لوسیفر یعنی شیطان کا دوسرا نام جو مغرب میں مقبول ہے لوسیفر کے پجارہ خفیہ طور پر پوری دینا میں سرگرم ہیں جنھیں ہم اردو میں شیطان کے چیلے بھی کہتے ہیں اس بارے میں معلوماتی آرٹیکل پڑھنے

ہم جیسے شیطان کہتے ہیں ایسے اہل مغرب اسے لوسیفر کے نام سے جانتے ہیں۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ شیطان کی وجہ سے ساری آسائشیں ہمیں ملی ہے۔ نعوذ باللہ! ۔ شیطان کے ساتھ زیادتی کی گئی ، اسے جنت سے نکالاگیا، شیطان بہت اچھا گلوکار تھا۔ اس کی سریلی آواز کے نغمے اوپر گونجتے تھے۔ حسد کی وجہ سے اسے زمین پر بھیج دیا گیا مگر وہ اب بھی لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے ان کو ٹھیک سچ کا بتا رہا ہے۔ جی ان عقائد کا حامل شیطان کا چیلہ موجود ہے۔ مگر ان کی عبادت گاہیں عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے شیطان کا باقاعدہ چرچ بنایا گیا۔ جس میں شیطانی نشانات ، بکرے کی سری بھی موجود تھی۔ بکرے کی سری کا یہ مجسمہ شیطانی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ شیطان کو ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ بکرے کے سر پر جادو کیا جاتا ہے۔ جادو اچھا ہوتا ہے اس سے ہم کو بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ استغفراللہ! ان گمراہ کن عقائد کے حامل اس خفیہ فرقے کے اراکین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس بارے میں عیسائیوں نے احتجاج بھی کیا کہ ان شیطانی عبادت خانوں کو بند کیا جائے ۔ (جاری ہے) ہ


مسلمان ہونے کی نسبت سے ہمارے عقائد بالکل واضح ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جن برائیوں سے منع کیا ، اس فرقےکے عقائد بالکل اس کے برعکس ہے یعنی شراب پینا، زنا کرنا، گانے گانا۔۔۔اس فرقے کا مقصد یہ ہے کہ وہ شیطان کو لوگوں کے سامنے معزز بنا کر پیش کرے۔ لوگوں کی نظر میں وہ عزت حاصل کرے ۔ اس کے گمراہ کن عقائد کو لوگ تسلیم کرلیں تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجائیں۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ شیطان اپنے ماننے والوں کی روحیں گروی رکھ لیتا ہے۔ یعنی ایک طرح سے حلف دیا جاتا ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا شیطان کے لیے ہے۔ اس کے بدلے شیطان ان کے لیے بہت سے سرمائے کا بندوبست کرتا ، دنیا کی آسائشیں ملتی ہیں۔ یہ چیلے معاشی طور پر ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔ (جاری ہے) ہ

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحثیت مسلمان اس فرقے کی سرگرمیوں سے واقف رہیں۔ ان لوگوں کا ٹارگٹ غریب اقوام ہیں۔ غربت میں انسان مجبور ہوتا ہےاور مجبوری خریدنا ان کا کام ہے۔ جس تیزی سے اس کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ آئندہ کچھ عرصے میں دنیا پر بدی کے گہرے اثرات مرتب کردیں۔ہم جنس پرستی، زنا ، شراب ، جوا تو مغرب میں عام ہے۔ مشرق میںملاوٹ ، ناجائز منافع خوری اور تھوڑے سے پیسوں کے لیے ایمان کو بیچنے کا سلسلہ بھی سب کے علم میں ہیں۔ (جاری ہے) ہ


ہم اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کرلیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے۔ میڈیا ہر ایک کی دسترس میں ہے۔ اسی طرح فتنے بھی اسی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ فتنے ایسے ہوگئے ہیں جیسے گہرے بادل ہوں جو تیزی سے پورے آسمان پر چھا جاتے ہوں۔اپنے ایمان کے ساتھ دوسروں کے ایمان کی فکر کریں۔ہمیں بہترین امت کہا گیا کہ تم بہترین امت ہو اچھی باتوں کا حکم کرتی ہو بری باتوں سے منع کرتی ہو اور اللہ کی طرف بلاتی ہو۔ یہ دنیا ، بدی اور نیکی کی جنگ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں