عورت اور اُس کے روپ

عورت اپنے فہم بالکل سادہ اور مزاج میں رنگین ہے، آپ اسے رنگ مہیا کرتے رہیں جسے وہ اپنی زندگی میں بھرتی رہے آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئیگی، مسئلہ صرف اس وقت پیش آتاہے جب آپ اسکی رنگینی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جہاں سے میں نے دیکھا ہے، عورت اپنی مختلف حیثیتوں میں کچھ اسطرح دکھتی ہے۔عورت سے معشوقہ کی حیثیت سے واسطہ پڑے تو بہت سی گفتگو اور بہت سی آؤٹنگ اسکی کل ڈیمانڈ ہوتی ہے۔عورت سے بیوی کی حیثیت سے واسطہ پڑے تو محض کھانے کی تعریف پر قابو آجاتی ہے مگر اسکے فوراََ بعد کوئی ایک مطالبہ ضرور کرتی ہے، اسکے لئے تیار رہیں۔عورت سے بہو کی حیثیت سے واسطہ پڑے تو وہ گھر کا کنٹرول چاہتی ہے تاکہ گلدانوں سے لیکر برتنوں تک اور کچن سے لے کر ڈرائینگ روم تک ہر چیز اپنی مرضی سے سیٹ کرسکے، رنگ بھرنا، سیٹنگز بدلنا اسکا سب سے بڑا شوق ہے، اگر آپ اسے گھر کا کنٹرول دیدیں تو ٹھیک ورنہ وہ آپکے بیٹے کا کنٹرول حاصل کرکے صوبائی خود مختاری کا علم بلند کر دیتی ہے، سو اسے اپنے گھر کی سیٹنگز بدل لینے دیں ورنہ وہ آپکے لاڈلے کو بدل کر رکھدیگی۔عورت بطور بیٹی آپ کا لاڈ اور تھوڑا سا اضافی جیب خرچ چاہتی ہے، بدلے میں وہ عین اس وقت آپکے سرھانے کھڑی ملتی ہے ۔جاری ہے ۔

جب آپ کے لاڈلے آپ کے قریب بھی نہیں آتے، آپکا سردرد تک اسکا چین و سکون چھین لیتا ہے ۔عورت سے ماں کی حیثیت سے واسطہ سب سے انمول واسطہ ہے، وہ کتنی ہی ناراض کیوں نہ ہو، اسکے بیٹھنے کا انتظار کریں، جب وہ بیٹھ جائے تو جاکر اسکے قدموں میں بیٹھ جائیں اور اپنا سر اسکے گھٹنوں پر رکھدیں، زبان سے ایک لفظ نہ بولیں، تیس سے چالیس سیکنڈز کے میں اسکا ہاتھ آپکے سر پر آجائیگا، سر پر ہاتھ رکھنے کے بعد وہ آپکی کچھ تازہ اور کچھ خاصی پرانی فائلیں کھول دیگی، تب وہ جو بھی کہے آپ کا جواب ایک ہی ہونا چاہئے “جی امی ! آپ درست کہہ رہی ہیں، میری ان برائیوں کا تقاضا یہ ہے کہ میرے لئے دعاؤں میں اضافہ کردیں تاکہ میں ویسا ہو سکوں جیسا آپ کو مطلوب ہوں” یاد رکھئے ماں جب کھڑی ہو تو اسے راضی کرنے کی کوشش مت کیجئے، وہ کھڑی حالت میں مشکل سے راضی ہوتی ہے، الٹا آپکو ایک کمرے سے دوسرے کمرے کا طواف کراتی رہتی ہے،۔جاری ہے ۔

جب وہ بیٹھ جائے تو پھر ٹائم ضائع مت کیجئے، ایک منٹ میں قصہ ختم ہوجاتا ہے۔الحمدّللہ ! مجھے فخر ہے کہ میں عورت ذات کے متعلق کسی بھی قسم کے تحقیر آمیز نظریات نہیں رکھتا۔  اُس نے مجھے زندگی دی ہے اور میں اُس سے زندہ رہنے کا حق نہیں چھین سکتا۔ وہ میرا لباس ہے لہذٰا میں اُسے ننگِ انسانیت ہونے کا طعنہ نہیں دے سکتا ۔ اُس نے میری نجاستیں دھو کر مجھے پاک صاف رکھا لہذٰا میں اُسے نجس مخلوق قرار نہیں دے سکتا۔ اُس نے مجھے انگلی پکڑ کر زمین پر چلنے کا طریقہ سکھایا ، لہذٰا میں اُس کے پاؤں سے زمین نہیں کھینچ سکتا۔ اُس نے میری تربیت کرکے مجھے انسان بنایا لہذٰا میں اُسے ناقص العقل نہیں کہہ سکتا۔ اُس کا ودیعت کردہ خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے ، لہذٰا میں اُسے شیطان کا دروازہ یا لغزش کا محل نہیں کہہ سکتا۔ اُس نے مجھے گھر کی پُر آسائش و پُرسکون زندگی عطا کی ہے ، لہذٰامیں اُسے فتنہ و فساد کی جڑ قرار نہیں دے سکتا۔ اُس نے مجھے کامل بنایا لہذٰا میں اُسے ناقص نہیں کہہ سکتا.اُس نے مجھے انسان بنایا ، لہذٰا میں اُسے آدھا انسان قرار نہیں دے سکتا اُس نے اپنی زندگی کی ہر سانس کے ساتھ مجھے اپنی دعاؤں سے نوازا ہے ، لہذٰا میں اُسے حقارت آمیز گالیاں نہیں دے سکتا۔اگر میں ایسا کروں تو میری اپنی ہی ذات کی تحقیر تذلیل اور نفی ہوتی ہے۔”

کیٹاگری میں : Viral

اپنا تبصرہ بھیجیں