حاملہ کا روزہ حاملہ عورت کے لئے روزہ رکھنے کے کیا احکام ہیں سوالات اور جوابات

سوال: وہ عورت جو حاملہ ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے روزہ اس کیلیٔے مضر ہے کیا وظیفہ رکھتی ہے

۔جاری ہے ۔

جواب: وہ عورت جس کے ولادت کا وقت قریب ہے( آٹھواں یا نواں مہینہ) اور روزہ اس کیلیٔے یا اس کے بچے کیلیٔے مضر ہے، اس پر روزہ واجب نہیں ہے، لیکن بعد میں قضا واجب ہے، اور ہر روز کے بدلے ۷۵۰ گرام آٹا، گیہوں، یا چاول کفارے کے طور پے فقیر کو دے گی۔
لیکن وہ عورت جس کے حمل کے آخری مہینے نہ ہوں( پہلے مہینے سے ساتویں مہینے تک) اگر روزہ اس کے لیٔے یا اس کے بچے کیلیٔے مضر ہو یا مشقت کا باعث ہو جو معمولا غیر قابل تحمل ہو تو روزہ اس پے واجب نہیں ہے بعد میں قضا کریگی, لیکن کفارہ واجب نہیں ہے۔۔جاری ہے ۔

سوال: بچے کی پیدایش سے لے کر اس کو دودھ پلانے کے عرصے تک جو روزے قضا کیے ہیں، انہیں کس طرح ادا کروں، کیا کمزوری میں بھی سارے روزے رکھنے پڑیں گے؟۔

جاری ہے ۔

جواب: کمزوری میں جتنا رکھ سکتی ہیں اتنا رکھنا ضروری ہے، اور جن موارد میں کفارہ ضروری ہے کفارہ دیگی

۔۔جاری ہے ۔

سوال: جو عورت بچے کی پیدایش کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی اسے کتنا کفارہ دینا پڑے گا؟

۔جاری ہے ۔

جواب: روزانہ کے حساب سے ۷۵۰ گرام آٹا یا گیہوں یا چاول فقیر کو دے گی۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں