اپنی ہی بیوی سے چار مرتبہ شادی کرنیوالا نوجوان اسی کیا بات ہوگئی کہ مسلمان ہوتے ہوئے اس جوڑے کو یہ سب کرنا پڑگیا؟

کہتے ہیں کہ پیار کی کوئی حد، کوئی مذہب ،کوئی عمر اور کوئی ذات نہیں ہوتی ۔ پیار ان تمام چیزوں سے عاری اور بالاتر ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں اکثر و بیشتر ہی پیار سے بھرپور کہانیاں سنتے ہیں جو پیار اور پیار سے بھرے جذبات پر کمزور ہوتے ہمارے اعتقاد کو ایک مرتبہ پھر مضبوط کر دیتا ہے۔ (جاری ہے) ہ


ایسی ہی ایک کہانی فیض اور انکیتا کی بھی ہے ۔ اپنے پیار کو ثابت کرنے اور انکیتا کے اہل خانہ کو اپنے پیار کا یقین دلانے کے لیے فیض نے انکیتا سے ہی چار مرتبہ شادی رچا ڈالی۔ فیض اور انکیتا دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی اعتراض ان کے گھر والوں کو بھی تھا۔ شروع میں دونوں نے اپنے اہل خانہ کی خوشی کے لیے ایک دوسرے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔انکیتا کے والدین کو اس بات پر تحفظات تھے کہ فیض کو چار شادیوںکی اجازت ہے اور یہ کہ انکیتا کو بھی اسلام قبول کرنا پڑے گا۔لیکن ایسا ہرگز نہں تھا فیض نے انکیتا کے گھر والوں کو یقین دہانی کروائی کی کسی کو بھی سمجھوتہ نہیں کرنا پڑے گا اور پھر فیض نے انکیتا سے ہی نکاح بھی کیا اور ہندو رسم و رواج کے عین مطابق شادی کی تمام رسومات بھی ادا کیں۔ (جاری ہے) ہ


فیض اور انکیتا کی شادی کو دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ انکیتا فیض اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں مناتی ہے جبکہ دیوالی یا ہولی کے موقع پر فیض انکیتا کے گھر جاتا ہے اور اس کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس شادی کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن فیض اور انکیتا کا ماننا ہے کہ جب پیار سچا ہو تو وہ کسی سے بھی لڑنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ اور یوں دونوں میاں بیوی ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر دو مختلف مذاہب کی پیروی کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں