شوہر محبت نہیں کرتا :شکی مزاج شوہر ہے،غیر عورتوں میں دلچسی ہے :میکے جانے پر پابندی ہے : لڑکیوں کی پیدائش پر ناراضنگی ۔روحانی وظائف اور گھر کا ماحول پر سکون بنا نے کے لیے

اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر آدمی مختلف رشتوں سے منسلک ہوتاہے۔ ہر آدمی کی ماں ہے، باپ ہے،بہن بھائی ،دادا دادی، نانا نانی، چچا تایا ،خالہ ماموں ہیں پھر ان سے منسلک دوسرے رشتے ہیں۔ ہرانسان کے دوسروں کو ساتھ کئی رشتے ہیں لیکن انسانوں کے درمیان قائم ہونے والا اولین رشتہ ایک مرد اورعورت کی جوڑی یعنی زوج کا رشتہ تھا۔انسانی رشتوں میں سے سب پہلے شوہر اوربیوی کا رشتہ وجود میں آیا حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان ہیں اورحضرت بابا آدم و حضرت اماں حوا نوع انسانی کے اولین میاں بیوی تھے۔ دیگر تمام رشتے اسی اولین رشتے یعنی مرد اورعورت کی جوڑی داری یا ازدواج سے ہی قائم ہوئے۔ مرد اور عورت کے اس تعلق کے لیے قرآن پاک نے لباس کی مثال بھی بیانفرمائی ہے۔ (جاری ہے) ہ

وہ تمہارے لیے اورتم ان کے لیے لباس ہو۔(البقرہ: 187) ۔یعنی اس جوڑی کے دونوں اراکین ایک دوسرے لیے لباس کی مانند ہیں۔ لباس جسم کو سردی،گرمی ،برسات سے تحفظ فراہم کرتاہے۔ جسم کے داغ دھبوں کو ،کسی عیب کو چھپاتا ہے اوراچھا لباس آدمی کی شخصیت کو حسین اور دلکش بنا دیتاہے۔میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا چاہیے ۔ ایک دوسرے کو عزت واحترام اور تحفظ کا احساس دنیا چاہیے۔ ایک دوسرے کی خامیوں سے صرف نظر کرنا چاہیے اور جہاں ضروری ہو وہاں اصلاح کی نیت سے بہت احترام کے ساتھ خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کی خوبیوں کو پرجوش انداز اورخوب اچھے الفاظ میںسراہنا چاہیے۔شوہر اوربیوی کا رشتہ مرد اور عورت کے لیے چاہے اور چاہے جانے کے تقاضوں کی تکمیل اور خوشیوں اور تسکین کا ذریعہ ہےاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یہ اللہ کی نشانی ہے کہ اس نے تم میں سے تمہارے جوڑے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے سے تسکین پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے۔ بحوالہ سورہ ٔ روم 30آیت 21۔شوہر اور بیوی جتنا زیادہ ایک دوسرے کا احترام کریں گے ،جتنا زیادہ ایک دوسرے کے جذبات کا ، احساسات کا، ضروریات کا خیال رکھیں گے ان کے گھر کا ما حول اتنا ہی زیادہ پرسکون اورمثالی ہوگا ۔شادی لڑکے اورلڑکی کی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہے۔نکاح کے بعد لڑکی اپنے والدین کے گھر سے اپنے شوہر کے گھر جاکر ایک نئے ماحول میں رہنا شروع کرتی ہے۔ نکاح کی وجہ سے مرد اورعورت کے نئے رشتے مثلا ساس ،سسر ،دیور ، نند،سالی ،سالا اوردیگر رشتے وجود میں آتے ہیں۔ (جاری ہے) ہ

دیکھا گیا ہے کہ ان رشتوں کو نبھانے میں ،گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں ، اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اورسسرا ل والوں کو خوش رکھنے کے لیے کئی بار عورت ہی بہت زیادہ ایثار کرتی ہے۔نبی رحمت علیہ الصلواۃ والسلام نے شوہر اوربیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی احسن طریقہ پر ادائیگی کی ہدایات فرمائی ہیں۔ مردوں کو حکم دیا گیاہے کہ وہ عورتوں سے نرمی اورشفقت سے پیش آئیں۔ ان کی کوئی بات بری لگے تو اسے نظر انداز کیا جائے۔ اگر کسی عورت میں کوئی ایک خامی ہو تو اس میں کئی اچھی صفات بھی ہوتی ہیں۔خواتین کو حکم دیا گیاہے کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق اورذمہ داریاں خوشی اور امانت داری کے ساتھادا کریں۔شوہر اور بیوی کا رشتہ محبت اوراحترام پرمبنی ہو تو یہ بہت مضبوط تعلق ہوتاہے لیکن بعض امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ رشتہ کمزور پڑسکتا ہے یا پھر اس کا حسن کھو جاتاہے۔ (جاری ہے) ہ

میا ں بیوی کے تعلق میں حق ملکیت کا احساس (Sense of Possession)شوہر اوربیوی کے معاملات میں ساس ،نندوں یا میکے کی مداخلت، شوہر یا بیوی کی جانب سے ایک دوسرے کے والدین اوربہن بھائیوں کی عزت نہ کرنا، شوہر یا سسرال والوں کی جانب سے بہو کوخادمہ سمجھنا وغیرہ ایسے امور ہیں جہاں عورت کو دباؤ ،ذہنی اذیت ، عزت نفس کی پامالی اور شدید عدم تحفظ کا احساس ہوسکتا ہے لیکن…..زیادتی ہر جگہ صرف مرد یا عورت کے سسرال کی طرف سے ہی نہیں ہوتی۔ کئی گھرانوں میں بہو نے ایسے ایسے فساد مچائے کہ ہنستے بستے اور بہت محبت و اتفاق کے ساتھ رہنے والے گھرانوں کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ (جاری ہے) ہ

جن عورتوں کو اپنے شوہر یا سسرال کی طرف سے پریشانی ہو ان کی اکثریت اس بات کا تذکرہ اپنے میکے اوردوسرے ملنے جلنے والی خواتین سے کرتی ہے لیکن مرد اگر اپنی بیوی یا اپنے گھر میں اپنے سسرال کی مداخلت سے پریشان ہوں تو اس کا تذکرہ عموماً باہر نہیں کرتے، کئی عورتیں اپنی ساس ، نندوں اوردوسرے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ تعلقات رکھنا نہیں چاہتیں ۔کچھ عورتیں اپنے شوہر کو مختلف طریقوں سے جیٹھ جیٹھانی، دیور دیورانی کے خلاف ورغلانےکی کوشش بھی کرتی ہیں۔ شوہر ان باتوں پر توجہ نہ دیں تو وہ کہتی ہیں کہ میرا شوہر مجھ سے زیادہ اپنی بھابھی کی بات کو اہمیت دیتاہے۔مختصراً یہ کہ گھریلو مسائل میں کہیں شوہر لاپرواہ اور غیر ذمہ دار ہوتا ہے تو کہیں عورت کی بڑھتی ہوئی خواہش ،سسرال میں یا سماج میں بے جا مقابلہ بازی، جذبہ رقابت وغیرہ گھریلو ماحول کو خراب کرتے ہیں۔ازدواجی زندگی کے چند مسائل کے لیے ہم یہاں دعائیں تحریر کررہے ہیں۔ (جاری ہے) ہ

شوہر محبت نہیں کرتے ،توجہ نہیں دیتے:رات سونے سے پہلے 101مرتبہ سورۂ اعراف (7)کی آیت 189 کا ابتدائی حصہ:هو الذي خلقكم سے ليسكن اليها تکگیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کا تصورکرکے دم کردیں اوردعاکریں کہ انہیں آپ کے ساتھ محبت اورحسن سلوک کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا ہو۔یہ عمل کم اکزم چالیس روزتک جاری رکھیں۔چلتے پھرتے وضو بے وضو کثرت سے اسماء الٰہی یاودودکا ورد کرتی رہیں۔شوہر کی غیر عورتوں میں دلچسپی رات سونے سے پہلے 101 مرتبہ سورہ والشمس (91) کی آیات 9ت 7گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کراپنے شوہر کا تصور کرکے دم کردیں اور دعاکریں کہ انہیں غلط روش سے بچنے اور صحیح راستے پر چلنے کی ہدایت نصیب ہو اوربیوی کے سب حقوق اچھی طرح اداکرنے کی توفیق عطا ہو۔یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔چلتے پھرتے وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء یا ممیت کا ورد کرکے وقتاً فوقتاً تصور میں شوہر پر دم کرتی رہیں۔ساس نے میکے جانے پر پابندی لگادی، شوہر کہتے ہیں کہ میں اپنی ماں کی نافرمانی نہیں کرسکتا:رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورہ النساء (04)کی آیت135 گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ اپنی ساس کے لیے دعاکریں کہ انہیں آپ کےساتھ حسن سلوک اور رشتوں کی پاسداری کی توفیق عطا ہو۔ آپ کے شوہر کو آپ کے والدین کا احترام کرنے اور ان کے جذبات کا احساس کرنے کی توفیق عطا ہو۔یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسم یاھادی کا ورد کرتی رہیں۔لڑکیوں کی پیدائش پر ناراضگی ، تین بیٹیاں ہوگئیں بیٹے کو جنم کیوں نہ دیا….؟ (جاری ہے) ہ


اپنی سہولت سے کوئی ایک وقت مقررکرکے روزانہ اکتالیس مرتبہ سورہ رعد کی (13) کی آیات 8,9,10گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر اور سسرال والوں کے لیے دعاکریں کہ اللہتعالیٰ انہیں اپنی نشانیوں پر غورکرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو بہت خوشیاں اور سکون عطا فرمائے۔یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔اپنے شوہر اورسسرال والوں کو ،خاندان کے کسی تعلیم یافتہ فرد کے ذریعہ یہ آگاہی دلوائیں کہ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش میں قدرت نے عورت کا اہم کردار نہیں رکھا ۔ حمل قرار پاتے وقت بچہ کی جنس کا تعین مرد کی جانب سے بیضہ کو آملنے والے کروموسوم پر ہوتاہے ۔اگر کسی جوڑے کے ہاں لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں تو ایسا مرد کے کروموسوم کی وجہ سے ہوتاہے۔ حمل قرار پاتے وقت مرد کی جانب سے Y کروموسوم بیضہ سے ملے گا تو بیٹا ہوگا۔شکی مزاج شوہر ۔وہ میرا موبائل فون چیک کرتے ہیں ،پوچھتے ہیں کہ ان کے پیچھے گھر میں کون کون آیا تھا:مرد کا شکی مزاج ہونا دراصل ایک نفسیاتی عارضہ ہے ۔ایسے مردوں کو مناسب نفسیاتی کاؤنسلنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسا مریض اس کاؤلنسلنگ کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود کو  تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ (جاری ہے) ہ

شکی مزاج شوہر شک کا اظہار کرکرکے اپنی اہلیہ کو شدید ذہنی اذیت وکرب میں مبتلا کرتے ہیں۔محض بدگمانی کی وجہ سے کسی کے خلاف دل میں کوئی بات بٹھا لینا بہت بڑا گناہ ہے۔رات سونے سے پہلے اکیس مرتبہ سورہ الحجرات (49) کی آیت 12اوراکیس مرتبہ سورہ الناس ،گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف ےکے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کا تصورکرکے دم کردیں اوردعاکریں کہ ان کا دل شک اوروسوسوں سے پاک ہوجائے اور ان کے دل میں بھروسہ و اعتماد قائم ہوجائے۔یہ عمل کم ازکم چالیس روزتک جاری رکھیں۔یہ ہر وقت غصے میں رہتے ہیں ، بیوی بچوں کو مہمانوں کے سامنے بھی ڈانٹ دیتے ہیں۔اپنے گھر میں غصہ دکھانا کئی مرد اپنی شان سمجھتے ہیں۔ ایسے مرد اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ جب وہ گھر میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے رعب کی وجہ سے گھر والی سہم جاتی ہے اور گھر میں خاموشی چھا جاتی ہے، شور مچاتے بچے چپ ہوکر اپنے کمروں میں دبک جاتے ہیں۔اسلامی تعلیمات شوہر یا والد کو اپنی بیوی اور بچوں کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنے کا درس دیتی ہے۔ اپنے گھر والوں پر یا اپنے ماتحتوں پر بات بے بات غصہ دکھانااور اُن کی عزت کا خیال نہ کرناکوئی شان والی بات نہیں ہے بلکہ یہ نفس کی کمزوری کی علامت ہے۔ (جاری ہے) ہ

نبیٔ رحمت ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ طاقتور وہ نہیں جو اپنے مدِ مقابل پر قابو پالے بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو اپنے غصے پر قابو پائے۔نبی کریم ﷺْ نے اہلِ خانہ کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنے کا حکم دیا ہے۔رات سونے سے پہلے 101 مرتبہ سورہ آلِ عمران کی آیت 134 میں سے :والكاظمين الغيظ سے يحب المحسنين تکگیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر کا تصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں کہ ان کے مزاج میں نرمی اور اعتدال آئے۔ انہیں غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا ہو اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ شفقت اور احترام سے پیش آئیں۔صبح اکتالیس مرتبہ اللہ تعالیٰ کے اسماء یا رؤف یارحیم یا ودود یا کریم گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی یا چائے پر دم کرکے اپنے شوہر کو پلادیں اور ان کے لیے دعا کریں۔یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں