خوفناک رات 2

آج کیا پروگرام ہے جیرے نے لاڈ سے پنکی سے پوچھا ارےاتنے ٹھنڈے ہو تم پنکی نے کسمساتے ہوئے کہا لو ابھی گرم ہو جاتے ہیں ہاتھ یہ کہہ کر جیرے نے تمام حدین پار کرنی چاہیں نہیں جیرے سمجھا کرو میری طبیعت خراب ہے پنکی اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی لعنت ہے سارے موڈ کا ستیا ناس کر دیا جیرا اُٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا ارے جیرے تم تو ناراض ہو گئے بیٹھو میں ایک نیا آئٹم لائی ہوںجاری ہے ۔

تمہارے لیے وہ اس کے ناراض موڈ کے پیش نظر اُٹھ کھڑی ہوئی وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی اور چیزا سر جھٹک کر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی تو اس کے ساتھ ایک خوبصورت سی لڑکی تھی نوجوان لڑکی کی حالت بتا رہی تھی کہ اس بیند سے بغیر اس کی مرضی کے اُٹھایا گیا ہے لڑخی نے ایک اچٹتی سی نظر جیرے پر ڈالی اور خمار آلو لہجے میں بولی ارے میاں کچھ تو شرم کرو اس عمر میں بھی یہ عیاشاں جیرا اس بات پر شرمندہ ہوگیا وہ شرمندہ سے کہجے میں بولا ابھی میری عمر ہی کیا ہے آپ تو اسے کہہ رہی ہیں جیسے میں ۸۰ سال کا بوڑھا ہو جیرے نے قدرے ناگورای سے کہا بے بی یہ ہمارے بڑے اچھے دوسر ہیں جیرا پرانی جان پہچان ہے ان سے پنکی نے دونوں کا تعارف کروارے ہوئے کہا جیرا صاحب آپ کا لحاظ تھا کہ میں نے بےبی کو نیند سے اٹھا دیا بڑی مشکل سے راضی کیا ہے آپ کے لیے روپیہ کیا حیثیت رکھتا ہے پنکی کاروباری انداز میں بولی بالکل بالکل جیرے نے دانت نکالتے ہوئے ہوئے کہا جیرا بے بی کے خوبصورت جسم کے انچ نیچ غور سے دیکھنے لگا وہ اس حسینہ کو للچائی نظروں سے دیکھ رہا تھا اچھا آنٹی آپ آنہیں اندر بھیج دیں میں چلتی ہوں بے بی نے اس کی کمینی نگائیں محسوس کر لیں اس نے اتنا کہا اور ایک ادا سے اٹھلاتی ہوئی اندر چلی گئی بڑا زبردست آئٹم ہے یہ ہری مرچ کہاں سے لائی جیرے نے پنکی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا چھوڑو خود پوچھ لینا پنکی نے جیرے کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہاجاری ہے ۔

پھر بھی کچھ و معلوم ہو جیرے نے دلچسپی کے ساتھ پوچھا تمہیں گوشت کھانے سے مطلب ہے یا بکرے کی ماں سے جان پہچان بڑھانے میں پنکی کو غصہ آگیا بہت رات ہوگئی ہیں مجھے بھی نیند آرہی ہے تمہارے پاس روپے تو ہیں نا پنکی نے پوچھا جیرے نے دانت نکلتے ہوئے جیب سے سات سو روپے نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھے پنکی نے ہنستے ہوئے کہا بس سات سو ارے کم ازکم پندرہ سو روپے تو دو اس کو لیکن میرے پاس تو صرف سات سو روپے ہیں جیرے نے جیب میں ہاتھ ڈالا کر کہا نا بابا نا کم ازکم بارہ سو روپے اس کو دے دو اس سے کم نہیں چلے گا پنکی نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا پھر میں کیا کروں کہا سے لائوں اچھا تم ایسا کرو پانچ سو اپنے پلے سے دے دو جیرے نے کہا تو پنکی نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا نہ بھئی میرے میرے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں جیرا ایکدم سوچ میں پڑگیا اسے اچانک وہ بوڑھا یاد آگیا جو اسے پانچ سو روپے کی آفر کر رہا تھا پنکی کا پیشہ ورانہ انداز اسے بہت ناگوار گزار مگر فی الحال اس کی مجبوری تھی منکی کے لہجے میں چھپے جھوٹ کو جیرے نے صاف محسوس کرلیا تھا وہ دل ہی دل میں گالیاں نکالتے ہوئے بولا پنکی اسے کہو تھوڑی دیر میرا انتطار کرے میں ابھی آتا ہوں ٹھیک ہے دروازہ کھلا ہے کھول کر چلے آنا سوش کہا رہے ہو جلدی جائو پنکی نے کہا پنکی تم اسے جا کر سمجھائو کہ میں ابھی آتا ہوں جیرا بیرونی وروازے کی طرف بڑھاجاری ہے ۔

اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی وہ ایک کی بجائے تین تین سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے پہنچا ٹیکسی میں بیٹھنے کے بعد عجلت میں اے سٹارٹ کیا ٹیکسی کو دائرے میں اس انداز سے گھمایا کہ ٹائروں کی چر چراہٹ کی آواز نے پنکی کو کھڑکی سے جھانکنے پر مجبور کر دیا جیرا ٹیکسی اڑا رہا تھا وہ سوچنے لگا امیدتو ہے کہ بوڑھا بھی مل جائے گا آدھے گھنٹے پہلے ہی تھی تو اس نے میری ٹیکسی کو روکنے کی کوشش کی تھی اگر پانچ سو روپے اور مل جائے تو میرا کام بن سکتا ہے وہ سڑک پر تیزی سی ٹیکسی دوڑاتا ہوا دائیں بائیں دیکھ رہا تھا بارش مسلسل ہو رہی تھی وہ اس جگی سے کافی دور نکل آیا جہاں اسے وہ بوڑھا آدمی کھڑا نظر آگیا تھا اچانک اسے ذرا دور ایک آدمی ٹھیلا دھلیلتے ہوئے نظر آیا جب وہ قریب پہنچا تو اس کے دیکھا کہ ٹھیلے کے اوپر ایک نوجوان بے حس و حرکت پڑا تھا وہی بوڑھا آدمی ٹھیلے کو دھکیل رہا تھا جو گھنٹہ بھر پہلے جیرے سے اپنے بچے کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھاجاری ہے ۔

جیرے نے حیرت سے بوڑھے کی طرف دیکھا اور انجن کو بند کیے بغیر ٹیکسی سے باہر نکل آیا بوڑھا انتہائی پر اثر انداز میں بہت ہی دھیمں رفتار سے ٹھیلے کو دھکیل رہا تھا ارے چاچا تم کدھر تھے مین تمہیں ہی ڈھونڈ رہا تھا مجھے تم پر ترس آگیا جیرا اس کے قریب چلا گیا مگراس بورھے نے اپنا چہرہ افسوس اور رنج سے نیچے کر رکھا تھا چاچا مجھے معاف کر دو میری وجہ سے تمہیں تکلیف اٹھانی پڑی میں نے آپ سے بہت بد تمیزی کی میں شرمندہ ہوں میرا دماغ خراب ہوگیا تھا جیرا بولا جیرے نے بوڑھے کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کہا ٓپ کا بیٹا تو ٹھیک ہے نا چلیں اسے میری ٹیکسی میں بٹھائیں اسے ہسپتال لے چلتے ہیں جیرا مسلسل بولے جا رہا تھا اور بارش میں بھیگتا جا ریا تھا مگر اس بارش میں بھیگنے کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ اس کا انتظار وہ حسینہ کر رہی تھی جس کے لیے اس وقت وہ پیسے اکٹھے کرنے آیا تھا وہ دل ہی دل میں اس حسینہ کے ساتھ محبت کا مزہ لے رہا ھا کہ اچانک اس بوڑھنے نے گردن اٹھائی اور کی لال انگارہ آنکھیں دیکھ کر جیرا ڈر گیاجاری ہے ۔

جیرے کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں اسے ایک جھٹکا لگا ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بوڑھے کی آنکھوں میں انگارے دہک رہے ہوں وہ خوف سے پلٹا کہ اپنی گاڑی میں بیٹھ سکے کہ اچانک وہ بے حس و حرکت نوجوان بھی اُٹھ بیٹھا رات کا خوفناک سناٹا بارش اور یہ دو افراد کسی بھی شخص کو کوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھے

کہانی ابھی جاری ہے 

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں