سعودی عرب میں پہلی مرتبہ ڈھیروں خواتین نے اکٹھے ہو کر وہ کام کر دیا جو آج سے پہلے کبھی نہ کیا گیا

ء2013 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی سعودی خاتون راحا موحارق نے اب ایک ایسا کام کر ڈالا ہے جو آج سے پہلے ریاست میں نہیں کیا گیا تھا۔ برطانوی اخبار دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق راحا موحارق نے نوجوان لڑکیوں کو متاثر کرنے کے لیے دارالحکومت ریاض میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد لڑکیوں کو یہ باور کرانا تھا کہ ’وہ کسی بھی طرح لڑکوں سے کم نہیں ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق کئی خواتین نے اس کانفرنس میں شرکاء سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں مردوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی تاہم انہیں پردے کے پیچھے بٹھایا گیا تھا جہاں سے وہ خواتین کے خطابات سنتے رہے۔ اپنے خطاب میں راحا کا کہنا تھا کہ ’’میرے سفر کا آغاز ایک چھوٹی سی بغاوت سے ہوا تھا۔ میں اپنے والدین کو حیران کرنا چاہتی تھی۔ میں جب ایک مخصوص عمر کو پہنچ گئی جہاں ہمارے ملک کے لوگ توقع کرتے ہیں کہ بس اب لڑکیوں کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ویسا ہی ہونے والا تھا لیکن میں اپنے ارادوں کو روکنے پر تیار نہ تھی۔ یہیں سے میری بغاوت کا آغاز ہوا اور بالآخر میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئی۔

کیٹاگری میں : Viral

اپنا تبصرہ بھیجیں