جو خواتین مانع حمل گولیاں استعمال کرتی ہیں، انہیں کھانا چھوڑنے کے ۳۵ سال بعد بھی وہ

جو خواتین مانع حمل گولیاں یا کیپسول استعمال کرتی ہیں وہ دماغی ٹیومر ’گلیوما‘ کا زیادہ تیزی سے شکار ہوسکتی ہیں جب کہ یہ بیماری عام طور پر بھی ایک ہزار میں سے 8 خواتین کو لاحق ہوتی ہے۔ تحقیق کے دوران 15 سے 46 سال کی 317 ایسی خواتین کا مشاہدہ کیا گیا جو مانع حمل ادویات استعمال کرتی تھیں (جاری ہے) ہ

جس سے حاصل ہونے والے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین ایسی ادویات استعمال کرتی ہیں جن میں ’پروگیسٹن‘ موجود ہوتا ہے انہیں 2.4 گنا زیادہ دماغی ٹیومر کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جب کہ جو خواتین دوسرے طریقے اختیار کرتی ہیں جن میں پروگیسٹن نہیں ہوتا ان میں یہ خطرہ تو ہوتا ہے لیکن بہت کم۔ (جاری ہے) ہ


ریسرچ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ گائسٹ کا کہنا تھا کہ جو خواتین کسی بھی قسم کی مانع حمل ادویات استعمال کرتی ہیں وہ ادویات استعمال نہ کرنے والی خواتین کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ دماغی ٹیومر کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ یہ تحقیق اورل مانع حمل ادویات اور دماغی کینسر پر مزید تحقیق کرنے میں مدد گار ہوگا تاہم ہارمونل مانع حمل ادویات اورل ادویات کے مقابلے میں کم خطرناک ہوتی ہیں اور اس کو استعمال کرنے والی خواتین دماغی کینسر کے کم خطرے کا سامنا کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں