بھنبھور کے بادشاہ جام سلطان کے ہاں حسین و جمیل لڑکی مانند لعل بدخشاں پیدا ہوئی۔ اس کا نام سسی رکھا وہ اس کی اکلوتی اولاد تھی۔ بادشاہ نے توریت کے حافظ نجومیوں کو بُلا کر اس کا زائچہ بنوایا تو اس کو معلوم ہوا کہ سسی جوانی میں کسی شہزادے سے عشق کرے گی

بھنبھور کے بادشاہ جام سلطان کے ہاں حسین و جمیل لڑکی مانند لعل بدخشاں پیدا ہوئی۔ اس کا نام سسی رکھا وہ اس کی اکلوتی اولاد تھی۔ بادشاہ نے توریت کے حافظ نجومیوں کو بُلا کر اس کا زائچہ بنوایا تو اس کو معلوم ہوا کہ سسی جوانی میں کسی شہزادے سے عشق کرے گی اور باپ کے جاہ و حشمت اور عزت و وقار کو مجروح کر کے بدنامی کا باعث بنے گی۔ باد شاہ نے اس سے بچنے کی خاطر ایک خوبصورت صندوق بنوایا جس میں بہت سا را مال و متاع ،زروجواہر اور دولت مع نام کے تعویز و تاریخ پیدائش اس میں بند کر کے نہایت بے رحمی دریا برد کر دیا۔ ؏ ہاشمؔ لکھ تعویذ حقیقت حرف سسی گل ڈالے یہ صندوق ایک غریب مگر فرشتہ صفت اور نیک سیرت ‘اتّا ‘ نامی دھوبی کے ہاتھ لگ گیا جو کہ بے اولاد تھا۔ اس معصوم نوزائیدہ بچی کے ملنے سے اس کو بہت خوشی ہوئی ۔ ؏ ہاشم ؔباغ سکے رب پل وچ ہرے کرائے مال و دولت ملنے سے اس کے حالات بہت اچھے ہو گئے اس نے اس کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی کہ بچی نہایت با حیا حلیم اور علم و دانش میں یکتا ہو گئی جب وہ جوان ہوئی تو اس کے بہت سے رشتے آنے شروع ہو گئے مگر اُس نے کوئی رشتہ قبول نہ کیا،- ؏ ڈھونڈن ساک نمانے دھوبی میں دھی بادشاہاں دی رشتوں سے انکار دراصل سماج کے جھوٹے بندھنوں کے خلاف اُس کی پہلے شعوری بغاوت تھی ۔اُ س کے اندر جو عشق کی چنگاری تھی وہ اُس کو الاؤ بنانے میں آزاد راہ کی متلاشی تھی ۔لوگوں نے حسد و بغض کی بنا پر بھنبھور کے بادشاہ کو ساری حقیقت حال سے آگاہ کر دیا تو اس کو پتہ چل گیا کہ یہ تو اس کی اپنی بیٹی ہے اس نے اس کو حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کی مگر اس نے باپ کے پاس جانے سے بھی انکار کر دیا ۔ ظالم ماں باپ سے ملنے کو ٹھکرانا پورے سماج میں انسانی کردار کی مکمل آزادی کا اعلان تھا اور اُس کے باطن کی آواز کچھ یوں تھی۔ ؏ ہاشمؔ ملن حرام تُسانوں روہڑ دتّا اک واری ایک روز وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ باغ میں سیر کے لیے جاتی ہے وہاں کسی ہال نما کمرے میں مختلف ملکوں کے بادشوہوں اور شہزادوں کی نہایت خوبصورت تصاویر اور نقش ونگار دیکھتی ہے جو ایک غزنی نامی سوداگر زادے نے اپنے ذوق شوق کی خاطربنوائے ہوتے ہیں ۔۔جاری ہے ۔

ان میں سے ایک تصویر اس کے دل و دماغ میں اس طرح کھُب جاتی ہے کہ وہ اس پر گھائل ہو جاتی ہے اور اس کے بارے میں پورا کھوج لگاتی ہے تو اس کو پتہ چلتا ہے کہ یہ کیچم (مکران) کے تاجدار ہوت علی کا نہایت خوبصورت اور نیک صفت شہزادہ پنوں ہے ۔وہ اپنے والد سے گھاٹ خود لے لیتی ہے اور وہاں پہرے دار بٹھا دیتی ہے تاکہ دریا کے کنارے جو بھی سوداگر تجارت کے لیے اس شہر میں آئے تو اُسے پتہ چل جائے دراصل وہ اس طریقے سے اپنے محبوب پنوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جب کیچم کے سوداگر اونٹ لے کر تجارت کے لیے وہاں آتے ہیں تو سسی کے پہرے داراُس کو اطلاع دیتے ہیں تو سسی سوداگروں سے پنوں کے بارے میں پوچھتی ہے تو وہ لالچ کی خاطرکہتے ہیں کہ پنوں تو ہمارا بھائی ہے ۔ سسی اُن کو قید کر لیتی ہےاور شرط عائد کرتی ہے کہ تم پنوں کو لے کر آؤ گے توتب تم لوگوں کو چھوڑوں گی۔ لہذا ان میں سے ایک یا دو بلوچ کیچم جا کر پنوں کواس کے والد سے بڑی منت سماجت کے بعد ساتھ لے کر آتے ہیں ۔ تووہ اپنے اونٹوں کو باغات میں کُھلا چھوڑ دیتے ہیں اونٹ سسی کے باغات کا مکمل صفایا کر دیتے ہیں ۔۔جاری ہے ۔

کیچم دا کر وان سسی دے پتن باغ سہاوے سوہنا یار محمدؒ بخشا گھٹ وچ نظری آوے سسی پنوں کی خاطر کسی کو کچھ نہیں کہتی بلکہ ان کی خوب خدمت کرتی ہے ۔ پنوں سسی کے حسن و اخلاق کو دیکھ کر اُس پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور واپس نہیں جاتا۔پھراسکے بھائی کیچم سے اس کو لینے آتے ہیں مگر اُن کی ظاہری و باطنی کیفیت کچھ اس طرح ہے۔ ؏دل وچ کھوٹ زبان وچ شیریں آن ملے گل ہسدے اور خفیہ منصوبہ بندی کر کے دونوں کو شراب پلا کر رات کو پنوں کوبیہوشی کی حالت میں کجاوے میں ڈال کر لے جاتے ہیں ۔ جب سسی کی آنکھ کھلتی ہے تو دلبر ندارد یعنی نہ پنوں نہ اُونٹ اور نہ ہی اُنٹوں والے ۔ یہ منظر دیکھ کر وہ اپنی بد قسمتی اور پریشان حالی کا سوچتی ہے۔ لدھا یار کھڑایا مُڑ کے پیا انھیر خدایا ، جیون میرا ہے کس کاری جے اوہ ہتھ نہ آیا بری جدائی سہنی آئی۔جاری ہے ۔

لد گیوں دلدارا ‘ رب رحیم غفور محمدؒ میلے پیر سُچیارا ۔ سسی اپنے ہارسنگھار توڑکر بکھرے بالوں، ننگے پاؤں اپنے پنوں کی تلاش میں آہیں بھرتی ، روتی کُرلاتی، پنوں پنوں کی صدائیں لگاتی اونٹوں کے پاؤں کے نشانات پر دوڑتی ہوئی جہنم جیسے تپتے تھل میں بھوکی پیاسی بے حال ہو کر جان دے دیتی ہے۔ وگی قلم نوں کون موڑے اجل مار دھونسے سر تے آ گئی آ کلمہ پاک زبان توں بول کے جی سسی تھلاں وچ سما گئی آ جنگ عشق دے نال شہید ہوئی فتح وچ میدان دی پا گئی آ پنوں یار نوں دسنی گور میری محمد شاہ سسی فرما گئی آ وہاں “کا کا” نامی ایک چرواہا اس کی قبر بنا کر دفنا دیتا ہے ، وہ سسی کے سچے عشق سے متاثر ہو کر اپنے پیشے ،۔جاری ہے ۔

بیوی بچوں اور دنیا کو تج کر قبر پر خود مجاور بن جاتا ہے ۔ اُدھر پنوں ہوش میں آنے کے بعد سسی کے عشق میں واپس بھنبھورکی راہ لیتا ہے ۔ سسی موئی تھلاں وچ تسی ، وچ بھاہ غماں دی سڑ کے پنوں موڑ لیاندا عشقے کیچم کولوں پھڑ کے اور تھل سے گزرتے ہوئے اُس مجاور کو دیکھ کر سسی کے بارے میں پوچھ گچھ کرتا ہے تو مجاور پنوں کو ایک غم زدہ لڑکی کا قصہ سناتا ہے کہ وہ نہایت پریشانی کے عالم میں پنوں پنوں پکارتے تھل کی اس تپتی ریت میں غرق ہو گئی ہے ۔ پنوں کو سسی کے سچے عشق کا کامل یقین ہو جاتا ہے۔ پنوں وہاں دردبھری فریاد اور دعااس طرح کرتا ہے کہ بے ہوش ہو کر وہیں گر پڑتا ہے اور اسی ریت میں دھنس کر سسی سے جا ملتا ہے – ؏ خاطر عشق گئے رل ماٹی ، ہک تھے خاک سمانی یہ کوئی جسمانی عشق نہ تھا یہ سچا روحانی منزلوں کا عشق تھا جس میں حق کی راہ میں جان قربان کر کے ہی روح کو وصل نصیب ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں