تم جو سائیڈ پوز مارتی ہو اپنےگھٹیا پروگرام میں,اس پر پابندی نہیں لگی ہے…حوصلہ کرو حادثاتی طور پر بنی تجزیہ نگار ..زیادہ شوق ہے ایسے شوز دیکھنے کا تو یوٹیوب پر دیکھ لیا کرو. نیا پاکستانی نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا ”تم وہی عورت ہو ناں جو گھر پر کام کرنے والے غریبوں کو ماں بہن کی گالیاں دیتی ہوئی پکڑییہ بھی پڑھیں : عمران خان اب اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے جلسے کا حجم اہم نہیں ، 29 اپریل کے جلسے کے بعد ایک نیا عمران خان سامنے آیا ہے جو نیا پاکستان بنانے کا اہل ہے ۔۔۔۔۔مینار پاکستان جلسے پر مختلف ٹی وی چینلز کے رپورٹر ایک دوسرے کے ساتھ کیا گفتگو کرتے رہے؟ آنکھوں دیکھا احوال سامنے آ گیا۔جاری ہے

گئی تھی؟ شرم سے ڈوب مرو“حسنین رضا نے لکھا ”پہلے دوپٹہ سر پر ہوتا تھا، سرک کر گلے میں آیا پھر ہوا میں اڑ گیا، اگر تنقید یا کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو دوپٹے کیساتھ شرٹ بھی ہوا میں اڑ سکتی ہے“اویس خان نے لکھا ”غریدہ میم ٹھیک کہا آپ نے یہ واقعی 2018ءہے پر ہماری بدقسمتی کہ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ہے“غریدہ میم ٹهیک کہا آپ نے یہ واقعی 2018 ہے پر ہماری بدقسمتی کہ ہم یہ بهول چکے ہیں کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بهی ہے عبدالباسط محسن نے لکھا ” درست بات ہے۔جاری ہے

کہ یہ 2018ءہے لیکن ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کے پابند ہیں، قیامت والے دن اللہ نے 2018ءدیکھ کر نہیں بلکہ پردگی اور بے پردگی دیکھ کر حساب لینا ہے“علشبہ نے لکھا ”خواتین یا مردوں کیلئے اخلاقیات کی وضاحت کرنے میں برا ہی کیا ہے؟؟؟“طاہر اقبال نے لکھا ”پھر تو شائد 2050ءمیں کپڑوں کی ضرورت ہی نہ ہو“۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں