بیری کا درخت اور میری بیٹی میں اسے دیکھ رہا تھا آج تک ایسے مناظر میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے میری بیٹی ننگے پائوں نائٹی لباس میں ننگے سر صحن میں لگے بیری کے درخت کی طرف منہ کرکے نادید ہستی سے محو گفتگو تھی

جو کچھ میری نظریں دیکھ رہی تھیں۔میں حیران تھا۔میرے پسینے چھوٹ گئے اور جسم کا رُوں رُوں کانپ رہا تھا۔دسمبر کی یخ بستہ رات تھی۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب خلقت لحافوں میں محو خواب تھی ۔۔۔۔اور ۔۔۔میں اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔آج تک ایسے مناظر میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔میری بیٹی ننگے پاؤں ،نائٹی لباس میں ننگے سر صحن میں لگے بیری کے درخت کی طرف منہ کر کے نادید ہستی سے محو گفتگو تھی۔سامنے کوئی بھی نظر نہیں آرہاتھا۔۔۔۔یا میری نظریں دھوکہ کھا رہی تھیں۔میں چپکے چپکے اُسی کی طرف چلتا گیا۔۔۔گھپ اندھیرا اور رات کا پچھلا پہر تھا۔آخری دنوں کے چاند نے ابھی آنکھ کھولی تھی۔۔۔۔۔میں آج اِسے ختم کر دوں گا۔۔۔۔۔۔میری عزت کا جنازہ ،میرے ہی گھر میں نکال رہی ہے۔۔۔۔ایسی اولاد سے ۔بے اولاد ہونا اچھا تھا۔۔۔۔میرے ذہن میں جنگ جاری تھی۔میری بیوی ،میکے گئی ہوئی تھی اور بچے گھر پہ تھے۔۔۔میرا گھر گاؤں میں ہے۔۔۔۔گھر کے چہاروں طرف سر سبز کھیت ہی کھیت ہیں۔پیشے کے لحاظ سے میں زمین دار ہوں اور دن بھر کھیتوں میں مزدوروں کی نگرانی کرتا رہتا ہو ں۔اُن کے ساتھ محو گفتگو رہتا ہوں ،کام کا کام اور نگرانی کی نگرانی۔۔۔۔میرانام خوشی محمد ہے اور گاؤں والے جاگیردار،مزدور،مزراعے ’’خوشی ۔۔۔۔خوشی ،پکارتے ہیں۔گاؤں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہوں۔۔۔امیر ،غریب میری عزت کرتے ہیں۔غربیوں ،مزدوروں کا ہمدرد ہوں ۔یہ بات حیران کن ضرور ہے مگر میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔میں غربیوں کا دوست ہوں۔۔۔۔آج سے بیس برس پہلے میری شادی نورالنسا ء سے ہوئی۔ماں باپ نے ہیرا ہی تو تلاش کیا تھا۔۔بہت سُندر،خوبصورت نین نقش اور سب سے بڑھ کر خوب صورت سیرت تھی۔میں نورالنساء کا ساتھ پا کر بہت خوش ہوں۔۔۔اللہ تعالیٰ قسمت والوں کو ایسی بیویاں عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے میرے آنگن میں بچوں کی قلقاریاں بخش دی۔رحمتوں کی برسات ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے تین بیٹیوں سے نوازہ ۔ایک بیٹا عطا کیا جو ایک سال بعد واپس اللہ جی کے پاس لوٹ گیا۔۔ہم صبر وشکر کر گئے ۔اِس کے علاوہ انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔امبر والے کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کر لیااور میرے ماں باپ بھی تھوڑے عرصے بعد یک بعد دیگرے اللہ تعالیٰ کو پیار ے ہو گئے۔اِس مشکل وقت میں نورالنسا ء نے میرا بہت ساتھ دیا ۔لمحہ بھر تنہائی کا احساس نہ ہونے دیا۔وقت کی تیز آندھی میں اب بالوں میں چاندنی اُتر رہی ہے اور میرے بچے جوان ہو رہے ہیں۔میری تینوں بچیاں نمرہ،اسرار،اور صباء پڑھ رہی ہیں۔تینوں مجھے جان سے زیادہ پیاری ہیں۔اسرار سب سے بڑی ہے اور بلا کی خوبصورت بھی۔۔۔اپنی ماں پر گئی ہے۔۔۔۔اور نمرہ ،صباء بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔میں اُنہیں بد صورت نہیں کہہ سکتا۔لیکن اسرار ان دونوں سے زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔۔جاری ہے۔


اسرار یونیورسٹی کی طالبہ تھی اور نمرہ نے ابھی ابھی میٹرک پاس کیا ہے اوراب گھر پہ ہوتی ہے۔صباء شرارتی ،چنچل سی ہے اور آٹھویں میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے رحمت کی بے بہا بارش کی تھی اور میں خوش قسمت انسان رحمتوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا ہوں۔۔۔میں جہاں کہیں بھی جاتا ہوں ۔۔۔میرا دل اپنی بیٹیوں کی طرف ہی رہتا ہے ۔۔۔۔آخر باپ جو ہوں اور بے پناہ محبت بھی کرتا ہوں ۔۔۔اپنی بیٹیوں کی ہر فرمائش پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کر تا ہوں ۔گھر میں ٹی،وی ،کمپیوٹر ، اور موبائل تو اسرار اور نمرہ کے پاس ہر وقت موجود ہوتا ہے۔میں نے بے جا پابندیاں اِن پہ نہیں تھونپی تھیں۔بے جا پابندیاں ہی جرائم پیدا کرتی ہیں اور بُرائیوں کی جڑ یں یہاں سے پھوٹتی ہیں ۔میری بچیوں نے بھی کبھی میرے اعتماد ،اعتبار کو ٹھیس نہیں پہنچائی تھی۔میری بیٹیاں میری دوست بھی ہیں۔ہر بات دوستوں کی طرح شیئر کرتی ہیں۔مزے کی بات بتاؤں ۔۔۔اسرا ر کے ساتھ کالج میں ایک واقعہ ہو اتو اُ س نے بلا جھجک سُنا دیا۔کسی لڑکے نے اُس کو پھول پیش کر کے محبت کا اظہار کرنا چاہا تھا اور اُس کا راستہ بھی روکا ۔لیکن ۔۔۔اسرار۔ہو اور اسراریت نہ ہو۔۔۔کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔اُس دن کے بعدپُراسرارطور پر لڑکا نظر آیا نہ ہی پُھول۔۔۔۔آج جب میری بیوی میکے میں فوتگی پہ گئی ہوئی تھی (میں ساتھ گیا تھا )لیکن واپس لوٹ آیاکیونکہ گھر میں بچیاں اکیلی تھیں۔۔۔بیوی کو وہی چھوڑ کر آیا ،مجبوری تھی ،کسی ایک کا وہاں رُکنا ضروری تھا۔رسم دُنیا بھی تھی اور رشتے داری بھی نبھانی تھی۔شام کا کھانا اسرار نے پکایا تھا اور سبھی نے پیٹ بھرکر کھایا بھی۔۔۔کھانا کھانے کے بعد ڈرامہ دیکھنے لگے ۔ڈرامہ دیکھتے ہی وہ تینوں سو گئیں اور میں اپنے کمرے میں آگیا۔سگریٹ لگا کر کش لیتے لیتے نیند آگئی۔کبھی کبھی سگریٹ بھی بڑا سکون دیتی ہے۔اِسی لئے تو کہتے ہیں کہ’’میں ہنس کر زہر پی رہا ہوں‘‘کچھ زہر ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہوتے تو بُرے ہی ہیں لیکن وقتی راحت وسکون بھی دیتے ہیں۔۔۔جیسے سگریٹ ۔اندر ہی اندر جلاتی رہتی ہے اور کینسر کی ماں بھی ہے۔پھر بھی ہم شوق سے اِسے ہونٹو ں میں لے لیتے ہیں۔دل جلوں کی محبوبہ ہے اور تنہائی کی بہترین ساتھی بھی۔۔۔کسی چیز کے گِرنے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی ۔دوسرے ہی لمحے دروازے کی چڑ چڑاہت محسو س ہوئی ۔جیسے کسی نے دروازہ کھولا ہو۔۔۔میں جاگ چکا تھا۔۔۔۔انجانے خیال سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔۔کمرے سے نکلا تو سامنے کامنظر حیران کر دینے کے لئے کافی تھا۔بیری کے درخت کے سامنے اسرار کسی کے ساتھ محو گفتگو تھی۔ٹھٹھراتی رات میں عامیانہ لباس میں اور سر بھی ننگا۔میرے کان کھڑے ہو گئے ۔شائد میری بے جا محبت کا نتیجہ تھا کہ یہ گل کھل گئے۔ذہن پہ ہتھوڑے برسنے لگے اور میں خود کوس رہا تھا۔بچیوں کو آزاد چھوڑ دیا تھا تو اب گل توکھلیں گے۔۔میرے ذہن میں شیطانی خیالات نے زور پکڑ لیا۔۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن میرے بیٹیاں ایسی نہیں ہیں۔۔۔وہ تو ہر بات دوست کی طرح شیئر کرتی ہیں ۔۔ضرور کچھ اور ہے ۔دل نے کہا۔ ۔جاری ہے۔


میں نے تمام ہمت یکجا کی ،دل کو مضبوط کرتے چپکے چپکے اُس کے پیچھے جا پہنچا۔دیکھوں تو سہی۔۔۔اسرار کس سے باتیں کررہی ہے۔کیسا نشہ ہے یا عشق ۔۔۔موسم کی پرواہ نہیں اوریہ ڈر بھی نہیں کہ گھر میں باپ بھی ہے اگر وہ جاگ گئے اورمجھے دیکھ لیا تو تکہ بوٹی کر دے گے۔۔۔میں خود کو جلاد کے عہدے پہ فائز سمجھ رہا تھا ۔شاید باپ جلاد ہوا کرتے ہیں یا معاشرے نے اُسے جلاد بنا دیا ہے۔۔۔جدید دور کی اولاد باپ کو نوکر سے بھی گیا گزرا سمجھتی ہے۔۔۔باپ کو صرف اور صرف نوٹ کمانی والی مشین ہے ۔بس۔۔۔۔۔جب تک اُس کی جیب میں نوٹ ہیں ۔۔۔قدر ہو تی ہے ،نوٹ ختم ہوئے تو دھکے ملنے لگے۔۔۔لیکن کسی نے باپ کے گوشے میں پلنے والے دل کو نہیں دیکھا۔۔۔باپ جیسا دِل ہر کسی کو نہیں ملتا۔۔۔ماں جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ۔۔۔باپ سایہ شفقت ہے۔۔۔کلیوں کا نگہبان ۔۔گرم ہوا سے محفوظ رکھنے والا ۔۔۔قربان ہونے والا۔۔۔مگر جب اولاد باپ کا سر شرم سے جُھکا دیتی ہے تو جیتے جی مر جاتا ہے۔۔۔میں آگے بڑھتے ہوئے اسرار سے دو قدم کے فاصلے پہ تھا کہ میری سماعتوں سے مردانہ آواز ٹکرائی۔۔۔اسرا ر کی آواز تو میں لاکھوں میں پہچان سکتا تھا یہ آواز اسرار بیٹی کی نہیں تھی ۔۔۔لیکن آواز اسرار ہی کے منہ سے آرہی تھی۔۔۔میں نے اُسے متوجہ کرتے ہوئے اُس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ہاتھ رکھتے ہی میرے جسم میں آگ سی لگ گئی ۔سردی کی اِس رات میں پسینے چھوٹ گئے ۔۔۔گھپ اندھیرے میں سامنے کوئی دِکھتا ہی نہیں تھا۔۔۔ہاتھ کا لمس پاتے ہی اسرار نے گِردن گھمائی اور میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔۔۔میری چیخیں نکل گئیں ۔۔۔یہ اسرا رنہیں ۔۔۔خبیث مخلوق کا بھیانک چہرہ تھا۔۔۔۔(اِس کے پیچھے کبھی نہ آنا۔۔۔)سماعتیں پھاڑتی آواز آئی ۔اُس کی آنکھوں سے شعلے بھڑک رہے تھے ۔یہ انسانی آنکھیں ہر گز نہیں تھیں۔۔۔رات کے گھپ اندھیرے میں روشن آنکھیں ۔جیسے کسی کالی بلی کی آنکھیں رات میں چمکتی نظر آتی ہیں۔۔۔دوسرے ہی لمحے غصے کے سے انداز مجھے دھکا سا دیا(مجھے ایسا ہی لگا)ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔اُس کا داہنا ہاتھ میرے سینے کی طرف آیا تھا ۔لمبے لمبے ناخن اور بدصورت رنگت،رات کے اندھیرے میں اور بھیانک لگ رہی تھی۔انگلیوں تک کالے لمبے لمبے بال تھے۔میں خوف کے مارے کانپ رہا تھا اور موت کو قریب دیکھ رہا تھا۔۔۔اُس خیبث مخلوق نے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے دھکیلا اور میں معمولی سی چیز کی طرح ہوا میں اڑاتا ہوا کسی فٹبال کی طرح دور جا گِرا۔۔۔گِرتے ہی میرے آنکھو ں کے سامنے گہری تاریکی چھاتی گئی اور میں بے ہوش ہو گیا۔۔۔جب آنکھ کھلی تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پہ پایا۔۔۔سر پہ پیٹیاں بندھی تھیں ۔میرے سرہانے نمرہ بیٹھی تھی اور اسرار پاؤں کی طرف بیٹھی مجھے گھورے جا رہی تھی۔نورالنساء میری بیوی زِیر لب کچھ پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھی۔صباء میرے داہنے ہاتھ کو ہاتھوں میں لئے ہوئے تھی۔سبھی کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے۔میرے ہوش میں آتے ہی اُن کے چہروں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔میں ہسپتال کیسے پہنچا ۔۔۔معلوم نہیں تھا۔۔۔نورالنساء نے بتایا کہ آپ واش روم کے دروازے پہ بے ہوش پڑے تھے اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔جب نمرہ نے دیکھا۔۔۔واش روم۔۔۔میں زیر لب بڑبڑایا۔۔۔میں نے ذہن پہ زور دیا۔۔۔نہیں تو۔۔۔واش روم تو میں گیا ہی نہیں تھا۔۔۔اندر کے انسان نے واویلا کیا۔۔۔نورالنساء بتا رہی تھی کہ نمرہ واش روم کے لئے گئی تو آپ کو بے ہوش پا کر زور سے چیخی۔۔۔چیخ سُن کر صباء بھی آگئی تھی لیکن اسرار بے خبر سوئی ہوئی تھی۔۔۔رونے کی آواز سُن کر کالوکمہار باڑے سے دوڑا چلا آیا اورآپ کو اُٹھا کر چار پائی پر ڈال دیا۔۔۔سر سے خون بہہ رہا تھا۔۔اور کالو نے سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے کپڑا باندھ دیا تاکہ خون رُک جائے ۔اِس دوران نمرہ مجھے فون کر چکی تھی۔خبر ملتے ہی میں ننگے پاؤں دوڑی چلی آئی۔۔۔ ۔جاری ہے۔


اذان فجر ہو چکی تھیں جب میں گھر آئی۔پھر آپ کو ہسپتال لے آئے۔۔۔کالو کمہار حویلی سے تھوڑی دور جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے باڑے میں رہتا تھا۔۔۔بڑا وفادار آدمی تھا۔۔۔۔کالو کمہار ہی کی وجہ سے میں شاید آج زندہ تھا۔ورنہ یہ بروقت نہ پہنچتا تو شائد میں مر کھپ گیا ہوتا۔۔۔نورالنساء بتا رہی تھی کہ تین دنوں کے بعد تمھیں ہوش آیا ہے ۔آخر آپ واش روم کے دروازے پہ کیسے گِرے تھے اور سر پہ چوٹ کیسے لگی۔۔۔پورے سات ٹانکے لگے ہیں۔جیسے کسی نے کلہاڑی سے وارلگایا ہو۔۔۔سانس بھی لو گی یا ساری باتیں ایک ہی سانس میں پوچھنے کا ارادہ ہے۔میں نے نورالنساء سے کہا تو وہ مسکرادی اور شرمندہ سی ہو کر خاموش ہو گئی۔دوسرے دن ہسپتال سے گھر آگئے اور گزرنے والا واقعہ نورالنساء کو سنادیا۔۔۔اُس کی سسکیاں بندھ گئیں۔عورت ذات تھی ۔عورتیں نازک دل کی مالک ہوتیں ہیں ۔ہوائیوں سے لرز اٹھتی ہیں۔اب کیا ہو گا۔۔۔میری بیٹی ۔۔۔۔کو کچھ ہو نہ جائے۔۔۔اللہ کرم کرے گا۔۔۔۔تسلی رکھو۔۔میں نے اُس کی ڈھارس بندھوائی۔۔۔وقت گزرتا چلا گیا اور دوماہ پل بھر میں گزر گئے۔اِس واقعے کے بعد ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہوا اور میں بھی تقریباًبھول ہی گیا تھا۔لیکن ایک روز اچانک مغرب کو وال کلاک چلتے چلتے رُک گئے۔اُ س وقت میں مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے ٹائم دیکھنے گیا تھا اور چند ساعتوں بعد گھڑیاں چل بھی پڑی۔حیران کن بات یہ ہے کہ ٹائم بھی ٹھیک بتا رہی تھیں۔اُسی لمحے کچن میں برتن ٹوٹنے کی آواز آئی۔جیسے زلز لہ آگیا ہو ۔میں کچن کی طرف بھاگا۔کانچ کے برتن فرش پر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے تھے اور نورالنساء کمرے سے نکل رہی تھی۔۔شام کے کھانے کے لئے چکن لایا تھا ،نورالنساء وہ دھو کر پلیٹ میں رکھ کر کمرے میں اپنا موبائل لینے گئی تھی۔۔اب کچن کی طرف آئی تھی اور وہاں کا منظر دیکھ کر وہ بھی ششد ر رہ گئی۔ارے چکن صاف کر کے رکھا تھا ،۔۔۔کہاں گیا۔۔۔مجھ سے پوچھنے لگی ۔۔۔اور یہ کیا۔۔۔برتن کیسے ٹوٹے۔۔۔۔اور پھر ہم جان گئے کہ ماجرا کیا ہے۔۔۔چکن کا یوں غائب ہو نا کسی خبیث مخلوق کی آمد کا پیغام دے رہا تھا۔۔ہم دونوں چونک گئے ۔۔ضرور خبیث مخلوق کے کارنامے ہیں ۔۔۔مجھے فوراًاسرار کا خیال آیا۔۔۔میں نے اُس کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔اسرار کے کمرے میں گیا تو میرے پیروں سے زمین نکل گئی۔نمرہ اور صباء بیٹھی ٹی،وی دیکھ رہی تھیں اور اسرار کی اُنھیں بھی خبر نہیں تھی۔۔۔مجھے خدشات نے گھیرلیا۔میں اسرار کوآوازیں دیتے ہوئے حویلی کے پچھوڑے گیا تو میرے قدم ٹھٹک سے رُک گئے۔۔۔اسرار وہاں کھڑی سامنے دیکھ رہی تھی۔اُس کے بال کھلے تھے اور شانوں سے نیچے تک لہرا رہے تھے۔۔اسرار سامنے دیوار کی طرف کسی خاص نقطے کو تکے جا رہی تھی۔ ۔جاری ہے۔


میری نظریں اُس کی نظروں کا تعاقب کر رہی تھیں۔حویلی کے باہر کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں۔کہیں غیر مرائی مخلوق تو نہیں ہے۔ذہن میں سوال اُبھرا۔کیونکہ کتے تب بھونکتے ہیں جب اُن کو جنات نظر آتے ہیں۔میرے اندر خوف کی لہر دوڑگئی۔خبیث غیر مرئی مخلوق کبھی بھی اپنے اصلی رُوپ میں نہیں آتی۔ہمیشہ کسی نہ کسی کا رُوپ دھار لیتے ہیں۔کبھی انسانی رُوپ میں تو کبھی حیوانی رُوپ میں۔زیادہ تر بلی،کُتے یا اُلو کے رُوپ میں سامنے آتے ہیں۔حیرت کی بات تو یہ ہے ،جنات میں ہڈی نہیں ہوتی۔۔۔آپ نے اکثر دیکھا ہو گا ۔کتے آسمان کی طرف منہ کرکے بھونکتے ہیں کیونکہ ان کو جنات واضع نظر آتے ہیں۔ابھی میں اسرار کے قریب نہیں گیا تھا کہ وہ اچانک لرکھڑا کر گِرپڑی ۔میرے جسم سے جیسے روح ہی نکل گئی۔دوڑ کر اسرار کے پاس گیا تو میری بیٹی اردگرد سے بے خبر بے ہوش پڑی تھی۔اپنی بیٹی کو ہمت یکجا کر کے بانہوں میں اُٹھاتے ہوئے کمر ے تک لے آیا۔شور سُن کر نورالنساء ،نمرہ اور صباء میرے کمرے میں جمع ہو گئیں اور رونے لگیں۔ایک تو عورتیں د ل کی بڑی کچی ہوتی ہیں۔ذرا سی تکلیف کیا دیکھ لی رونے لگ جاتی ہیں۔موم کی بنی موم بتی کی طرح پگھلتی چلی جاتی ہیں۔کسی کو دُکھ میں دیکھ نہیں سکتیں اورخود دُکھوں کو آنسوؤں کی نذر کر دیتی ہیں۔رات نے ماحول کو اور خوف ناک کر دیا تھا۔ساری رات جگ رُتوں کی طرح اسرار کے پاس جاگتے گزر گئی۔نورالنساء اور میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ صبح ہوتے ہی کسی اللہ والے کے پاس جائیں گے ۔لیکن رات تو ہم پہ بھاری تھی۔لمحہ لمحہ اذیت ناک گزر رہا تھا۔سردیوں کی رات ہم نے جاگتی آنکھوں میں کاٹ دی۔۔صبح اذان سحر ہوئی تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر عامل کو لینے چلا گیا۔شہر میں خانقاہ شریف تھی اور اُس کے پاس عامل بیٹھے ہوتے ہیں میں وہاں پہنچ گیا۔لیکن مجھے کیاخبر تھی کہ یہ جعلی پیر ہیں اورشاید انہی کو ’’ڈبہ پیر‘‘کہتے ہیں۔جدید دُور میں جعلی پیروں کی بہتات ہے۔ڈبہ پیروں نے سادہ لوگوں کو لوٹا ہے اور گمراہ کیا ہے۔۔میراواسطہ بھی جعلی پیر سے ہی ہوا۔جس نے گھر میں آکر طرح طرح کے ڈرامے کئے اور ہمارے ایمان خراب کرتا رہااور جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے۔۔ہم مجبور تھے اور اُسے نوٹوں کی بھوک تھی۔جعلی پیر کے جعلی عملوں سے اسرا ر کی طبیعت ٹھیک ہونے کی بجائے دن بدن بگڑتی گئی۔کھانا کھانے بیٹھتی تو دس دس بندوں کا کھانا اکیلی کھا جاتی۔لیکن جسم فربہ ہونے کی بجائے سوکھ سوکھ کر چھڑی نما لکڑی کی مانند ہو رہا تھا۔جعلی عامل بابا اسرار پہ قابض جن کو قابو کر رہا تھا تو اُس کی اصلیت سامنے آگئی۔خبیث مخلوق پر قابو پانے کے بہانے خود خبیث بن گیااور میری بیٹی کے جسم سے کھیلنا چاہتا تھا۔اُس نے اسرار کی طرف پیش رفت کی ہی تھی کہ اسرار نے کسی قوی ہیکل مر دکی طرح اُ س پہ حملہ کر دیااور پھر کمرے میں چیخوں کی آواز بلند ہوئی۔۔بچاؤ ۔۔۔بچ۔۔۔۔بچاؤ۔۔۔پیرجی چیخ رہے تھے اور خبیث مخلوق اسرار کے رُوپ میں پیرجی کی واٹ لگا رہے تھے۔بچاؤ ۔۔۔بچاؤ کی آواز سن کر ہم کمرے کی طرف دوڑے۔دروازہ اندر سے بند کر دیا گیا تھا اور اب ہمیں دروازہ توڑنا پڑا تھا۔۔چیخوں کی آواز کالو کمہار بھی سُن کر آگیا تھا اور پھرہم دونوں نے دروازہ توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔اند ر کا منظر وحشت ناک تھا۔پیر جی ،چیختے چیختے بے ہو ش ہو چکے تھے اور اُس کے جسم پر خراشیں ہی خراشیں تھیں۔جیسے کسی خونی درندے نے حملہ کیا ہواور اِس کا گوشت نوچنا چاہا ہو۔اسرار کونے میں ڈری ،سہمی بیٹھی تھی۔اُس کی آنکھیں کسی مُردے کی آنکھوں کی طرح آدھ کھلی تھیں اور دیوار کے سہارے بیٹھی تھی۔میں نے اسرار کے سرپہ ہاتھ رکھاتو پھٹی پھٹی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔۔بے ہوش پڑے پیر جی کو ہسپتال پہنچایا۔۔ ۔جاری ہے۔


جب پیر جی کو ہو ش آیا تو پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔مجھے معاف کردو۔۔۔۔مجھے معافی دے دو۔۔۔کس بات کی معافی مانگ رہے ہو۔۔۔؟مجھے سے بہت بڑی خطا ہو گئی ۔میں کوئی عامل نہیں ۔میں تو پیٹ کی ہوس میں پیر بن بیٹھا تھا اور عزتوں سے کھیلتا تھا ۔یہاں بھی میں نے اسرار کی عزت سے کھیلنا چاہا۔تبھی تو میں نے اُسے اکیلے کمرے میں رہنے کا کہا تھا اور آپ کو باہرجانے کا کہا۔۔۔لیکن۔۔۔اِس سے پہلے کہ میں خبیث حرکت کر تا ،کسی انجانی سی طاقت نے مجھ پہ حملہ کر دیا اور اسرار کے رُوپ میں دہشت ناک شکل میں میرے سامنے تھی۔اُس نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی ۔۔پھر۔۔پھر میں بے ہوش ہو گیا۔۔۔دین اسلام معاف کر دینے کا درس دیتا ہے ۔پیر جی توبہ کر چکے تھے اور میں نے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل کر نے کے لئے اُسے معاف کر دیا۔۔کالو کمہار کو پہلے گھریلو حالات معلوم نہیں تھے ۔اِس واقعے کے بعد وہ سب جان گیا ۔آخر اُسے سب بتانا ہی پڑا۔اس کے بعد کالو کمہار بولا۔صاحب۔۔۔میں ایک اللہ والے کو جانتا ہوں ۔بہت پہنچے ہوئے ہیں ۔اُن کے دست شفقت سے روتے آنے والے مسکراتے لوٹے ہیں۔میری بیوی نیند میں چلنے لگتی تھی۔اپنے بال نوچتی اور اونچی اونچی گالیاں دینے لگتی۔۔۔مجھے کسی نے بابا جی کے بارے بتایا توہم وہاں گئے ۔اُنہوں نے دَم کیا اور سب خیر ہو گئی۔۔۔۔کالو کی باتوں میں سچائی تھی۔آخر میں اُسے ساتھ لئے باباجی کے پاس پہنچ گئے۔وہاں عقدت مندوں کا ہجوم لگا تھا۔بابا جی سفید لباس میں فرش پہ بچھی چٹائی پہ بیٹھے آئے ہوئے لوگوں کے مسائل سُن رہے تھے۔ہم بھی جا کر ایک طرف بیٹھ گئے اور پھر کالو جگہ بناتے بناتے باباجی کے پاس پہنچ گیا۔۔سورج عین سر پہ آگیا تھا اور رَش قدرے کم ہو گیا تھا۔کالو قریب پہنچا تو مجھے بھی قریب آنے کا اشارہ دیا۔۔۔قریب پہنچے تو عقدت بھرا سلام کیا اور لب کھولے ہی تھے کہ بابا جی مخاطب ہوئے۔میں آپ کے آنے کا سبب جان گیا ہوں۔واقعی آپ مصیبت میں ہواور مسئلہ گھمبیر سا ہے۔ساتھ ہی چلنا ہوگا۔۔۔ایسا کرو۔۔۔اِدھر رُکو ۔۔۔لنگر کھاؤ۔۔۔مغرب کی نماز کے بعد چلیں گے۔۔۔جنات مغرب کو جاگتے ہیں ۔اُن سے پوچھ لیں گے کہ کیوں انسانی مخلوق کو تنگ کرنے آئے ہیں۔میں باباجی کی باتوں سے حیران ہو رہا تھا۔بغیر کچھ بتائے باباجی جان چکے تھے اور یہ بھی سچ ہے کہ جب انسانی مخلوق محو خواب ہونے جا رہی ہوتی ہے تب خبیث مخلوق جا گ رہی ہوتی ہے۔۔۔جنات کے بھی کئی فرقے ہیں۔امن پسند بھی ہیں اور انتہائی کمینے بھی۔۔۔جنات کی عمریں انسانوں کی عمروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ابھی تک صحابی جن زندہ بھی ہیں۔۔۔مزے کی بات یہ کہ ان میں ہڈی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔۔یہ سب انکشاف بابا جی نے کئے تھے اور ہم حیران تھے۔مغرب تک ہم وہیں رہے اور نماز ادا کرنے کے بعد باباجی کو گھر لے آئے۔جب انسان مصیبت میں گِرتا ہے تو رب یاد آتاہے اور عبادتیں بھی ہونے لگتی ہیں۔میں پہلے نماز سے جی چراتا تھا اور اب باقاعدگی سے پڑھنے لگا تھا۔۔۔بابا جی نے حویلی کے اندر قدم رکھے تو مجھے ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آنے لگا۔جیسے میری حویلی کو کسی نے آگ لگا دی ہو۔۔۔پھر دھواں کے مرغولے چند لمحوں میں ختم بھی ہو گئے۔۔۔ ۔باباجی !حویلی کے اندر قدم رکھتے ہی اونچی اونچی آواز میں پڑھنے لگے۔۔۔قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہی بیری کی طرف چل پڑے۔بابا جی بیری کے درخت کے پاس پہنچے ہی تھے کہ کمرے کا دروازہ کھڑک سے کھلا اور اسرار ننگے پاؤں دوڑی چلی آئی۔۔۔اُس کی چال میں بے چینی تھی اور آنکھیں شعلے اُگل رہی تھیں۔کیوں بچی کوقید کئے ہوئے ہو۔؟کیا چاہتے ہو۔؟بابا نے اسرار کو مخاطب کیا۔
مجھے اِس سے پیار ہے ۔۔عشق کرتا ہوں اِس سے۔۔۔۔اسرار مردانہ آواز میں بات کر رہی تھی اور ہم قریب کھڑے حیرت کدہ تھے۔
تمھیں یہ زیب نہیں دیتا کہ انسانوں میں آکر اُن کو تنگ کرو۔۔حد سے بڑھنا عذاب کی طرف اشارہ ہے اور تم خدا تعالیٰ کے حکم کی عدولی کر رہے ہو۔۔۔آخر تمھارے بھی بچے ہیں ۔۔۔کسی کی اولاد کو کیوں تنگ کرکے اپنی اولاد کے لئے عذاب خرید رہے ہو۔۔۔باباجی۔۔۔میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔۔۔ورنہ۔۔۔۔ورنہ کیا؟جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔۔۔۔چلو آزما لو۔۔۔۔جو جیتا وہی سلطان۔۔بابا جی قرآنی آیات پڑھنی شروع کر دی۔۔۔۔اسرار تڑپنے لگی۔۔۔۔۔۔مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔مجھے چھوڑ دو۔۔۔میں تمھیں مالا مال کر دوں گا۔۔۔رشوت تم بھی سیکھ گئے ہو۔۔۔بابا جی نے جن کے جواب میں کہا۔۔۔ایک شرط ہے ،میں تمھیں چھوڑ دوں گا۔۔۔کیسی شرط؟تم اِس لڑکی سے پیار کرتے ہو تو اِس کے سامنے آکر اظہار محبت کرو۔۔۔اگر اِس لڑکی نے تیری محبت کو مان لیا تو میں تمھارے راستے سےہٹ جاؤں گا۔۔۔نہیں !تم جانتے ہو کہ میں اصلی رُوپ میں نہیں آسکتا ۔اِس شرط کے علاوہ دُنیا کی جو شرط کہومنظور ہے۔مگر اسرار میری ہے۔۔۔۔میں اِسے حاصل کرکے رہوں گا۔۔۔۔تم نے غلط راستہ اختیار کیا ہے۔۔۔تم سزا کے حقدار ہو۔۔۔۔میں پھر بھی رعایت دے رہا ہوں ۔۔۔اگر اسرارتمھاری ہے تو اِ س کا اقرار’’اسرار‘‘خود کرے گی اگر شرط منظور ہے تو اصلی رُوپ میں آنا ہوگا۔۔۔ورنہ۔۔۔۔۔۔اِسے آزاد کر دو۔۔۔۔بابا جی نے جن سے کہا۔نہیں !میں اصلی رُو پ میں نہیں آسکتا۔۔۔اگر اسرار کے سامنے آکر اظہار محبت کرنا ہے تو کسی اور کے رُوپ میں آسکتا ہوں۔۔۔ہونہہ۔۔۔باباجی۔۔۔نے سوچنے کے انداز میں کہا۔۔نہیں مانو گے۔۔۔اچھا ۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔اگر تم سچے ہوئے تو کامیاب ہو گے۔۔۔تم جس کے روپ میں بھی آؤ۔۔۔اسرار کے وجود سے نکل کے اُس کے روبرو آنا ہو گا۔۔۔۔مجھے شرط منظور ہے۔۔۔لیکن تھوڑی مہلت دو۔۔۔۔۔ہاں مہلت ہے۔۔۔۔رات بارہ بجے تک تمھارے پاس وقت ہے۔۔۔اسرار میں تبدیلی ہونے لگی اور پھر نیم بے ہوشی کی کیفیت میں میرے سینے سے آلگی۔۔۔۔۔اپنی بیٹی کو اذیت میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔میری بیٹی۔۔۔میں نے اسرار کو سینے سے لگاتے ہو،سر پہ ہاتھ پھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔بابا جی عشاء کی نماز کے لئے وضو کرنے لگے اور کالو دودھ لینے باڑے چلا گیا۔۔۔۔رات دھیرے دھیرے سرِک رہی تھی ۔۔۔۔لمحہ لمحہ جن سے کیا وعدہ قریب آرہا تھا اورمیری تو جان ہی نکل رہی تھی۔پھر مقررہ گھڑیا ں آن پہنچی۔۔۔بارہ بجے اسرار کے ساتھ ہم بھی کمرے میں جمع ہو گئے۔۔۔۔لیکن بابا جی نے اسرار کو الگ کمرے میں بھیج دیا اور ہم باباجی کے ساتھ دوسرے کمرے میں بیٹھے انتظار کرنے لگے۔تھوڑی دیر میں عجیب سی بُو محسوس ہوئی ۔بابا جی نے ہمیں کہا کہ وہ آچکا ہے ۔خبیث جن اُس لڑکے کے رُوپ میں اسرار کے سامنے آن کھڑا ہوا اور گلاب کے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔’’اسرار!‘‘اب تو ہاں کر دو۔کب سے تمھارے پیارمیں تڑپ رہا ہوں۔مجھے اور نہ تڑپاؤ۔۔۔تمھارے لئے گلاب لے کر آیا ہوں ۔۔۔محبت کے اظہار کے لئے گلاب ہی سب سے قیمتی تحفہ ہے۔تم نے گلابوں کا گلدستہ لے لیا تو میں سمجھوں گا کہ تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو۔۔۔اسرار نے ہاتھ آگے بڑھانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اُسی لمحے اُس کے دماغ میں بات آئی کہ میں کسی سے پیار نہیں کر سکتی۔۔۔میں اپنے باپ کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔جس نے ہمیں ہر قسم کی آزادی دی اور میں اُن کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتی۔۔۔ ۔جاری ہے۔


زوردار چیخ بلند ہوئی اور اسرار فرش پہ گِرتے ہی بے ہو ش ہو گئی۔۔جِن شرط ہار چکا تھا اور پھولوں کا گلدستہ فرش پہ پڑا خوشبو پھیلا رہا تھا۔۔اسرار کے بے ہوش ہوتے ہیں کمرے سے دھواں ہی دھواں ہو گیا اور اِس کے مرغولے کمرے سے باہر نکل کر آسمان کی طرف جا رہے تھے۔۔۔ایسے لگتا تھا جیسے گھر میں آگ لگ گئی ہو اور ایسا دھواں میری آنکھیں پہلی بار دیکھ رہی تھیں۔ایسا چند منٹ ہی ہوا اور پھر دھواں ختم ہو گیا اور مرغولے بھی کہیں گم ہو گئے۔۔۔اچانک کمرے کا دروازہ کھل گیا ۔۔جیسے روحانی طاقت نے دروازہ کھولا ہو۔۔۔کیونکہ جب ہم کمرے میں گئے تو اسرار بے ہوش پڑی تھی اور دوسرا کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا جو دروازہ کھولتا۔۔۔۔دروازے کا کھل جان راز ہی تھا۔۔۔باباجی نے اسرار پہ پانی چھڑکا جو وہ دوسرے کمرے میں بیٹھے قرآن پاک کی سورتیں پڑھ پڑھ کر دم کرتے رہے تھے۔پانی چھڑکنا تھا کہ اسرار فٹبال کی طرح زمین سے اوپر کی طرف اُچھلی۔۔۔بڑے ڈھیٹ ہو ۔۔۔ہار نہیں مانی ۔۔۔۔تیرا علاج کرنا ہی پڑے گا۔۔۔بابا جی نے اسرار کی آنکھوں کے پپوٹے کھولتے ہوئے کہا۔۔۔ابھی تیرا علاج کرتا ہوں۔۔۔پھر بابا جی ،کچھ پڑھتے پڑھتے رُک گئے ۔یہ ہوئی نا بات۔اسرار نے آنکھوں کو جنبش دی تو بابا جی بول اُٹھے۔۔۔آخر تم نے ہار مان ہی لی۔۔۔۔مجھے پتا تھا تم ہار جاؤگے کیونکہ تم سرکش تھے۔۔۔رب کا کلام سچا ہے۔۔۔اب جا ہی رہے ہو تو اپنی کوئی نشانی ہی دیتے جاؤ۔۔۔بابا جی بظاہر اسرار سے مخاطب تھے لیکن وہ تو جن سے محو گفتگو تھے۔۔۔ہم اسرار کے پاس کمرے میں تھے کہ باہر زوردار دھماکہ سا ہوا ،جیسے طوفان آیا ہوا اور اِس تیز طوفان میں درخت جڑوں سے اکھڑ کر زمین پہ آگِرے ہوں۔۔۔ہم باہر نکلے تو صحن میں لگا بیری کا درخت گِرا پڑا تھا اور اُس کی جڑیں زمین کی تہہ کو چھوڑ چکی تھیں۔۔۔لو خوشی محمد۔۔۔سب خیر ہو گئی۔۔۔اب وہ کبھی نہیں آئے گا ۔صبح غریبوں میں خیرات بانٹ دینا۔۔۔اسرار بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔اور ہاں شام کے وقت بچوں کو درختوں کے نیچے نہ جانے دیا کرو۔۔خاص طورپر بیری کے درخت کے نیچے۔۔جنات بیری پر خوشی سے بسیرا کرتے ہیں۔۔۔یہ جن بچپن سے اسرار کا عاشق تھا ۔۔۔شاید تمھیں یاد ہو جب مغرب کے وقت اسرار کھلے بالوں کے ساتھ اٹکھلیاں کرتی ،بیری کے ساتھ بندھے جھولے پہ جُھولے لینے آئی تھی اور تم صحن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔اُسی وقت جن کی نظر اِس پہ پڑی اوروہ عاشق ہو گیا ۔حالانکہ وہ شادی شدہ تھا اور اُس کے بچے بھی تھے۔۔۔میں نے اُس کے بچوں کو دیکھتے ہوئے اُسے زندہ چھوڑ دیا ہے ۔اُس نے بھی وعدہ کیا ہے کہ اب کبھی بھی اسرار کو تنگ نہیں کرے گا۔اپنے بچوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے یہ دُنیا چھوڑ گیا ہے۔۔۔اِس کے ساتھ ہی بابا جی نے اجازت چاہی اور جانے لگے۔۔میں نے بابا جی کا شکریہ اداکیا اور نذرانے کے طور پر کچھ رقم ان کو تھمانی چاہی ۔۔۔لیکن بابا جی نے رقم لینے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔خوشی محمد۔۔۔۔میں نے رب کی رضا کے لئے کام کیا ہے۔۔۔یہ رقم غربیوں میں بانٹ دو۔۔۔۔۔جو اپنے آقا کی رضا کے لئے کام کرتا ہے اُسے کسی چیزکی حاجت نہیں رہتی۔۔۔۔۔بابا جی چلے گئے اوراب اس واقعے کا کئی سال بیت گئے ہیں۔۔۔ اسرار اور نمرہ کی شادی ہو چکی ہے اور اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں ۔۔۔اگلے ماہ صباء کی بھی شادی کر رہا ہوں ۔۔میں نے اپنے رب کی رضا کے لئے کام کرنا کا عہد اُسی دن ہی کر لیا تھا اور ثابت قدم ہوں اور رہوں گا۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں