فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا پوئے اور قتل کے سال حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی

فرعون کا ذکر قرآن میں بنی اسرائیل کے قصہ میں آتا ہےـ فرعون کا تکبر تاریخ اور ادب میں مشہور ہےـ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنی رسالت کی نشانیاں دکھائیں مگر اس نے ماننے سے انکار کیاـ جب بنی اسرائیل کو اللہ نے آزاد کیا اور جزیرہ نمائے سینا کی طرف لے گئے تو بالآخر فرعون پانی میں ڈوب کر مر گیا۔ اس کا گناہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو خدا کے برابر سمجھا اور اس کے نتیجہ میں اللہ نے اس کو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنا دیا۔(القرآن 79: 20 تا 25)قوم قبط و عمالیق سے جو مصر کا بادشاہ ہوا اس کو فرعون کہتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے یہاں اسی کا ذکر ہے اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی آل فرعون سے اس کے متبعین مراد ہیں۔ (جمل وغیرہ)(جاری ہے) ہ


فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔(خازن وغیرہ)فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِ سْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار یا ایک روایت کے مطابق ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ (جاری ہے) ہ


تو ان کی والدہ نے فرعون کے خوف سے ان کو ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ دریا سے نکل کر ایک نہر فرعون کے محل کے نیچے بہتی تھی۔ یہ صندوق دریائے نیل سے بہتے ہوئے نہر میں چلا گیا۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیوی ”آسیہ” دونوں محل میں بیٹھے ہوئے نہر کا نظارہ کررہے تھے۔ جب ان دونوں نے صندوق کو دیکھا تو خدام کو حکم دیا کہ اس صندوق کو نکال کر محل میں لائیں۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں سے ایک نہایت خوبصورت بچہ نکلا جس کے چہرہ پر حسن و جمال کے ساتھ ساتھ انوار ِ نبوت کی تجلیات چمک رہی تھیں۔ فرعون اور آسیہ دونوں اس بچے کو دیکھ کر دل و جان سے اس پر قربان ہونے لگے اور آسیہ نے فرعون سے کہا کہ:۔(پ 20،القصص:9)ترجمہ قرآن:۔یہ بچہ میری اورتیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ بے خبر تھے۔ (جاری ہے) ہ


چونکہ ابھی حضرت موسیٰ علیہ السلام شیر خوار بچے تھے۔ اس لئے ان کو دودھ پلانے والی کسی عورت کی تلاش ہوئی مگر آپ کسی عورت کا دودھ پیتے ہی نہیں تھے۔ ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بے حد پریشان تھیں کہ نامعلوم میرا بچہ کہاں اور کس حال میں ہوگا؟ پریشان ہو کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن ”مریم” کو جستجوئے حال کے لئے فرعون کے محل میں بھیجا۔ اور مریم نے جب یہ حال دیکھا کہ بچہ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتا تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ میں ایک عورت کو لاتی ہوں شاید کہ یہ اُس کا دودھ پینے لگیں۔ چنانچہ ”مریم” حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو فرعون کے محل میں لے کر گئیں اور انہوں نے جیسے ہی جوش محبت میں سینے سے چمٹا کر دودھ پلایا تو آپ دودھ پینے لگے۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو اُن کا بچھڑا ہوا لال مل گیا۔ اس واقعہ کا تذکرہ قرآن مجید کی سورہ قصص میں موجود ہے(پ20،القصص:10۔13)(جاری ہے) ہ


ترجمہ قرآن:۔اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا ضرور قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے اور (اس کی ماں نے )اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا نام ”یوحانذ”اور باپ کا نام ”عمران”ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام ”مریم”ہے۔ مگر یاد رکھو کہ یہ وہ مریم نہیں ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ”مریم”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن سے سینکڑوں

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں