دُودھ پلانے والی ماؤں کے لیئے رمضان میں کیا احکامات ہیں

اگر دوران حمل کسی حاملہ عورت کو، یا کسی دُودھ پلانے والی ماں کو ڈاکٹرز کی طرف سے یہ بتایا جائے کہ روزے رکھنا، اُس کی یا اُس کے ہونے والے بچے کی جان کے لیے کسی خطرے یا نقصان کا سبب ہوسکتا ہے۔ یا کسی اور سبب، یا ذریعے، یا تجربے، یا مُشاہدے سے اُوپر ذِکر گیا۔۔۔۔جاری ہے

معاملہ یقینی ثابت ہوتا ہو تو، ایسی صُورت میں وہ اپنے رمضان کے فرض روزے بھی چھوڑ سکتی ہے، نفلی روزے رکھنے یا چھوڑنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔لیکن زچگی سے فراغت کے بعد، اور پھر بچے کو مُناسب مقدار میں دُودھ پلا سکنے کی حالت تک پہنچنے کے بعد، وہ عورت اپنے چھوڑے ہوئے فرض روزوں کی قضاء ادا کرے گی، اور ہر ایک روزے کا فدیہ بھی ادا کرے گی۔خیال رہے کہ حاملہ عورت کو روزے رکھنے کی وجہ سے اُس کی اپنی جان یا صحت کے لیے خطرے، یا اُس کے ہونے والے بچے کی جان یا صحت کے لیے خطرے کی صُورت میں ہی مریض مانا جاتا ہے، لیکن وہ ایسی مریض ہوتی ہے جِس کے شفاء یاب ہونے کی عمومی اُمید ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے اور مکمل صحت یاب ہونے کے بعد اُن روزوں کی قضاء ادا کرے گی۔رہامعاملہ دُودھ پلانے والی ماں کا تو، اِس بارے میں فقہا کرام کا یہ کہنا ہے، کہ وہ اپنی کمزوری کی حالت میں روزے چھوڑ سکتی ہے، اور اُسے اُن روزوں کی قضاء ادا کرنا ہو گی۔ اِس فتوے کو فقہا ء کرام کی اکثریت کے اتفاق والا کہا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ بھی اِس مسئلے کے بارے میں کچھ اور باتیں، فتاویٰ جات ملتے ہیں، جیسا کہ:۔۔۔۔جاری ہے

کچھ عُلماء کرام کا کہنا رہا ہے اور ہے کہ ایسی عورتیں صرف روزوں کی قضاء ادا کریں گی اور کچھ کا کہنا ہے کہ دونوں قسم کی
عورتیں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء بھی ادا کریں گی، اور، ہر ایک روزے کے بدلے میں فدیہ کے طور پر مسکین (غریب)کو کھانا بھی کِھلائیں گی۔ اور کچھ کا کہنا ہے دونوں قِسم کی عورتیں صرف روزوں کی قضاء کریں گی، لیکن اگر اگلا کسی شرعی عذر کے بغیر سُستی یا کاہلی کی وجہ سے اگلا رمضان آنے تک چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء ادا نہ کی تو پھر قضاء کے ساتھ ساتھ ہر ایک روزے کے بدلے میں فدیہ (ایک مسکین کو کھانا) بھی دیں گی۔إِمام احمد رحمہُ اللہ، اور إِمام شافعی رحمہُ اللہ کی طرف سے یہ فتویٰ نقل کیا گیا ہے کہ اگر تو حاملہ عورت اپنی صحت یا جان کی بجائے پیٹ میں پائے جانے والے بچے کی صحت یا جان پر خطرے کی وجہ سے روزے چھوڑتی ہے تو اِس صُورت میں اُسے روزوں کی قضاء کے ساتھ ہر ایک روزے کا فدیہ بھی دینا ہوگا اور دُودھ پلانے والی ماں کے لیے بھی یہی معاملہ ہے اور کچھ نے اِس مذکورہ بالا معاملے کو صِرف دُودھ پلانے والی(ماں)تک محدود قرار دِیا۔۔۔۔۔جاری ہے

(جان اور صحت کے خطرے والی اِس مذکورہ بالا شرط پر چاروں إِماموں رحمہم اللہ کے اتفاق کا ذِکر بھی ملتا ہے، اور اس کا ثبوت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فرمان میں ملتا، ابھی اِن شاء اللہ، اِس فرمان کا تفصیلی ذِکر کیا جائے گا) کچھ کا کہنا ہے کہ ایسی عورتیں صرف مسکین(غریب) کو کھانا کھلائیں گی اور اُن پر کوئی قضاء نہیں،

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں