ایک کچھوا اپنی ظاہری حالت سے بہت تنگ تھا اور زمین پر چلتے چلتے تھک گیا تھا اس کا دل چاہتا تھا کہ آسمان کا نظارہ کرے اور اپنا

ایک کچھوا اپنی ظاہری حالت سے بہت تنگ تھا۔ اور زمین پر چلتے چلتے تھک گیا تھا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ آسمان کا نظارہ کرے اور اپنا دل بہلائے۔ یہ سورج کے ہر پرندے سے کہتا کہ کوئی مجھے ہوا پر سیر کروائے اور دنیا کے عجائبات دکھائے۔ (جاری ہے) ہ

میں بھی زیر زمین جو زرو جواہرات ہیں اور جن کا علم میرے سوا کسی کو نہیں ہے۔ میں بھی اس کو بتا دوں گا۔ عقاب نے کچھوے کی یہ بات مان لی (جاری ہے) ہ

اور اس کو ہوا پر لے جا کر ساری سیر کرا دی۔ پھر کچھوے سے کہا کہاب تم مجھے زرو جواہرات کے بارے میں بتا کہ وہ کہاں ہیں۔ کچھوا یہ سن کر حیلے بہانے کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر عقاب کو غصہ آیا اور اس نے کچھوے کے نرم نرم پیٹ میں پنجے مار کر اس کو ہلاک کر دیا۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں