خوفناک رات1

او میرے باپ میرے چاچا مجھ سے کہہ جو دیا میں نے نہیں جانا تو پھر کیوں مجھ سے بحث کر رہا ہے خوا مخوا میرا دماغ خراب کر رہا ہے چل اتر نیچے جیرے نے بوڑھے کو خوبخوار نظروں سے گھوررتے ہوئے کہا جو ٹیکسی کا دروازہ کھول کر زبردستی اس کی ٹیکسی میں سوار ہوگیا تھا دیکھ بیٹا میری مجبوری ہے۔جاری ہے

اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوگیا تو میں برباد ہوجائوں گا بوڑھا دونوں ہاتھ جوڑ کر لجاجت سے بولا ارے تو ایسا نہیں مانے گا تیرے ساتھ دوسرا کام کرنا پڑے گا یہ کہہ کر جیرے نے دروازپ کھولا اور تیز بارش کی پرواہ کیے بغیر ٹیکسی سے نیچے اتر آیا اور پچھلی سیٹ پر گٹھڑی بنے بوڑھے کو ایک جھٹکے سے گریبان سے پکڑ کر باہر نکالا اور دروازے کو پوری قوت سے بند کرکے ٹیکسی میں جا بیٹھا ارے بیٹا تو مجھ سے ڈبل کرایا لے لے تیرا یہ احسان میں کبھی نہیں بولوں گا بوڑھے نے پانچ سونوٹ نکال کر جیزے کو دکھاتے ہوئے کہا جو ٹیکسی سٹارٹ کرنے کے بعد چلنے ہی کو تھا ارے بھائی ٹیکسی کا مطلب یہ تو نہیں کہ جس کا جو دل چاہے وہ روک لے ہمارے بھی ہزاروں کام ہوتے ہیں رکھ اپنے پیسے اپنے پاس جیزے نے نفرت سے کہا ورٹیکل ٹیکسی سٹارٹ کرکے ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گیا کمنخت نے سارا باش کا پانی میں گیلا کردیا اوپر ہی چڑھا دیتا تو اچھا تھا یوں ہی رات کے وقت گاڑی روک کر ٹائم برباد کر دیا جیرے پر شراب کا نشے بول رہا تھا بوڑھا ویران سڑک پر کھڑا بارش میں بھیگتادور جاتی ہوئی ٹیکسی کی سرخ مدھم بیوں کو دیکھ رہا تھاجیرا ۵۰سال کا تجربہ کار ڈرائیور ھا شراب نوشی اور عورتوں کا سیا تھا چار بچوں کا باپ کنوے کے باوجود اس پر عورتوں کی لت سوار تھی۔جاری ہے

اور برسات میں تو ویسے بھی بارش کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں پر نوٹ نرستے ہیں پریشان حال سواری عموما منہ مانگے کرائے ریتی جیرا صبح نکلا رات نو بجے جو گھر آیا تو جیب میں سات سو روپے تھے دھندا تو بارہ سو روہے کا ہوا تھا مگر دو سو کو پٹرول اور باقی شراب چکن بوٹی اور سیگریٹ وغیرہ پر خرچ ہوگئے گھر پہنچ کر اس نے گھٹیا شراب کی بوتل کھولی تو پورا کمرا ناگوار بدبو سے بھر گیا اُس نے کلاس بھر بھر کر وہ شراب پی اور بھیگے ہوئے موسم کا مزہ لیتے لگا مدتوں بعد وہ گھر میں شراب پی رہا تھا کیونکہ بیوی بچوں کو لے کر میکے گئی ہوئی تھی اور آج وہ بالکل تنہا تھا عیاشی کو پورا پورا معقع مل گیا اور جیبیں بھری ہو تو عیاش لیسے نہ ہو ایسے میں اسے عورت کی طلب ہونے لگی وہ اپتھا باہر آیا گھر کو تالہ لگایا اور جھولتا ہوا ٹیکسی میں بیٹھ گیا گھڑی دیکھی تو تقریبا پونے ایک کا ووت تھا کیا اس وقت بنکی کے گھر جانا چاہیے یا نہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سو گئی یو اگر سو گئی ہوئی و کیا ہوا اٹھ جانے گی یہ سوچ کر اس نے ٹیکسی سٹارٹ کی اور دھیمی رفتار سے سڑک پر بڑھنے لگا اس نے ٹیکسی ایک چوڑی سی گلی میں موڑی پھر دو طرفہ پڑی روڑ سے جا ملی بڑی سڑک پر ہوتے ہی گاڑی کی رفتار تیز ہوگئی پنکی کے فلیٹ سے میل بھر پہلے یہ بوڑھا دونوں ہاتھوں پر اُٹھائے اچانکج ٹیکسی کے سامنے آگیا جیزے نے بڑی مہارت سے اسے بچایا ورنہ بوڑھا تو نیچے ہی آگیا تھا۔جاری ہے

اگر نیچے آجاتا تو کچلا ہی جاتا نشے کے باوجود اس نے کمال ہوشیاری کا ثبوت دیا تھا گاڑی رکتی دیکھ کر بوڑھا ٹیکسی کے قریب آگیا بوڑھا بہت مجبور تھا یہی وجی تھی کہ بوڑھا جان کر پرواہ کیے بغیر ٹیکسی کے سامنے آگیا اس کے جوان بیٹ نے ایک بے وفا لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوکر خود کشی کے ادادے سے چوہے مار گولیاں کھالیں تھیں جس سے اس کی حالت بہت خراب تھی اور اس خراب موسم میں وہ ٹیکسی یا کسی دوسری کنوینس کی تلاش میں تھا بوڑھے نے اس کی بہت متیں کیں پائوں تک پکڑے لیکن کوئی اثر نہ ہوا وہ کافی عرصہ سے ٹیکسی لاین میں تھا اکثر لوگوں سے ایسے ہی پیش آتا پنکی کے فلیٹ کے پاس اس نے گاڑی روکی اور گاڑی لاک کرکے بارش سے بچتا بچاتا وہ فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگا دوسری منزل پر پہنچ کر اس نے ادھر اُدھر دیکھا کے دوسرے فلیٹس سے کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو اور پھر دبے قدموں آگے بڑھنے لگا کال بیل کو دو تین مرتبہ مخصوص انداز میں دبایا اور کان لگا کر اندر کی آواز سننے لگا کسی کی قدموں کی آواز آئی تو ایک دم پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا کون ہے آواز سو فیصد پنکی کی ہی تھی میں ہوں جیرا اس نے آہستہ سی آواز میں دروازے کے قریب ہو کر کہا تو ایک دم سے پنکی نے دروازہ کھول دیا اور مسکرا کر اسے اندر اانے کا کہا وہ جھٹ سے اندر داخل ہو گیا۔جاری ہے

اور سانے صوفے پر جا بیٹھا پنکی نے دروازہ لاک کیا اور پیچھ آکر اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی آج ہماری یاد کیسے آگی جانی وہ ایک ادا سے بولی جیزے نے بے تکلفی سے اس کے کندھے کے گرد بازو حائل کرلیے بس تم نے سوچا اور ہم آگئے ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ آپس میں کافی عرصے سے جان پہچان رکھتے ہیں
کہانی ابھی جاری ہے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں