سفید پوش لوگ

سفید پوش لوگ

مرد کی جیب میں جب تنخواہ ہو تو وہ گھر میں داخل ہوتے وقت ایک غیر محسوس سی مسرت اور طاقت محسوس کرتا ہے۔

۔ اسے بھی اسی غیر محسوس طاقت کا کچھ کچھ سرورمحسوس ہو رہا تھا۔۔آگئے آپ؟

اسکی بیوی نے پانی کا گلاس اسے تھمایا اور پاس بیٹھ گئی

۔تنخواہ ملی؟۔یہ سوال وہ اتنی جلدی کرنا نہیں چاہتی تھی مگر اندیشوں کی ماری ضبط نہ کر سکی

۔۔ہاں مل گئی۔

۔اس نے جواب دیادل ہی دل میں وہ سوچ رہا تھاکہ دس ہزار میں سفید پوشی کی کی تار تار ہوتی چادر میں وہ کہاں کہاں پیوند لگائے گا

سائرہ کے کالج کی فیس دینی ہے۔

۔فاطمہ کے اسکول کی۔۔اور۔۔”اسکی بیوی کچھ دیر رکی جیسے ضرورتوں کی چھوٹی بڑی گھٹریوں میں سے بڑی ضرورتوں کی گھٹریاں الگ کر رہی ہو۔

۔اور ہاں وہ ثمینہ آپا کا ادھار بھی دینا ہے۔

۔تقاضہ کر رہی تھیں کافی مہینے ہو گئے ہیں”

اس کی باتیں سن کر وہ بس ایک ھمم اس کے منہ سے نکلیاور راشن مہینے بھر کا۔۔۔”وہ پھر گویا ہوئییہ لو نو ہزار ہیں

۔۔اس نے پیسے اپنی بیوی کے ہاتھ میں تھمائے اور نگاہیں جھکا لیں

۔۔صابر و شاکر بیوی جانتی تھی یہ قلیل رقم نا کافی ہے

۔۔نہ جانے مہینہ بھر کن کن خواہشوں کا گلا گھونٹنا پڑے۔

۔مگر لبوں سے کچہ نا کہا بسم اللہ کہہ کر رقم لے لی۔

۔جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہاتھ لگا ہوباپ کی آمد کا پتہ لگا تو سب سے چھوٹا بیٹا بھی باپ کے پاس آکر بیٹھ گیا

گھر میں اسے اگر بے پناہ خوشی ملتی تھی تو اپنے اس چھوٹے سے بیٹے کی باتوں سے

۔۔آجا میرا شیر۔۔”اس نے اسے مسکرا کر دیکھا اور گود میں بیٹھا لیاابا۔۔بول میرا شہزادہ۔۔ اب تو میں اسکول جاؤں گا ناں۔

۔بہنوں کو پڑھتا دیکھ کر اسکے دل میں بھی اسکول کی خواہش شدید ہوتی جا رہی تھی

ہاں بیٹا اب آپ کا داخلہ پکا۔۔کب؟؟۔۔وہ چپ ہو گیا۔۔۔اس “کب” کا جواب وہ مہینوں سے نہیں دے پا رہا تھا

۔۔اچانک اس نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکالا اور کہا۔دیکھ۔۔یہ ہے ناں اب تیرا داخلہ بھی ہو جائے گا

اس نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔۔مہینوں سے اس آسرے پر خوش ہو جانے والا اسکا چھوٹا بیٹا آج چپ ہو گیا۔

۔ابا۔۔اتنے سے پیسوں میں اسکول نہیں جاتا کوئی۔۔۔اس چھوٹے سے بچے کی آواز کا کرب باپ کا سینہ چھلنی کر گیا۔

۔وہ اس کی گود سے اترا اور اپنی ماں کے پاس چلا گیا

۔۔وہ اب کمرے میں اکیلا تھا۔۔۔جھلملاتی آنکھوں سے ہزار کے نوٹ کو دیکھ رہا تھا۔

۔جیسے وہ کاغذ کا ٹکڑا اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہو

۔سوچیئے !!!!اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے کتنے لوگ ہوں گے جو سفید پوشی کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے جو کسی کے آگے اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتے ان کی مدد کیجیئے۔ “

اپنا تبصرہ بھیجیں